Sunday, 9 March 2014

لاء سوسائٹی پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اک عزم اک تحریک

ایک سال گزر گیا اور گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا
ایک سال پہلے جب لاء سوسائٹی کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو ایک میں اکیلا تھا۔سات سال پہلے فورم کی بنیاد رکھنے کے بعد ہم اس کو بلندیوں تک لے گئے تھے "زیرو "سے شروع ہونے والا سفر وہاں ختم ہوا جہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ مختصر یہ کہ طویل اختلافات کے بعد جب دوستوں میں احترام کا رشتہ ختم ہوگیا تو میں نے استعفٰی دے دیا تھا   فورم سےجس کی بنیاد کو "زیرو" سے اٹھایا تھا۔اور جس پر بھرپور وسائل  وقف کیئے تھے

میرے سامنے یہ سوچ تھی کہ  میں دوبارہ شروع کرسکتا ہوں جب میں  فورم کو زیرو سے اوپر لے جاسکتا تھا تو  لاء سوسائٹی کو عروج پر کیوں نہیں لاسکتا تھا ۔ یہ میرا اور میرے دوستوں کی صلاحیتوں کا امتحان تھا
اگرچہ میرے دوست  میرے استعفٰی دینے کے فیصلے سے متفق نہیں تھے  لیکن میرے ذہن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مبارک قول تھا کہ  اگر پوری دنیا بھی مخالف ہوجائے اور صرف ایک مخلص دوست آپ کے ساتھ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ہمارا اصل اثاثہ چند  مخلص  ترین دوست ہی تو ہیں ۔مخلص دوستوں نے ساتھ نبھایا ان کا شکریہ
لاء سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔سفر کا آغاز شروع ہوا۔ محترمہ جمیلہ اسلم۔محترم کبیر احمد صدیقی۔ محترم امرت شردھا میشوری۔شعیب صفدر گھمن ،ڈاکٹر وقاص ،ہمایوں علوی  ،ملک شاہد ،ملک سلیم اور جاوید حلیم اس نئے سفر میں شامل ہوئے اپنے بھرپور اخلاص کے ساتھ جس کے بعد ایڈوکیٹ رستم،طاہرہ شاہ   ،خرم ایڈوکیٹ ،محترم وسیم سومرو،محترمہ ثناء ایڈوکیٹ ،محترم ارشد بھٹی ایڈوکیٹ، اور  انتخاب   عالم ایڈوکیٹ سمیت بے شمار دوستوں کی شمولیت سے ہمارا قافلہ مضبوط ہوا۔بعد ازاں محترم شفیق احمد ایڈوکیٹ جو میرے سینئر بھی ہیں لاء سوسائٹی میں شامل ہوئے
محترم سالم سلام انصاری ،ساتھی ایم اسحاق ، محترم خالد ممتاز،چوہدری ایمان ایڈوکیٹ مبشر بھٹہ  اور فرحان خالق انور صاحب ہمارے اولین معان پنجاب سے ملک سلیم اقبال اعوان ہمارے مضبوط معاون ہیں 
   اور بعض صنعتکار ہمارے معاونین کی لسٹ میں شامل ہوئے
اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ججز  کے گروپ جو کہ عدالتی نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ صرف عدالتی فیصلہ جات کی بجائے شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے وہ بھی ہماری جانب متوجہ ہوئے  جس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ ہمارے عدالتی نظام کے اندر ایک ایسی تحریک موجود ہے جو تبدیلی  کی خواہش رکھتی ہے۔یہی تحریک ایسی ہے جو نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایک مکمل تحریک ہے اس میں بہت بڑی تعداد میں مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن ججز شامل ہیں   لیکن یہ تحریک قانونی طور پر کھل کر کام نہیں کرسکتی۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ عدلیہ  کے اندر سے ہی اٹھنے والی آواز کو دبانا ناممکن ہوگا

