Wednesday, 27 July 2016

ہر وقت موڈ میں رہو اور ظالم بن کررہو ::: تحریر صفی الدین

رشوت لینا پولیس اکیڈیمی میں مجھے ایک  خرانٹ  استاد نے سکھائی تھی  پولیس افسر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ  
میں نے پولیس اکیڈیمی میں دوران تربیت ایک تربیتی   کلاس کے دوران   پوچھا تھا کہ سر رشوت کیسے لی جاتی ہے  آپ  ہمیں رشوت  لینا سکھائیں یہ سن کر میرا استاد مسکرایا اور کہا بیٹا میں تم سب کو ابھی رشوت لینا سکھا دیتا ہوں سب نکالو پچاس پچاس روپے  
اس کے بعد  اس  استادنے رشوت لینے کا نایاب نسخہ سکھایا
انسپکٹر بشیر نے دوران گفتگو بتایا کہ
میں نے انیس سو اسی میں پولیس جوائن کی  پینتیس سال کا تجربہ ہے لیکن پوری زندگی میں صرف ایک مجسٹریٹ سے واسطہ پڑا جو واقعی جج تھا
میں ایک بے گناہ کو پکڑ کر ایک کیس میں فٹ کرنے کیلئے ریمانڈ کیلئے  مجسٹریٹ کےپاس  لایا تو مجسٹریٹ نے ایک  ایسا سوال  کیا جس کو سن کر میرا دماغ چکرا گیا کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟
میں نے کہا یہ ملزم ہے
اس کا کیا کرنا ہے  مجسٹریٹ کا اگلا سوال تھا
اس کا ریمانڈ دے دیں
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ کیوں دے دیں ریمانڈ وجہ بتاؤ ؟
اس لیئے کہ اس پر یہ ایف آئی آر ہے
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ ایف آئی آر سے کیا ہوتا ہے اس ملزم کے خلاف ثبوت کہاں ہیں  گواہ کون ہے ان کی گواہی کیا ہے  کیا تفتیش کی ہے برآمدگی کیا ہے  اور یہ کب سے حراست میں ہے گرفتاری کا فرد دکھاؤ پولیس پیپر دکھاؤ
تفتیشی افسر نے کہا کہ چوبیس گھنٹے سے حراست میں ہے  ابھی تک  گواہ نہیں ملا  اور برآمدگی بھی نہیں ہوسکی ۔ ملزم  پولیس کے  سامنے اقرار جرم کررہا ہے یہی اس کے مجرم ہونے کا ثبوت ہے


میں نے ایف آئی آر پیش کی تو ساب نے کہا  کیا صرف ایف آئی آر جو صرف الزام ہے کی بنیاد پر جیل بھیج دوں ایف آئی آر کیا ہوتی ہے صرف الزام  یہ تم بھی جانتے ہو
میں مجسٹریٹ کو مطمئن نہیں کرسکا تو ساب نے  ریمانڈ نہیں دیا مجبوراً میں نے اس بے گناہ کی ہتھکڑی کھول دی
ساب صرف ایک مجسٹریٹ آج تک دیکھا ہے جو  سارے کام جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساب بہت تنگ کیا تھا اس مجسٹریٹ نے مجھے تنگ آکر ٹرانسفر ہی کروالی  میں نے

