Thursday, 13 March 2014

کنولج کی کمی بھی ایک نعمت ہے

کل  میں ایک عمر رسیدہ مجسٹریٹ صاحب کے سامنے ریمانڈ پیش ہوا۔چیک باؤنس  کا مقدمہ تھا۔ملزم گرفتار  تھا اور کورٹ کے سامنے پیش ہوا تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 دودن کا پولیس ریمانڈ دیا جائے کیونکہ مدعی مقدمہ اور ملزم صلح کرنا چاہتے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب نے اختلاف کیا اور ملزم کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کردیئے تفتیشی افسر نے بتایا کہ مدعی مقدمہ کورٹ میں موجود ہے وہ صلح کرنا چاہتا ہے مجسٹریٹ صاحب نے کہا کہ میرے پاس کمپرومائز کیسے ہوگا ابھی تو چالان بھی پیش نہیں ہوا۔میں کمپرومائز قبول نہیں کرسکتا کیونکہ نہ تو میرے پاس چالان ہے نہ چارج شیٹ  اسی دوران مدعی بھی پیش ہوگیا اس نے کہا ہمارا کمپرومائز ہوگیا ہے اب اس مقدمے کو ختم کیا جائے اور کورٹ سے گزارش ہے کہ ملزم کو رہا کیا جائے مجسٹریٹ صاحب نے کہاکہ جب میں نے مدعی کوبلایا ہی نہیں تو یہ آیا کیسے۔اصل میں تفتیشی افسر شاید اپنی طاقت  اور عدلیہ کی نااہلی ملزم اور مدعی کو دکھانا چاہتا تھا میں نے اجازت لیکر مداخلت کی کہ جناب والا گزارش یہ ہے کہ جب مدعی مقدمہ پیش ہوگیا اور آپ کے علم میں آچکا ہے کہ ان کا کمپرومائز ہوچکا ہے تو آپ رہا کردیں ملزم کو
عمر رسیدہ مجسٹریٹ صاحب مسکرائے وکیل صاحب قانون تو بہت آتا ہے آپ کو ذرا یہ بھی بتادیں کہ کس قانون کے تحت کس ضابطے کے تحت میں نے کہا کہ  کرنے کو تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہےجناب آپ جج ہیں اختیار رکھتے ہیں تفتیشی افسر جب اس مدعی کو ساتھ لیکر آیا ہے تو اس   کو اپنے سامنے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیں اور یہیں کمپرومائز قبول کرکے تفتیشی افسر کو رہا کرنے کا حکم دیں اور مدعی مقدمہ موجود ہے  اور تفتیشی افسر اس کو اپنے ساتھ لیکر آیا ہے تو اس کا 164 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان ریکارڈ کریں اور اس کے بعد ملزم کی ہتھکڑی کھول دیں
مجسٹریٹ صاحب نے کہا میں یہ غیرقانونی حرکت نہیں کرسکتا میں نے کہا کیوں؟ مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا کہ  آپ کے اندر "کنولج" کی شدید کمی ہے میں کس قانون کے تحت تفتیش میں مداخلت کروں گا اور اگر تفتیش کے دوران سیکشن تبدیل ہوگئی اور کسی ایسی سیکشن کا اضافہ ہوگیا جس میں  کمپرومائز نہیں ہوسکتا تو میری نوکری ہی چلی جائیگی
میں نے کہا سر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ تفتیش کے دوران ہی یہ "باؤنس شدہ چیک" بم بن جائے گا۔کیا یہ چیک خودکش جیکٹ بن جائے گی کیا یہ چیک کوئی نیٹو کا اسلحے والا کنٹینر بن جائے گا  یا رینٹل پاور کیس  اس چیک سے برآمد ہوجائے گامختصر یہ کہ صاب اڑی کرگیا لیکن اس بات پر راضی ہوگیا کہ جیل کی بجائے پولیس ریمانڈ دے دیتا  ہوں
