Sunday, 7 August 2016

لاء سوسائٹی پاکستان کی ممبر شپ کا اعلان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفی الدین اعوان

لاء سوسائٹی پاکستان اپنی  تنظیمی ممبرشپ کا اعلان کرتی ہے
اپنی جدوجہد کے تین سال مکمل ہونے کے بعد لاء سوسائٹی پاکستان اپنی  ممبر شپ کا اعلان کرتی ہے یہ ممبرشپ پورے پاکستان میں ہوگی لاء سوسائٹی پاکستان کے قیام کا  بنیادی مقصد  عدالتی اصلاحات  تھا  عدلیہ میں سب سے پہلے بے خوف ہوکر کرپشن  اور نااہلی  کے خلاف لاء  سوسائٹی  نے آواز اٹھائی اور بدعنوان عناصر کے خلاف ٹھوس شواہد عدلیہ کو فراہم کیئے جس کے نتیجے میں  صوبہ سندھ سے تیس کے قریب بدعنوان ججز کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا
ججز کی نااہلی کا معاملہ سب سے پہلے لاء سوسائٹی پاکستان نے اٹھایا اور صوبہ سندھ میں  ان ججز کی نشاندہی لاء سوسائٹی پاکستان  نے کی جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز کے امتحانات میں شریک ہوکر فیل ہوگئے تھے اور بعد ازاں  ان نااہلوں کو غیرقانونی طورپر پروموشن دے دی گئی ہے   اور اس وقت سو سے زائد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ایسے موجود ہیں جو کسی بھی طرح اس سیٹ  پر بیٹھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللہ اس معاملے کو جلد آئینی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا
لاہور ہایئکورٹ کے چیف جسٹس اسی راستے پر چل رہے ہیں جس کی نشاندہی لاء سوسائٹی پاکستان ہمیشہ سے کرتی چلی آرہی ہے  اور انشاء اللہ پنجاب سے ایک سوسے زائد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور جوڈیشل  مجسٹریٹ جو کرپشن میں ملوث ہیں بہت جلد وہ اس عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہونگے
لاء سوسائٹی پاکستان نے  عدلیہ  سے منسلک ہمیشہ سلگتے ہوئے مسائل پر کھل کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے  
موجودہ دور میں تھانہ کلچر ایک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے  اور تھانہ کلچر کا خاتمہ صرف آزاد اور خودمختار عدلیہ ہی کرسکتی ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسی عدلیہ موجود ہے جو  پولیس کی ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت ہے اس کی اہم وجوہات میں  نااہلی اور لیڈرشپ کا فقدان ہے  ایک عام پولیس کا سپاہی اور معمولی پولیس  افسر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کرتے رہتے ہیں  جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے  
ذہنی غلام عدلیہ  اور ذہنی ماتحت عدلیہ خاموش تماشائی بن کر یہ سارا تماشا دیکھتی رہتی ہے اور حکم عدولی میں  ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کبھی ایکشن نہیں لیئے جاتے
ہر سال پولیس لاکھوں افرد  کو پولیس گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کرتی ہے  جن کو ایک بے مقصد قسم کے کورٹ ٹرائل سے گزارنے کے بعد  نااہل ججز رہاکردیتے ہیں  لیکن پولیس اور عدلیہ کے درمیان ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی کے خفیہ معاہدے کے تحت عدلیہ کبھی بھی کسی پولیس افسر کے خلاف ایکشن نہیں لیتی   ہم اسی ذہنی ماتحتی اور ذہنی غلامی کا خاتمہ چاہتے ہیں