گزشتہ دنوں ایک اچھا تفتیشی افسر جس کا نام انسپکٹر  بشیر خان  عرف بشیرا ہے  ایک کیس کے دوران  دوست بن گیا کافی گپ شپ رہتی  ہے اس کے ساتھ اس نے عدالتی نظام سے متعلق کافی انکشافات کیئے   خیر پہلے لائن پر نہیں آرہا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے   چور سپاہی اور عدالت کے متعلق کافی لرزہ خیز باتیں  مجھے بتائی ہیں
میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کبھی کسی مجسٹریٹ سے بھی واسطہ پڑا  اس نے کہا ساب میں میٹرک پاس نالائق اور آپ لوگ بڑے بڑے ڈبل گریجویٹ میرا اور ساب لوگوں کا کیا مقابلہ لیکن کافی اصرار پر اس نے بتایا کہ یہ آپ لوگوں کا نظام بس ایسے ہی ہے  لیکن ہمارے استادوں نے  ہمیں بتایا تھا کہ اس دن  کا انتظار کرنا جب ایک مجسٹریٹ کے پاس ریمانڈ کی درخواست لیکر جاؤگے  اور وہ تم سے سوال کرے کہ
  کیا ، کہاں ،کیوں اور کیسے ؟
میں نے پوچھا کہ اس کا مطلب
تفتیشی افسر  بشیرے نے کہا کہ  مجھے استادوں نے پولیس اکیڈیمی میں یہ بات سکھائی تھی کہ جس دن مجسٹریٹس نے یہ سوال جواب شروع کردیئے کہ  یہ سب کیا ہے یہ پاکستانی شہری کون ہے جس کو ہتھکڑی لگا کر لے آئے ہو  اس کے خلاف ثبوت کہاں ہیں  اس شہری کے خلاف گواہ کون ہے کس کی گواہی پر اس کو جیل بھجوادوں تفتیش میں گھسنا شروع کردیا  تو اس دن سے مسئلہ خراب ہوجائے گا
پھر وہ یہ سوال کرے گا کہ اس کو کیسے جیل بھیج دوں وہ وجوہات تو بتاؤ
جب ہم یہ سب تقاضے پورے نہیں کرسکیں گے تو اس کو رہا کرنا ہوگا
استاد وں نے ایک نصیحت  بھی کی تھی میں نے کہا کیا  استادوں نے کہا تھا کہ جس دن  ایسے جج آجائیں تو بیٹا استعفٰی دے دینا اور کہیں  ٹھیلا لگا لینا
میں نے پوچھا کہ  کیا پوری زندگی میں ایسا جج ملا  تو اس نے کہا ہاں زندگی میں صرف ایک جج آیا ہے  آج تک میری زندگی میں  جو  ہمارے پولیس والوں کے   بے غیرتی والے سارے کام جانتا تھا
ویسے ساب پوری زندگی گزر گئی اسی سوال کے چکر میں آج تک  کسی نے پوچھا ہی نہیں ہزاروں لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گناہگار بھی تھے بے گناہ بھی تھے کسی نے بھی آج تک نہیں پوچھا  کہ  کیا کیوں  کہاں اور کیسے؟ اس حد تک نااہلی ہے  اور عدلیہ میں جوڈیشل کام کا معیار اس قدر گرچکا ہے کہ اگر کسی مجسٹریٹ کے باپ کو بھی بے گناہ گرفتار کرکے اس کی عدالت میں  لے آؤں تو یہ اس قدر نااہل لوگ ہیں کہ اپنے  حقیقی  باپ کا بھی ریمانڈ دے دیں گے  یہ جاننے کے باجود کے ان کا باپ ہے اور بے گناہ ہے  کیونکہ جن بے گناہوں کے یہ لوگ سارا دن اپنی نااہلی کی وجہ سے جھوٹے کیسز میں  ریمانڈ دیتے ہیں وہ بھی تو کسی کے باپ اور کسی کے بیٹے ہی ہوتے ہیں
میں نے انسپکٹر  بشیر سے پوچھا کہ  کیا مسئلہ ہے عدالتوں میں کام کیوں نہیں ہوتا
بشیرنے کہا کہ دیکھ لو ساب عدالت میں رش کی  وجہ سے کیس نہیں چلتے
میں نے کہا کہ جب ایک مجسٹریٹ کی  عدالت میں  سوکیس روزانہ لگے ہوئے ہونگے  تو کام کیا ہوگا
بشیرے نے کہا ساب یہ روزانہ پچاس کیسز کی حقیقت کیا ہے وہ صرف ہم جانتے ہیں
ساب ایک بات بتائیں  یہ پچاس کیسز میں کیا ہوگا میں نے کہا کہ یہ سب لوگ باعزت طور پر بری ہوجائیں گے
میں نے کہا کہ ہاں یہ سب لوگ باعزت بری ہوجائیں گے  جب شواہد ناکافی ہونگے تو یہی ہوگا
 میں نے کہا کہ  بشیرے تم لوگ غلط تفتیش کرتے ہو  تو ملزم باعزت بری ہی ہونگے عدالت تو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہو
یہ سن کر بشیرا کافی دیر تک قہقہے لگاتا رہا  اتنی دیر کے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے  اور پیٹ میں درد ہوگیا
ساب پچاس کیس روزانہ  ۔۔۔۔۔۔بشیرے نے کہا ۔۔ صرف میں جانتا ہوں کہ ان  کیسزکے اندر شواہد نہیں ہیں   ملزمان کے خلاف قانونی طور پر کیس بنتا ہی نہیں تھا   یہ تو مجسٹریٹس کی نااہلی ہے جنہوں نے اپنی عدالت میں یہ فائلیں جمع کررکھی ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ سندھ ہایئکورٹ اپنے ججز کی نااہلی پر یہ کہہ کر فخر کرتی ہے کہ کوئی بات نہیں کام نہیں آتا تو کیا ہوا رشوت تو نہیں لیتے  تو پھر لو مزے نااہلوں کی نااہلی کے
یہی وجہ ہے کہ تم لوگ غلط تفتیش کرکے لاتے ہو اور ملزم باعزت طور پر بری ہوجاتے ہیں