میں نے کہا کہ سر ایک اور کام ہوسکتا ہے وہ یہ کہ ضمانت پر رہا کردیں وہ بھی  شخصی ضمانت پر صاب نے کہا کہ ہاں یہ ہوسکتا ہے لیکن آج نہیں کیونکہ  آج دیر ہوگئی اور سرکاری وکیل بھی موجود نہیں ہے کل نوٹس کروں گا اور اگر پولیس پیپر آگئے تو میں  ضمانت کی درخواست کی سماعت کے بعد ضمانت پر فیصلہ کروں گا میں نے کہا  اور اگر پولیس پیپر نہیں آئے تو۔۔۔۔۔ وکیل صاب اب آپ مجھے قانون نہ سکھائیں  اور نہ ہی کوئی ہدایت دیں سر یہ  ضمانت تو آپ کا صوابدیدی اختیار ہے لیکن صاحب پڑھا لکھا صاحب علم تھا اڑی کرگیا لیکن دو دن کے پولیس ریمانڈ پر راضی ہوگیا
مختصر یہ کہ پھر میں نے فارمولہ نمبر 420 استعمال کیا صاب سے اجازت لیکر چیمبر سے باہر نکلا
تفتیشی افسر سے کہا کتنے پیسے لے گا اس نے کہا پورے پچاس ہزار میں نے کہا کہ(  1000 ) دس ہزارلے لو اور ہتھکڑی یہیں کھول دو  دوسری صورت میں مجسٹریٹ شخصی ضمانت پر رہا کررہا ہے اگرچہ تفتیشی افسر خرانٹ تھا  لیکن وہ جھانسے میں آگیا اور پچاس کی بجائے صرف دس ہزار روپے لیکر رہا کردیا حالانکہ اس کی بات پچاس ہزار میں ہی ملزم کے ورثاء سے ہوئی تھی لیکن جب  پولیس والے نے دیکھا کہ کہیں مجسٹریٹ کوئی "غیرقانونی "کام نہ کردے  اور کنولج کی کمی کا شکار وکیل کی باتوں میں آکر ملزم کو رہا ہی نہ کردے تو اس نے  رشوت کے نرخ میں 80 فیصد کمی کردی
ساب نے 2 دن کا پولیس ریمانڈ دیا اور تفتیشی افسر نے دونمبر کام پوری ایمانداری سے سرانجام دیتے ہوئے ملزم کی ہتھکڑی کورٹ میں ہی  کھول دی  اور ملزم جئیے شاہ جبل میں شاہ  اور ماں کی دعا میں بچ گیا کہ نعرے لگاتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوگیااللہ کا احسان کہ پاکستان میں جائز کام رشوت سے ہوجاتے ہیں ورنہ ایماندار تو زندہ ہی نگل جاتے
اس واقعہ پر مزید تبصرہ نہیں
لیکن پاکستان کی عدالتوں میں آہستہ آہستہ ایسے  ججز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو "کنولج" کی کمی کا شکار ہیں لیکن  عوام کو ریلیف دے کر کورٹ میں ہی ہتھکڑی کھول کر رہا کردیتے ہیں ڈبل سواری جیسے "گھناؤنے جرم" میں  جیل یاترا کی بجائےشخصی ضمانت پر رہا کرتے ہیں اور پولیس کو تھانے سے ہی قابل ضمانت جرائم میں رہا کرنے کا حکم اور  کئی ججز ایسے بھی ہیں جن کے تھانے کی حدود میں  550 ضابطہ فوجداری کے تحت گاڑی بند نہیں کرتی
اور چند ایسے بھی ہیں جو اس قسم کے معاملات میں ضابطوں کی بجائے "کامن سینس" کا استعما ل کرتے ہیں
لیکن تعجب ہے کہ ان کو نوکری سے نہیں نکالا جاتا یااللہ ہم سب کو کنولج کی کمی کی نعمت عطا فرما
اگرچہ یہ ایک انفرادی واقعہ ہے  لیکن اس پر بحث کی ضرورت ہے

اس  پوری تحریر میں کئی قانونی اصطلاحات تھیں جن کو عام آدمی کی سہولت کیلئے سادہ الفاظ میں ڈھالا
Post a Comment