لاء سوسائٹی پاکستان  ایک ایسی عدلیہ چاہتی ہے  جو قانون شکن عناصر کو سزا دے اور اگر کسی بے گناہ انسان کے خلاف پولیس مقدمہ قائم کرتی ہے  اور ٹرائل کے دوران یہ بات ثابت ہوجاتی ہے تو عدلیہ ان پولیس افسران کے خلاف ایکشن لے ان کے خلاف مقدمات قائم کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موجودہ صورتحال میں ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ پولیس کا  خوف ججز کے دلوں میں موجود ہے  چیف جسٹس پاکستان بھی اپنی نااہل عدلیہ کی نااہلی  تسلیم کرچکے ہیں کہ  نوے فیصد ملزمان  پراسیکیوشن کی غلطی سے رہا ہوجاتے ہیں  جس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری عدلیہ نے ملزمان کو رہا کرتے وقت کسی پولیس افسر کے خلاف ایکشن نہیں لیا جس کی غفلت سے  ملزمان رہا ہوجاتے ہیں
اس کے باوجود قابل قدر ججز لاء سوسائٹی پاکستان سے منسلک ہیں جو نہ صرف پولیس افسران کے خلاف سخت قسم کے ایکشن لیتے ہیں بلکہ ان کو عدالت کی حکم عدولی پر جیل بھیجتے ہیں  اور بے گناہ افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے والے پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کاروائیاں کرتے ہیں  لیکن ایسے ججز کی تعداد کم ہے
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے لاء سوسائٹی پاکستان نے جسٹس صاحبان  سیشن ججز سینئر سول ججز  اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور مجسٹریٹ صاحبان کے ساتھ    انفرادی سیشن کیئے ہیں   جس کے نتیجے میں بے شمار مسائل ابھر کر سامنے آئے ہیں  
ہم آپ کو لاء سوسائٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں  اگر آپ کسی وکلاء گروپ سے منسلک ہیں تو آپ ہمدرد بن کر ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں  لیکن وہ لاء سوسائٹی کے  مشاورتی  اور تنظیمی سیٹ اپ میں شامل نہیں ہوسکتے  اسی طرح دوسرے گروپس میں شامل تمام ممبران کی ممبر شپ   کا  درجہ تبدیل کرکے ان کو ہمدرد کا درجہ  دے دیا گیا ہے اور اب  ان کو کسی بھی  تنظیمی فیصلے، مشاورت   اور اجلاس میں شامل نہیں کیا جائے گا
نئے تنظیمی سیٹ اپ کا اعلان  15ستمبر 2016کو کیا جائے گا
سول سوسائٹی  اور عام شہری بھی لاء سوسائٹی میں شامل ہوسکتے ہیں   اس کیلئے ممبر شپ فارم  چودہ اگست سے دستیاب ہوگا
اس کے ساتھ ہی ہم عدلیہ سے  پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی  کے خاتمے کی ملک گیر مہم کا اعلان کرتے ہیں
یہ مہم چودہ اگست   2016سے شروع ہوگی
ہمارے مطالبات بالکل واضح ہیں کہ
  عدلیہ کے احکامات کی حکم عدولی کرنے والے افسران کو جیل بھیج کر ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی کے خاتمے کا اعلان اور عملی ثبوت  فراہم کیا جائے   
ڈسپوزل پالیسی کا اطلاق کریمینل کیسز سے ختم کیا جائے  کیونکہ ڈسپوزل پالیسی ملکی سالمیت کیلئے خطرہ بن چکی ہے

 ججز کی پروموشن کو قانون شکن عناصر کو  سزا  دینے اور بے گناہ افراد کے خلاف  جھوٹے مقدمات بنانے والے پولیس  افسران   اور ان  مقدمات  کو  قابل  سماعت  قرار دیکر  انتظامی  حکم نامہ  جاری  کرنے والے  جوڈیشل  مجسٹریٹ کے خلاف  مقدمات  اور محکمہ جاتی  کاروائی  کرنے سے مشروط کیا جائے

چیف جسٹس  پاکستان کے اعتراف کے مطابق ہر سال  نوے فیصد مقدمات پراسیکیوشن کی غفلت اور غلطی کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ  ایسی صورتحال میں  عدلیہ  پولیس افسران کے خلاف مقدمات قائم کرکے عملی طور پر پولیس کی  ذہنی غلامی کی زنجیر کوتوڑنے کا اعلان کرے

پاکستان میں جاری عدالتی اصلاحات کے سفر میں آپ کا ہم سفر


صفی الدین اعوان
99 فرید چیمبر 8 فلور  عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی 
03343093302


Post a Comment