Saturday, 22 March 2014

سٹی کورٹ کا "گاما" بالآخر گرفتار ہوگیا


گزشتہ دنوں کراچی بار ایسوسی ایشن  کے ممبران منیجنگ کمیٹی نثار احمد شر اور عزیزاللہ قمر  نے  بار کی نمائیندگی کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کو گرفتار کروایا جو کہ عرصہ دراز سے بحیثیت جج کام  کررہا تھااس کے قبضے سے تمام ہی ججز کی جعلی مہریں برآمد ہوئیں جن کے زریعے وہ آرڈر جاری کرتا تھا اس شخص نام گاما ہے
اس کے پاس لائیسنس تو اسٹامپ وینڈر کا تھا لیکن اس کی آڑ میں  اس کے نیٹ ورک میں شامل لوگ عام لوگوں کے کیس  میں وکیل کی پوری فیس لیکر ان کو کورٹ کے جعلی آرڈر بنا کر دیتے تھے
خلع کی ڈگری ایک دن میں مل جاتی تھی۔۔ایس ایم اے سمیت اس قسم کے دیگر دیوانی نوعیت کے مقدمات جن کا فیصلہ ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں وہ شخص ایک دن میں بنا کردے دیتا تھا
ہرقسم کے حکم امتناعی منٹوں میں بن جاتے تھے اور پولیس والے ان احکامات کو تسلیم بھی کرتے تھے
کراچی بار کے  تمام وکلاء  کو چاہیئے کہ اس حوالے سے کراچی بار کے دست وبازو بن جائیں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں  کیونکہ اس قسم کے مافیاز نے وکالت کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے
گاما اکیلا نہیں تھا اس کے گروپ میں ایک سو  سے زیادہ لوگ شامل تھے اور اس کی گرفتاری کے بعد بہت بڑی تعداد میں اس کے حامی جمع ہوگئے تھے لیکن بار کی مداخلت کی وجہ سے وہ لوگ ناکام ہوگئے
کراچی بار ایسوسی ایشن اتنی بڑی طاقت ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا بار کے تمام عہدیداران کی مشترکہ ذمہ داری کے وہ اس قسم کے مقدمات میں مدعی بنیں اور ایسی جعل سازی کی نشاندہی کرنے والوں کو تعریفی اسناد بھی جاری کی جائیں
بدقسمتی سے اس شخص نے ایسے ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو لوٹا جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی  مشکوک شخص کو اپنا کیس نہ دیں اور نہ ہی جعل سازی یا رشوت  کے لین دین کی بات کریں ورنہ اس قسم کے جعل ساز گروپ خود ساختہ احکامات ٹائپ کرکے دے دیں گے

اس قسم کے مافیا سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں ہے اللہ کراچی بار کے منتخب ممبران کو استقامت عطا فرمائے
Post a Comment