Friday, 28 February 2014

عام آدمی اور انصاف

کراچی اسٹاک ایکسچینج پاکستان کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے یہاں پر ہرروز مختلف کمپنیوں کے حصص یعنی شیئرز کا لین دین ہوتا ہے  سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کروڑوں روپے کا کاروبار آج بھی زبانی بنیادوں پر ہوتا ہے
ایک زمانے میں شیئرز ایک سرٹیفیکیٹ کی صورت میں ہوتے تھے۔اسٹاک مارکیٹ کے بروکرز ایک ہال میں جمع ہوتے تھے جہاں پر شیئرز کا لین دین ہوتا تھا سرٹیفیکیٹس لہرا لہرا کر مختلف کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوتا تھا۔ وہ شیئرز کی لین دین کا فرسودہ نظام تھا۔بہت بڑی مارکیٹ ہونے کے باوجود حجم بہت کم تھا ۔مارکیٹ کے گیٹ پر "دلال" کھڑے ہوتے تھے جو مارکیٹ میں آنے والے عام شہریوں سے شیئرز اونے پونے داموں "ٹھگ" لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ اسٹاک مارکیٹ میں عام شہری رخ نہیں کرتا تھا  پھر حکومت نے اسٹاک مارکیٹ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا "اصولی" فیصلہ کیا لیکن بہت سے کنویں کے مینڈک اور مافیاز یہ سمجھتے تھے کہ تبدیلی ناممکن ہے ہم ہمیشہ اسی طرح اپنی اجارہ داری قائم رکھیں گے اسی طرح  ھال میں جمع ہو کر بروکرز مچھلی بازار کی طرح آوازیں لگا کر شیئرز کا لین دین کریں گے اور ایک مخصوص طبقہ اپنی اجارہ داری قائم رکھے گا۔ بے وقوف یہ سمجھتے تھے کہ تبدیلی ناممکن ہے اور تبدیلی کی بات کرنے والے ہی بے وقوف ہیں پھر پتہ چلا کہ سوفٹ ویئر بن رہا ہے کچھ عرصے بعد یہ خبر آئی کہ تمام ممبرز کو کمپیوٹرز فراہم کردیئے گئے ہیں پھر ایک اور خبر آئی کہ اسٹاف کو ٹریننگ دی جارہی ہے اس دوران یہی سمجھا جاتا رہا کہ یہ دیوانے کا خواب ہے اسٹاک مارکیٹ کبھی کمپیوٹرائزڈ ہو ہی نہیں سکتی پھر پوری مارکیٹ کو ایک سینٹرل نظام سے منسلک کردیا گیا۔بالآخر ایک دن یہ خبر بھی آگئی کہ کل سے لین دین ھال میں نہیں ہوگا بولی لگانے کیلئے آوازیں نہیں لگائی جائیں گی بلکہ لین دین بزریعہ کمپیوٹر آن لائن ہوگی ۔ فرسودہ نظام سے فائدہ حاصل کرنے والوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا مارکیٹ کریش ہوگئی۔ایک ہنگامہ آرائی تھی جو جاری تھی۔بہت سے ممبران کے آفسز میں کمپیوٹرز بھی "دلال " مافیا نے توڑ دیئے تھے  یہاں تک کہ فرنیچر تک کی توڑ پھوڑ ہوئی تھی  ناممکن ناممکن کی صدا بلند کی جاتی رہی ۔شیئرز کی لین دین میں فراڈ کرنے والے دلالوں نے پوری پوری مزاحمت کی لیکن بالآخر اس وقت کے نوجوان طبقے نے تبدیلی کی ضرورت کو محسوس کرلیا وہ وقت کی آواز کو سمجھ گئے اور بالآخر مارکیٹ کمپیوٹرائزڈ ہوگئی جس کے بعد وہ مارکیٹ جس کا کل روزانہ کا حجم ہزاروں میں تھا نئے نظام کے بعد لاکھوں اور پھر کروڑوں تک جا پہنچا مافیا اپنی موت آپ مرگئے اور نئے لوگوں نے ان کی جگہ لے لی آج کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ہرروز  کروڑوں شیئرز کا لین دین ہوتا ہے سرٹفیکیٹس ختم ہوگئے ہیں اور اربوں حصص  سی ڈی سی سسٹم کے تحت محفوظ ہیں آج  اسٹاک مارکیٹ کے کسی بھی گیٹ میں  دلال نہیں کھڑے ہوتے جو مارکیٹ میں نئے آنے والے شکار یعنی عام شہری کو ماضی میں لوٹ لیتے تھے  آج اسٹاک مارکیٹ کا ھال ویران ہوتا ہے اور وہاں ایک بہت بڑی کمپیوٹرائزڈ سکرین نصب ہے جس پر حصص کی لین دین کا احوال براہ راست آرہا ہوتا ہے
موجودہ عدالتی نظام بہت عمدہ ہوتا اگر آج 1934 ہوتا
