Monday, 3 March 2014

بیرسٹر صلاح الدین احمد، خالد ممتاز صاحب اور کراچی بار کی منتخب ٹیم سے وابستہ توقعات


کراچی بار ایسوسی ایشن سے منسلک وکلاء کیلئے 2013 کا سال اس لیئے ہنگامہ خیز تھا کہ وکلا کو خوشخبری دی گئی تھی کہ منتخب کمیٹی کرپشن کا خاتمہ طاقت کے بل بوتے پر کرے گی اور اس سلسلے میں ہر "طریقہ" استعمال کیا جائے گا
بدقسمتی سے یہ طریقہ ناکام رہا  اور پہلے ہی مہینے گریبان سے پکڑ کر کرپشن ختم کرنے کی مہم ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ایک کنونشن میں سینکڑوں وکلاء کی موجودگی میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ ہم عدالتوں سے کرپشن اور بدمعاشی کا خاتمہ  کریں گے اور اس حوالے سے ہمیں اگر کسی کا گریبان بھی پکڑنا پڑا تو دریغ نہیں کیا جائے گا ۔جس پر مجمع نے بھرپور تالیاں بجائی تھیں
خیر پلاننگ کے بغیر شروع کی گئی مہم ناکام رہی اور توہین عدالت کے مقدمے کی وجہ سے باقی ماندہ سال  "ہن آرام ای" کی نظر ہوگیا
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گریبان پکڑنے،تشدد کرنے اور غیر پارلیمانی الفاظ  اور طریقہ کار استعمال کرنے سے مسائل حل ہونے کی بجائے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ  اس قسم کے مسائل کے حل کیلئے ایک منظم اور بھرپور پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے
جسٹس صبیح الدین سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو اللہ تعالٰی نے ایک حیرت انگیز صلاحیت سے نوازا تھا۔ وہ یہ کہ آپ کیس کی سماعت کے دوران آنکھیں بند کرلیتے تھے۔کورٹ میں موجود لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آپ سورہے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی وکیل غلطی کرتا یا کوئی وضاحت طلب بات ہوتی تو   وہ فوراً ٹوکتے  ان کے بہترین عدالتی فیصلے ہمارے لیئے مشعل راہ  ہیں یہاں میں نے قابل احترام جسٹس صاحب کا حوالہ اس لیئے دیا کہ اس عظیم ہستی کے صاحبزادے اس وقت کراچی بار کے صدر ہیں
گزشتہ سال کے  ناکام تجربے کے پیش نظر اس سال "وکلاء کراچی بار" نے تبدیلی کے نعرے کو ووٹ دیا اور تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے جسٹس صبیح الدین احمد کے صاحبزادے محترم صلاح الدین احمد ایک ناقابل شکست حریف کو شکست دینے میں کامیاب رہے بنیادی  طور پر یہ مقابلہ فرسودہ سوچ اور نئی سوچ کے درمیان تھا۔اور الیکشن کے دن بھی واضح ہوچکا تھا کہ سینئرز وکلاء ایک طرف اور ان ہی کے جونیئرز  دوسری طرف کھڑے تھے اس الیکشن میں محترم خالد ممتاز صاحب نے جنرل سیکرٹری کا الیکشن جیتا بنیادی طور پر خالد ممتاز صاحب  کی بھی کوشش رہتی ہے کہ عدلیہ کا احترام برقرار رہے   اور کمیٹی کو ساتھ لیکر چلیں جبکہ 2014 کی کمیٹی کی بھرپور خواہش یہ ہے کہ وہ 2014  میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لیکر  آئیں وکیل اگر سر جوڑ کر بیٹھ جائیں تو ان کے پاس پر مسئلے کا مکمل حل موجود ہوتا ہے
تاحال تبدیلی کے آثار نظر نہیں آئے۔پہلا تنازعہ بخیر و خوبی نبٹ گیا جو کہ سندھ آرمز ایکٹ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اب کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں تھوڑا مسئلہ ہے جو کہ جلد حل ہونے جارہا ہے
ٹاؤٹ ازم کے خاتمے کی کوشش مؤثر رہی  ہے لیکن فرسودہ نظام کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ نئی اصلاح قبول ہی نہیں کرتا کیونکہ نظام کا معدہ بوڑھا ہوچکا ہے  وہ کسی اچھی چیز کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔جس کی وجہ سے پرانے گھسے پٹے نظام کو فوراً ہی بد ہضمی ہوجاتی ہے اور لینے کے دینے پڑجاتے ہیں    آپ خود سوچیں کہ دم توڑتا  سسکتا اور گنتی کی ادھار مانگی ہوئی چند سانسیں لیتا فرسودہ نظام کس طرح  آخری عمر میں کوئی نئی بات قبول کرسکتا ہے اس لیئے ٹاؤٹ ازم جعلی وکلاء اور پیدا گیروں کے ہمدرد معمولی مسائل کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں بدقسمتی سے وکلاء اور ججز کے درمیان بھی اکثر تکلیف دہ قسم کے تنازعات موجود رہتے ہیں  شاید فرسٹریشن یا وقت پر کام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ہی تنازعات رہتے ہیں لیکن ایک اہم ترین وجہ یہی موجودہ فرسودہ نظام ہی ہے جس کی تبدیلی اور خاتمے کا وقت  اب قریب آچکا ہے