 انسپکٹربشیرنے کہا ساب  اب آپ لوگ  جج کی نااہلی  اور نالائقی کی ذمہ داری  پولیس پر مت ڈالو جب آپ کے عدالتی افسر نااہل  ہیں تو ہم کیا کریں   
ساب ہم نے تفتیش کرلی اور چالان جمع کروادیا تو مجسٹریٹ کی ذمہ داری نہیں تھی کہ چالان کو پڑھ کر اس پر اپنی رائے قائم کرتا  تو مجسٹریٹ لوگ یہ بات جانتے ہی نہیں  ہم غلط تفتیش کرتے رہتے ہیں اور ہماری غلط تفتیش   کو کیونکہ وہ اپنی نالائقی  اور نااہلی  کی وجہ سے  سمجھ نہیں پاتے تو ہم کیا کریں اگر اللہ نے ان کو  خداداد صلاحیت سے نوازا ہی نہیں تو ہمارا کیا قصور   ساری ذمہ داری پولیس کی نہیں ہوتی  مجسٹریٹ غلط تفتیش کے جرم میں برابر کا شریک ہوتا ہے وہ ریمانڈ دیتا ہے جیل بھیجتا ہے  ہماری رپورٹ  مقدمے کی سماعت کیلئے  منظور کرتا ہے  اس  پر اپنی  رائے  قائم کرتا ہے کیس سماعت کیلئے منظور کرتا ہے  اگر کسی ملزم کے خلاف شواہد کافی نہیں تھے تو آپ کے مجسٹریٹ نے  اس کیس پر اعتراض کیوں نہیں کیا وجہ جانتے ہیں ساب اصل قصور  وار آپ لوگ ہیں آپ لوگ ان نااہل ججز کی تعیناتی پر کیوں خاموش رہتے ہو
وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کام  بالکل بھی   نہیں آتا   یہی وجہ ہے کہ یہ  مجسٹریٹ لوگ نئی فائلیں جمع کرنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں  جعلی کیس اور جعلی کام ہے کہ  بڑھتا ہی بڑھتا چلا جارہا ہے  کیس چلتا ہے  کیس بے جان ہوتا ہے ملزم باعزت بری ہوجاتے ہیں  تو صرف ہمارے اوپر ملبہ ڈال دیا جاتا ہے   صرف ہمارا قصور نہیں ہے ساب کسی دن زبان کھول دی تو سب نرغے میں ہونگے   اگر یہ نالائق اور نااہل اپنی ذمہ داری ادا کرنا شروع کردیں تو  پولیس بھی ایسے شواہد تلاش کرکے لائے گی جس کے بعد کسی کا عدالت سے باعزت بری ہونا ناممکن ہوگا
میں نے کہا کہ اگر  اہل لوگ آجائیں   ایسے جج آجائیں جو قانون کو جانتے ہونگے سمجھتے ہونگے تو کیا ہوگا
بشیرے نے کہا اول تو یہ ناممکن ہے  کہ مجسٹریٹ کی عدالت میں اہل لوگ آجائیں   اور جو نالائق بیٹھے ہیں وہ صرف چیخنے  چلانے اور شور مچانے کو قابلیت سمجھتے ہیں لیکن جس دن اہل لوگ  آگئے  
ساب استادوں نے نصیحت کی تھی کہ اس دن پولیس کی نوکری ہی چھوڑ دینا  یہ جو مجسٹریٹ کی ٹوٹی پھوٹی ٹیبل پر  ہزاروں  فائلیں پڑی ہیں یہ سب ختم ہوجائیں گی    یہ  سب  شواہد  کے بغیر جعلی  مقدمات  ہیں کسی بے قصور کے خلاف چالان جمع کروانا ناممکن ہوجائے گا  جب نوے فیصد جعلی مقدمات  ختم ہوجائیں گے تو  مشکل سے ایک عدالت میں روزانہ دس کیس بھی نہیں ہونگے  لیکن ساب اناں تلاں اچ تیل کونی  یعنی ان تلوں میں تیل نہیں  ہے
