Friday, 29 July 2016

خواب ، جنوں اور تعبیر ::: تحریر صفی الدین اعوان


خواب  ، جنوں اور تعبیر   ::: تحریر صفی الدین  اعوان 
میرے ایک دوست ہیں نام لینا مناسب نہیں لیکن   شعبہ وکالت میں آنے کے بعدکافی عرصے تک "خرچے" سے بھی تنگ تھے کافی عرصہ تنگ دستی کی زندگی گزارنے کے بعد نہ صرف ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی سے نااہل وکیل قرار پائے بلکہ روایتی خوشامدی اور چاپلوس نہ ہونے کی وجہ سے  سسٹم کا حصہ نہ بن سکے اوران کی وکالت کامیاب نہ ہوسکی کمال کے مقرر ہیں اور ایک اچھے قصہ گو ہیں اتنے اچھے کہ وہ پورا دن بولتے رہتے تھے اور ان کی  باتیں ہم سنتے رہیں  پاکستان  میں وکالت میں شدید ناکامی کے بعد خاموشی سے  برطانیہ  میں جابسے کچھ عرصہ ہم نے ان کی کمی کو محسوس کیا  بعد ازاں کافی عرصے تک اس کے خوابوں کو ڈسکس کرتے رہے اس دنیا کے ناکام ترین انسان کی باتیں شیئر کرتے رہے  اور ہنستے بھی تھے کہ عجیب  پاغل تھا سسٹم کو بدلنے کی  بات کرتا تھا  بیوقوف  کہیں کا

 پانچ سال کے طویل وقفے اور روپوشی کے بعد دودن قبل اس کی کال ایک  نئے  نمبر  سے  وصول ہوئی اس نے کہا کہ وہ واپس آچکا ہے اور ملنا چاہتا ہے  پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ دنیا کا ناکام ترین انسان واپس آچکا ہے بہرحال  میں  اس سے ملنے گیا اس کے ساتھ پورا دن رہا  اس کے حالات اچھے دکھائی دے رہے تھے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ ایک یورپی ملک کا ایک اہم اٹارنی بن چکا ہے اور اس کی لاء فرم یورپ کی مشہور  لاء فرم بن چکی ہے  اور اس کے پاس کامیابیوں کے بے شمار ریکارڈ تھے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شارٹ کٹ تو کامیاب نہیں ہوگیا اس نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں پر وکالت کا ایک نظام ہے ایک ماحول ہے ایک احساس زمہ داری ہے وکالت کتنا زمہ داری کا شعبہ ہے وہاں جا کر احساس ہوا اور ایک وکیل کی کتنی عزت ہوتی ہے وہاں احساس ہوا میں نے پوچھا کہ وہاں کے جج تو کافی ایماندار ہونگے میرے دوست نے کہا نہیں وہاں ایسا کوئی تصور نہیں ایماندار جج اور بے ایمان جج کیا ہوتا ہے؟ جج تو جج ہی ہوتا ہے کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے یہ ان کا اصول ہے اگر کوئی بے ایمان ہے تو اپنے خرچے پر وہاں کا سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ کوئی کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا  ان کو اپنے ججز پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ ان کو اپنے ایسے نظام پر بھروسہ ہے جو کرپشن کو پکڑنے کی صلاحیت  رکھتا ہے   وہاں جج کسی  عام کلرک کو بھی  ایسا کام نہیں  کہہ سکتا جو  قانون کے منافی ہو

 اچھا کیا وہاں ججز کی کرپشن کو سپورٹ کرنے کیلئے "ایم آئی ٹی" نہیں ہے بھائی یہ ایم آئی ٹی کیا بلا ہے وہاں ایک ہی "ٹی" ہے وہاں کا سسٹم خود ایماندار  اور مضبوط ہے اس لیئے یورپی ممالک میں عدلیہ کو "ایم آئی ٹی" جیسے ڈھول بجانے کی فرصت ہی نہیں نہ ان کو ایسے ڈھکوسلے ایجاد کرنے کی کوئی ضرورت ہے یہ ایم آئی ٹی جیسے ماموں بنانے کے نسخے صرف پاکستانیوں کی ایجاد ہیں  کیونکہ کرپشن کو تحفظ فراہم کرنے کے  ایم آئی ٹی سمیت سو بہانے ہوتے ہیں  وہاں ایم آئی ٹی نہیں ہے  لیکن اتنا چیلنج ہے کوئی کرپشن کرکے تو دیکھے