میرے خیال میں کراچی بار ایسوسی ایشن کو ہر ماہ سیشن ججز کی میٹنگ منعقد کرنی چاہیئے  جس میں (ایم آئی ٹی-1) کو بھی بلانا چاہیئے کیونکہ ماضی میں (ایم آئی ٹی) کے تجربہ شاندار رہا ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں  سے (ایم آئی ٹی) کا ادارہ بھی توقعات پر پورا نہیں اتررہا ۔لیکن ماہانہ میٹنگز کے نتیجے میں معمولی نوعیت کے تنازعات فوری حل ہوں گے اور (ایم آئی ٹی) کا کردار بھی فعال ہوگا۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مستقل نظر انداز کی ہوئی  ڈسٹرکٹ کورٹس سے کسی بھی قسم کے نتیجے کی توقع رکھنا موجودہ صورتحال میں ایک خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی قیادت یہ بات بھی یاد رکھے کہ کوئی بھی تنازعہ کیوں پیدا ہوتا ہے اہم اور واحد وجہ روایتی  "بدانتظامی" ہے جب لوگوں کے کام وقت پر نہیں ہونگے تو  نتیجے کے طور پر فرسٹریشن جنم لے گی
میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ اگر صرف کراچی کی عدلیہ کو ہی مکمل طور پر آن لائن کردیا جائے  اور پبلک ڈیلنگ ممکنہ حد تک کم کروا کر سارے روایتی قسم کے کام بھی آن لائن کروا دیئے جائیں تو لوگوں  کی بلاوجہ عدالت میں آمدورفت کم ہوجائےگی  ایک بھرپور ریسرچ کے بعد میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر عدالت میں حاضری کیلئے ملزم کے انگوٹھے کا نشان نادرا یا کسی بھی اور سسٹم سے آن لائن منسلک کردیا جائے تو عدلیہ میں ایک بہت بڑی کرپشن ختم ہوجائےگی کیونکہ اکثر کیسز میں ملزمان خود پیش ہی نہیں ہوتے اگرچہ شروع میں مشکلات درپیش ہونگی لیکن وقت کے ساتھ بہت سی باتیں معمول پر آجائیں گی
کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاہور ہایئکورٹ میں سرٹیفائڈ کاپی جیسے "عظیم" کام کو آن لائن کردیا گیا ہے آپ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کسی سے مذاق میں بھی پوچھ لیں وہ اکثر سرٹیفائیڈ کاپی کے چکر میں گھوم رہا ہوگا ایک عام وکیل یا اس کے منشی کا آدھے سے زیادہ دن سرٹیفائڈ کاپی کے حصول جیسے فضول کام میں گزرجاتا ہے اگر ڈسٹرکٹ کورٹس کو اجازت دی جائے اور خود مختاری دی جائے یا کراچی  بار کی طرح بہترین کوآرڈینیشن سیشن کورٹس کے ساتھ ہے اس کے نتیجے میں کراچی کی سیشن عدالتیں ایسی ایسی سہولیات عوام کو دے سکتی ہیں جس کے بعد کورٹ اذیت گا ہر گز نہیں رہے گی جب معلومات عام ہوجائیں گی تو  منشیوں کی بلاوجہ کی چکر بازی کا خاتمہ ہوگا
میں دعوے سے کہتا ہونکہ پاکستانی عوام کی اکثریت ہرگز قانون شکن نہیں ہے قانون شکنی کی ابتداء ہی کورٹ سے شروع ہوتی ہے جب سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے   تو کرپشن کے نت نئے راستے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں
کراچی بار ایسوسی ایشن ،سندھ ہایئکورٹ کی (ایم آئی ٹی ) برانچ  اور سیشن ججز مل کر ایک نئی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں
ایم آئی ٹی کے قیام کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے  امید ہے کراچی بار ایسوسی ایشن اپنی ترجیحات میں آن لائن عدلیہ کو اولین ترجیح دے گی
صرف نعرے لوگوں کو انصاف نہیں دے سکتے

بیرسٹر صلاح الدین احمد، خالد ممتاز صاحب اور کراچی بار کی منتخب ٹیم سے ہم سب کو بے شمار توقعات وابستہ ہیں
Post a Comment