سال گزشتہ کے دوران سوشل میڈیا کے زریعے یہ بات بھی سامنے آتی رہی کہ پنجاب میں نوجوان وکلاء نے ینگ لائرز فورم کو پورے پنجاب میں متحرک کردیا ہے کراچی بار ایسوسی ایشن میں محترم  بیرسٹرصلاح الدین احمد نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا اور نوجوان وکلاء کو تبدیلی کے عمل کے لیئے آمادہ کیا ۔ اس وقت کراچی بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے اور وہ نعرہ ہے تبدیلی کا ۔اللہ کا شکر  اور احسان ہے کہ عدالتی نظام میں تبدیلی کا جو نعرہ میرے دوستوں نے یکم جون 2007 کو بلند کیا تھا وہ آج ہر ایک کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے اور اللہ کا یہ بھی شکر ہے کہ ایک کے سوا تمام دوست بھی ساتھ ہیں اور شانہ بشانہ ہیں  اپنی جدوجہد کے ساتھ اپنے وسائل کے ساتھ اپنی بے لوث محبت کے ساتھ
خوش قسمتی سے وکلاء نے  تبدیلی کی اس تحریک کو خوش آمدید کہاہے
نوجوان وکلاء کے بہت سے گروپ کراچی بار ایسوسی ایشن میں  فعال ہیں جو تبدیلی  اور عدالتی اصلاحات کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں ان میں سے ایک گروپ جو  بہت زیادہ  فعال ہے     "یوتھ لائرز فورم "جس میں میرے دوست امرت شردھا میشوری  اور وسیم سومرو شامل ہیں اس گروپ
میں شامل محترم ممتاز شاہ صاحب 

سے میری ملاقات رہی ہے مجھے محسوس ہوا کہ اس سال  نوجوان وکلاء کا گروپ تبدیلی کے عمل کے لیئے اپنا اہم رول  ادا کرے گا کیونکہ 2014 تبدیلی کا سال ہے ۔ محترم ممتاز شاہ صاحب اور ان کے دوست امید کی کرن ہیں
اس سال سندھ بار کے الیکشن ہونے ہیں  اور یہ الیکشن ہر لحاظ سے تاریخی ہونگے کیونکہ نوجوان وکلاء کی بہت بڑی تعداد اب پرانے چہروں سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو  آج پانچ سال بعد شیریں جناح کالونی والا پلاٹ یاد آنا شروع ہوگیا ہے جس پر پچھلے الیکشن میں شاندار اسپتال بنانے کے اعلان کیئے گئے تھے۔ اچانک یاد آیا کہ  پانچ سال پہلے اندرون سندھ اور بیرون شہر سے آنے والے وکلاء کیلئے  ایک ہاسٹل بھی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور بھی بہت سے وعدے تھے  جو کہ اب  شاید منتخب نمائیندوں کو خود بھی یاد نہیں ہونگے۔بہت سے سندھ بار کونسل کے ممبران کی آنکھ اب پورے پانچ سال بعد خواب خرگوش کے مزے لینے کے بعد اچانک ہی کھل گئی ہے اور وہ اخلاق کا اعلٰی نمونہ بن کر کراچی بار ایسوسی ایشن میں   ہفتے کے دن بطور مہمان اداکار موجود ہوتے ہیں
میری خواہش ہے کہ ہم اپنے پہلے یوم تاسیس پر ہونے والے ڈنر اور سیمینار میں  ان تمام وکلاء تحریکوں کے سربراہان اور متحرک نوجوان وکلاء کو مدعو کرکے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں  جو کہ اپنے اپنے فورم سے تبدیلی کی خواہش کے ساتھ کام کررہے ہیں اور اس موقع پر اگر ان تمام  دوستوں کی آپس میں ملاقات ہوجائے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔اگر سوشل میڈیا پر بھی ایک آن لائن گروپ بن جائے اور وہ گروپ تبدیلی کے عمل کی جدوجہد کرے،الیکشن اور سیاسی گروپنگ سے بالاتر ہوکر اگر یہ تمام دوست تبدیلی کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں تو مجموعی طور پر نظام میں بہتری آئیگی
لاء سوسائٹی کی ایک اہم کامیابی یہ بھی ہے کہ لاء کالجز کے طلبہ و طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد نے گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے
پہلے یوم تاسیس کے موقع پر ہم نے جس سیمینار کا اہتمام کیا ہے اس  کے موضوع نے بہت سے  دوستوں کو جذباتی کردیا ہے
موضوع ہے "شہری آزادی کے تحفظ کیلئے عدلیہ اور بارایسوسی ایشن کا کردار"
اس موقع پر عدلیہ  کی جانب سے سیمینار میں شرکت کی یقین دہانی کروائی گئی ہے جبکہ کراچی کی تین بارایسوسی ایشنز شرکت کریں گی
انشاء اللہ یہ ہر لحاظ سے ایک تاریخی سیمینار ہوگا
تبدیلی کی خواہش رکھنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ  ضرور شرکت کریں اور معاونین سے گزارش ہے کہ سیمینار کے شایان شان انعقاد کیلئے  مالی تعاون کریں
لاء سوسائٹی پاکستان ۔۔۔ایک عزم اور ایک ایسی تحریک ہے جو پورے خلوص کے ساتھ تبدیلی کے عزم کے ساتھ رواں دواں ہے


Post a Comment