اور جو دس مقدمات ہونگے ان سب میں ملزمان کو سزا لگانے سے کسی کا باپ بھی نہیں بچا سکے گا
اچھا تو بشیرے تیرا کہنا یہ ہے کہ اگر ایک ملزم عدالت سے باعزت بری ہوتا ہے تو اس کے باعزت بری ہونے کی ذمہ داری علاقہ   مجسٹریٹ پر عائد ہوتی ہے جس نے پولیس کی غلط تفتیش اور ناکافی شواہد کے باوجود کیس کو سماعت کیلئے منظور کیا
بشیرے نے کہا جی جی بالکل  پولیس  اور پراسیکیوٹر  کے ساتھ ساتھ یہ نالائقوں اور نااہلوں کی فوج مظفر بھی برابر کی شریک ہے اور افسر زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ کیس چلاتے ہیں اور کیس کے دوران یہ ثابت بھی ہوجاتا ہے  کہ کیس غلط تھا بنتا ہی نہ تھا تو اس کے باوجود کبھی بھی انہوں نے  کسی پولیس افسر اور پراسیکیوٹر کے خلاف کاروائی کی سفارش نہیں کی کیوں کہ یہ سب کے سب نااہل ہیں  گزشتہ دنوں تو چیف جسٹس پاکستان بھی  کراچی بدامنی کیس میں اپنی عدلیہ کی نالائقی اور نااہلی کا فخر سے اقرار کرکے ساری ذمہ داری پراسیکیوشن پر ڈال کر چلاگیا ہے   لیکن کوئی اس سے پوچھے کہ ہزاروں کیس اگر پراسیکیوشن کی غلطی کی وجہ سے ختم ہوگئے تو آپ لوگوں نے پراسیکیوشن کے خلاف کاروائی کی سفارش کتنے عدالتی احکامات میں کی ہے
میں نے بشیرے سے پوچھا کہ  ایک بات بتانا  کہ یہ رشوت لینا کیسے سیکھی
بشیرے نےکہا کہ یہ بات بتاتو دونگا لیکن کسی کو بتانا نہیں
رشوت لینا پولیس اکیڈیمی میں مجھے ایک استاد نے سکھائی تھی 
میں نے پوچھا تھا کہ سر رشوت کیسے لی جاتی ہے یہ سن کر میرا استاد مسکرایا اور کہا بیٹا میں تم سب کو ابھی رشوت لینا سکھا دیتا ہوں سب نکالو پچاس پچاس روپے
استاد نے  کہا کہ رشوت لینے کیلئے رشوت دینا سیکھو
اس کے بعد  استاد نے پوری کلاس سے پچاس پچاس روپے رشوت لی اور جس پولیس والے سے بھی رشوت لیتا تھا کہتا تھا  رشوت لینے کیلئے  رشوت   دینا سیکھو   ایسا اس نے تین دن مسلسل کیا جس کے بعد سب نے ہاتھ کھڑے کردیئے  اور استاد جی اب تو ہمیں خوب پتہ چل گیا کہ رشوت کیسے لی جاتی ہے استاد نے مزید بتایا کہ ہروقت موڈ میں رہو اور ظالم بن کررہو  یہ رشوت لینے کا سب سے اہم ترین اصول ہے
اس طرح اپنے پولیس اکیڈیمی کے استاد کو رشوت دیکر ہم نے رشوت لینا سیکھی  

صفی الدین اعوان  
03343093302


Post a Comment