Saturday, 23 July 2016

اچھا جج اور اچھا وکیل کون ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




اچھا جج  اور اچھا وکیل کون ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


کل چند   افغانستان کے وکلاء کے ساتھ   ڈنر پر ملاقات ہوگئی تو دوران گپ شپ ایک افغانی   وکیل صاحب نے سوال کیا کہ آپ کی نظر میں جج کو کیسا ہونا چاہیئے یا اچھے جج سے کیا مراد ہے  کیونکہ افغانستان کی  نوزائیدہ  عدلیہ کو پریشانیوں کا سامنا ہے   
میں نے برجستہ جواب دیا کہ میری نظر میں ججز کی صرف دواقسام ہیں
جج کی   پہلی قسم وہ ہے جس میں جج صرف جج ہی ہوتا ہے
سادہ لوح وکیل  نے پھر پوچھا کہ اس قسم کے ججز کی پہچان کیا ہے؟
میں نے کہا کہ اگر جج کی سیٹ پر ایک جج  بیٹھا ہو تو سب سے پہلی پہچان تو یہ ہے کہ مجسٹریٹ کی عدالت میں اس کی حدود میں واقع تھانوں سے ایف آئی آر کی کاپی چوبیس گھنٹوں میں آجاتی ہے اگر تھانہ چوبیس گھنٹے کے بعد ایف آئی آر کی کاپی سپلائی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا  کہ وہ  اچھا جج  نہیں  ہے  یا زیادہ تربیت  یافتہ  نہیں ہے  
ایک   افغانی  وکیل نے  بکرے  کی پوری ران کو  اپنی  گرفت  میں لیتے ہوئے زور سے ہنکارا بھرا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  افغانستان کی عدالت میں تو  تھانے سے ایف آئی آر ایک مہینے کے بعد اور بعض اوقات تو کبھی آتی ہی نہیں ہے  
اور اگر ضابطہ فوجداری 550 کے تحت کسی گاڑی کو لاوارث قرار دے کر بند کردیا جائے اور کاغزات مکمل ہونے کے باوجود  کسی بھی قسم کے تنازعہ  نہ  ہونے کے  باوجود اگر تھانہ گاڑی ریلیز نہیں کرتا اور مجسٹریٹ کو رپورٹ منگوا کر گاڑی کورٹ کے حکم پر  ریلیز کرنا پڑتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تھانے کی نظر میں جج کی سیٹ پر بیٹھا ہوا شخص  اچھا جج نہیں ہے   اور وہ اس کا احترام نہیں کرتے
اب   وکلاء  ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے
اسی طرح اگر  ججز تھانے سے کسی بھی قسم کا جواب طلب کرتے ہیں کوئی رپورٹ منگواتے ہیں اور وہ  مقررہ تاریخ پر جواب نہیں دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تھانے  والوں کی نظر میں  جج کی  عزت نہیں ہے  وہ عدلیہ کا احترام نہیں کرتے  کیونکہ جج ایکشن لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا  
یہ بات سن  کر سب کے سب  وکلاء کے چہروں پر بیزاری ظاہر ہوگئی ایک نے کہا یہ تو ناممکن ہے اور گھسی پٹی تقریر کرنے کی کوشش کی کہ پولیس ظلم کرتی ہے کورٹ کا احترام نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ
میں نے کہا اس قسم کے واقعات میں ججز کو چاہیئے  کبھی کسی پولیس والے کو جیل بھیجو پھر تماشہ دیکھنا کہ سب کچھ کیسے وقت پر ہوتا ہے
میں نے اپنی بات جاری رکھی
پولیس فائل  تو سب ہی جانتے ہیں ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام  وکلاء نے کہا جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل جانتے ہیں   جس کی غیر موجودگی  میں ضمانت  کی درخواست  کی  سماعت  نہیں  ہوسکتی  ( دیکھو ہم سارا قنون  جانتے ہیں )وہ کبھی بھی وقت پر عدالت میں نہیں آتی
میں نے کہا بجا ارشاد فرمایا اگر عدالت میں دس ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوتی  ہے اور کسی ایک کیس میں بھی پولیس فائل نہیں آتی اور صرف اس وجہ سے ضمانت کی درخواست کی سماعت  نہیں ہوتی  تو اس کا  واضح مطلب یہ ہے کہ آپ کا جج  پولیس کی نظر میں جج نہیں ہیں  بلکہ کچھ اور ہے اور یا تو جج غیر تربیت یافتہ ہے یا  پولیس جج کا احترام نہیں کرتی دونوں میں سے ایک بات ہے
ایک    وکیل نے یہ سن کر  اپنا تین کلو وزنی ہاتھ  لہرا کر تین بار شٹ اپ کال دی اور کہا کہ یہ سب بکواس باتیں ہیں یہ تو روٹین کی بات ہے پولیس تو اکثر جان بوجھ کر پولیس فائل نہیں لیکر آتی  تو اس کا مطلب یہ ہوا  کہ پولیس عدلیہ کی عزت نہیں کرتی   وکیل صاحب اپنا فلسفہ اپنے پاس رکھو  یہ کہہ کر وکیل ساب وہاں سے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے چلے  گئے میں نے شکر ادا کیا کہ اس نے تین  کلو وزنی ہاتھ  صرف  لہرایا ہی تھا
میں نے ادب سے  باقی  وکلاء سے کہا جی  بالکل ٹھیک سمجھے ہو
میں نے اپنی بات کو جاری رکھا اگر ڈبل سواری کے جرم میں کسی موٹر سائیکل والے کو  گرفتار کیا جاتا ہے اور کورٹ کو ملزم کے ساتھ ساتھ گاڑی کا بھی الگ سے ریلیز آرڈر نکالنا پڑجائے تو جج کی سیٹ پر بیٹھا ہوا کمزور انسان ہے
ایک  وکیل نے کہا ہمارے  ججز کے سامنے اکثر چالیس چالیس افراد ڈبل سواری کے جرم میں  پیش کیئے جاتے ہیں  ان سب کے الگ الگ ریلیز بناتے ہیں اور اسی طرح تھانے سے رپورٹ منگوا کر چالیس گاڑیاں بھی الگ سے ریلیز کرتے ہیں اس کام میں کتنی محنت ہے اکثر شام کو پانچ بھی بج  جاتے ہیں اور آپ  ہمارے  ججز  کی  محنت کا اعتراف ہی نہیں کررہے  
میں نے کہا  بات یہ ہے کہ  بلاوجہ کیوں محنت کرتے ہیں  ایک ہی آرڈر کافی ہے سب کیلئے اور اسی میں لکھ دیں کہ آرڈر جاری ہونے کے تیس منٹس کے اندر ملزمان کو ان کی گاڑیاں واپس  کردی جائیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو سخت کاروائی ہوگی جناب  ایسا ہے کہ   کامن سینس بھی کوئی چیز ہوتی ہے جناب اور ایک دوججز نے ایسا کیا بھی ہے زبردست  نتیجہ رہا  ہے  اصل مقصد شہریوں کو عزت دینا ہے ان کو یہ باور کروانا ہے کہ  آپ لوگ ٹیکس دیتے ہو یہ ملک آپ کا ہے اور یہ ملک پولیس اسٹیٹ ہرگز بھی نہیں ہے
اسی طرح اگر آپ کی عدالت میں کسی کیس کا گواہ پیش ہوتا ہے اور اس کا بیان کسی بھی وجہ سے ریکارڈ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات کو سن کر سب کے سب آگ کی طرح بھڑک اٹھے اور  سب نے مل کر شٹ اپ کال دی  اور کہا  ہمارے ووکیل کیس نہیں چلاتے ٹائم ضائع کرتے ہیں
میں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اگر وکیل کیس نہیں چلاتا التواء کی درخواست دیتا ہے تو ان سب باتوں کا علاج موجود ہے  عدلیہ  صرف صرف اپنے اندر اہلیت پیدا کرے  اور  ججز کو مکمل سپورٹ بھی کرے  کیونکہ ججز بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں   یہاں تک کہ اگر ملزم کا وکیل موجود نہیں ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس بات پر تو سب  وکلاء نے اختلاف کیا