1934 کے لحاظ سے یہ دنیا کا بہترین نظام ہے۔پولیس رولز دنیا کے بہترین پولیس رولز تھے لیکن 1934 میں  تھے۔ آپ پولیس رولز کی مضبوطی کا آج بھی اندازہ لگالیں کہ آج گئے گزرے دور میں بھی تھانہ مضبوط ہے۔یعنی تھانے کا روزنامچہ  اور ایف آئی آر رجسٹر آج بھی اتنا مضبوط ہے جتنا کہ ایک سوسال پہلے تھا ۔کیونکہ فرنگی  جو کام بھی کرتے تھے دل لگا کرکرتے تھے   لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اصلاحات کی ضرورت ہے
ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکالت کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کچھ ہے کم ازکم وکالت نہیں ہے  اور عدالت کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن  وہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتا
حکومت سندھ نے ترامیم کی ہیں کہ موجودہ نظام میں ہی رہ کر ملزمان کو سزا دی جائے اس کے لیئے پولیس کے اختیارات میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ موجودہ نظام صرف اور صرف ایک دھوکہ ہے یہ صلاحیت ہی نہیں رکھتا  کیونکہ 1934 کے زمانے میں سانس لینے والے نظام کیلئے ضروری ہے کہ قاتل گھوڑے پر سوار ہوکر آئے تلوار سے قتل کرے اور فرار ہوجائے لیکن 1934 میں بھی تو پولیس فنگر پرنٹ لیتی تھی۔انگلیوں کے نشان سے ملزم ڈھونڈ لیئے جاتے تھے۔ پلاسٹر آف پیرس ڈال کر ملزم کے پاؤں کے نشانات محفوظ کرلیئے جاتے تھے۔ مخبری کا نظام آج سے زیادہ مضبوط تھا۔پولیس کو خوف ہوتا تھا افسران کا اور عدلیہ کا۔جی ہاں مجسٹریٹ کا خوف
آج بھی کراچی کی عدالتوں میں چند مجسٹریٹ ایسے ہیں جن کی حدود میں پولیس 550 ضابطہ فوجداری کے تحت گاڑی نہیں پکڑتی اور اگر پکڑ بھی لے تو اس کو تھانے سے مل جاتی ہے ۔پولیس مجسٹریٹوں کے خوف سے ایسا کرتی ہے  لیکن ان کی تعداد گنتی میں ہے۔ لیکن یہ انفرادی کام ہیں ۔ ضرورت سسٹم کی ہے ۔ماضی میں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ 2005 میں کراچی کی ضلع شرقی کی عدالتوں کو ایک ماڈل منصوبے کے تحت آزمائیشی بنیادوں پر کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا تھا۔تمام کیسز کی ڈائری آن لائن تھی۔عدالتی فیصلے آن لائن تھے۔
لیکن اس ایک سال کے عرصے میں بھی کرپشن کا خاتمہ کردیا گیا تھا ۔لیکن اس زمانے میں تبدیلی کی تحریکیں مضبوط نہیں تھیں آج اگر عدلیہ کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا اگر اس کی مخالفت کی تو نوجوان طبقہ بھرپور مزاحمت کرے گا۔
تبدیلی  کی لہر واضح ہوچکی ہے۔پرانا فرسودہ نظام دم توڑ چکا ہے۔ ایک لاش باقی ہے دیکھتے ہیں اس سڑی ہوئی لاش کی حفاظت  کب تک کی جاتی ہے۔جی ہاں موجودہ نظام میں ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی شخص کو انصاف فراہم کیا جاسکے ۔
جس طرح اسٹاک مارکیٹ کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا تو بدعنوان عناصر نے ایک بار مارکیٹ کو کامیابی سے کریش کردیا تھا اسی طرح   جب "عام آدمی" کو انصاف دینے  کی کوشش آسان نہیں ہوگی یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا ہم اور آپ سمجھتے ہیں

مجھے بہت خوشی ہے کہ جب کل کراچی بار ایسوسی ایشن کی قیادت نے عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کی بات کی اگرچہ یہ بہت اچھی بات ہے لیکن آسان نہیں  کراچی بار ایسوسی ایشن کی قیادت سے ہمیں بے شمار توقعات وابستہ ہیں
Post a Comment