میں نے اپنی بات کو جاری رکھا
اگر آپ کی عدلیہ  کے ججز  ایک ملزم کے خلاف کیس چلاتے ہیں  ملزم کے خلاف کیس چلانے کے بعد  آپ کو پتہ چلتا ہے کہ شواہد کمزور تھے ناکافی تھے اور ملزم کے خلاف تو کیس بنتا ہی نہیں تھا  اس لیئے اس کو آپ لوگ باعزت بری کردیتے ہیں  لیکن باعزت بری کرتے وقت اس  مجسٹریٹ کے خلاف کاروائی کا حکم نہیں دیتے جس نے  ملزمان کے کیس پولیس کی رپورٹ سے اتفاق کرنے کے بعد سماعت کیلئے منظور کیا تھا اور اپنا  انتظامی حکم جاری کیا تھا   اگر جج  اس پراسیکیوٹر کے خلاف  محکمہ جاتی کاروائی کا حکم نہیں دیتا   اس کے محکمہ کو محکمہ جاتی کاروائی  کیلئے خط نہیں  لکھتا جس نے پولیس رپورٹ کی اسکروٹنی کرنے کے بعد کیس سماعت کیلئے منظور کرنے کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں سماعت کیلئے پیش کرنے کا حکم دیا تھا   اس تفتیشی افسر کے خلاف کاروائی کا حکم نہیں دیتا جس کی وجہ سے کورٹ  پراسیکیوشن اور ملزم کا قیمتی وقت ضائع ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ  جج زیادہ تربیت یافتہ  نہیں
ایک غصیلے  افغانی  وکیل  نے کڑک کر کہا  میاں تم کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ؟
میں نے کہا چاچا ذرا تحمل سے کام لیں سب  بتاؤں گا تھوڑا  تحمل سے کام لیں
میں نے اپنی بات کو جاری رکھا اور کہا جج کی نااہلی تو ریمانڈ سے ہی شروع ہوجاتی ہے اگر آپ کے  جج  لوگ ریمانڈ دیتے وقت صرف اس وجہ سے ریمانڈ دے دیتے ہیں  کہ ملزم خود اقرار جرم کررہا ہے   ملزم کے خلاف شواہد موجود نہیں ہوتے ناکافی ہوتے ہیں   اس کے باوجود ملزم کو ریمانڈ پر ریمانڈ دیتے رہتے ہیں  ناکافی  تفتیش  کے باوجود  چالان سماعت  کیلئے منظور کرتے ہیں  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ  ججز کو  تربیت دیں
ایک  بلڈ پریشر کے مریض  وکیل  نے کہا بات کو زیادہ جلیبی کی طرح گھمانے کی ضرورت نہیں ہے بات کو جلدی جلدی ختم کرو 

ایک  بے رخے  افغانی  وکیل  نے کہا  کسی کی زیادہ بات نہیں سنتے جلدی بات ختم کرو  زیادہ بولنے کا نہیں
 میں نے کہا  اگر کسی جج کے سامنے کسی جسٹس کا بیٹا  یا کوئی  اہم عہدیدار پیش ہوجائے اور   اور وہ اس کو خصوصی ریلیف دے  چیمبر میں بلا کر چائے پلائے کسی عام وکیل کے کیس میں  ضمانت اوپن کورٹ میں مسترد کرکے  چیمبر میں جاکر جسٹس کے بیٹے کو  ضمانت  منظور کرنے کا حکم دے دے یہ جاننے  کے باوجود کے اس نے ڈن پر لاکھوں روپیہ پکڑ رکھا ہے  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جج  اچھا نہیں ہے
اور اگر  وہ قانون کے مطابق عام وکیلوں کی طرح اس کو بھی انتظار کرواتا ہے اور کوئی خصوصی ریلیف نہیں دیتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ  واقعی جج ہے اور ایسے جج کی عظمت کو سلام

صاحبو مختصر یہ ہے کہ جج اور وکیل  کی صرف دواقسام ایک جج  اور وکیل  یا تو  وہ واقعی جج ہوتا ہے اور اس کے پاس خداداد صلاحیت ہوتی ہے  جرات بہادری  زمانہ  شناسی  اس کو  ورثے میں ملتی ہے  اور وہ پہلی نظر میں سب کچھ بھانپ لیتا ہے   اور دوسری قسم  کے جج  اور وکیل کو تربیت کی ضرورت ہے   لیکن اس تربیت کا بھی کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا یہ سب خداداد صلاحیتیں ہیں
لیکن جج ہونا وکیل ہونا خداداد صلاحیت ہے  تربیت صرف  ہنر میں نکھار لاسکتی ہے  نااہل کو ہزار تربیت دے دو وہ کبھی اہل نہیں ہوسکتے

گپ شپ کے دوران ہی   افغانستان کے وکلاء کے ساتھ   بکرے کی  کڑھائی فرائی کروا کر کھائی اور اس طرح  ہم گھر کی طرف واپس روانہ ہوگئے  کسی وجہ سے  اس تقریب کی فوٹو نہیں بنائے اس لیئے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی نہیں کیئے 
Post a Comment