اچھا اگر کسی بااثر جسٹس کا  ایسا جونئیر  جو جج ہو کرکرپشن کرے تو اس کے لیئے وہ سفارش تو کرتا ہوگا میرے دوست نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں ڈھکوسلوں کا کوئی سلسلہ ہے ہی نہیں   وہاں عدلیہ  صرف عدلیہ ہے اور سب سے زیادہ ذمہ دار وکیل ہوتا ہے   وکیل اپنے کلائنٹ کے قانونی حقوق کی حفاظت کا زمہ دار ہے ہر صورت ہر قیمت پر اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ وکیل نے کیس کے دوران کسی بھی مرحلے  پر  غفلت کا مظاہرہ کیا تو اس کو اپنے ہی منتخب نمائیندوں کی حمایت حاصل نہیں ہوتی لائسنس منسوخ  کردیا جاتا ہے اس لیئے کوئی بھی وکیل اپنے کلائینٹ کے ساتھ برے سلوک کا سوچ بھی نہیں سکتا  اس حوالے سے کوئی رعایت ہی نہیں اگر ایک وکیل نے کیس لے لیا اور اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا  اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ  بلاوجہ تاخیری  حربے  جو پاکستانی وکالت  کی شان ہیں   ایسا  کچھ بھی نہیں  لیکن جو وکیل ایسا کرتا ہے  تو  پھر اس  کو وکالت کا حق بھی نہیں ملتا


میرے منہ سے نکل گیا کیا وہاں بارکونسل نہیں ہیں ؟
 میرے دوست نے کہا ادارے ہیں لیکن وہ زمہ دار ہیں وہاں کی ریگولیٹری اتھارٹیز اداروں کی شکل میں کام کرتی ہیں
اب فائدے سن لو وہاں ایک عام وکیل کی بھی اتنی انکم ہے کہ وہ ایک پورے خاندان کو پال سکتا ہے ادارے مضبوط ہونے سے ادارے کا وقار بحال ہے کرپشن کے خاتمے سے ایک میرے جیسا نااہل ترین  وکیل جو پاکستانی  عدلیہ میں مس فٹ تھا آج کامیاب زندگی گزار رہا ہے بعد ازاں جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ صرف پانچ سال کے قلیل عرصے مٰیں اس نے پاکستان جو اثاثے بنائے ان اثاثوں کا سوچنا بھی مشکل ہے  لیکن مجھے اس کی ایک بات ہمیشہ یاد رہی یار خواب بڑے دیکھو ایک دن آتا ہے وہ بڑے خواب تعبیر بن جاتے ہیں مٰیں نے کہا چلو آج ڈسٹرکٹ کورٹ چلتے ہیں اور ان لوگوں سے ملتے ہیں  جن کو  تمہاری قابلیت پر شک تھا میرے دوست نے کہا کہ  کہا نہیں  ایسا کچھ نہیں تھا کہ ہم قابل  نہیں تھے البتہ  ہم ٹاؤٹ  نہیں تھے ہم دلال نہیں تھے ہم کو دلالی  نہیں آتی تھی  اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ تھی
سوال یہ ہے کہ ایک عام وکیل کی وکالت اتنی کامیاب نہیں جبکہ ایک جسٹس کا بیٹا  ایک سال کے اندر باپ کی عدالت اور باپ کے نام کو اور اس کی انصاف کی دکان  میں کو  بیچ کر کروڑوں روپے کمالیتا ہے  لیکن ہم بضد رہتے ہیں کہ  جسٹس کے بیٹے کو وکیل سمجھیں اور اس کی وکالت کو  اچھی نظر سے دیکھیں  جن ججز کی نوکری پروموشن اور ٹرانسفر تک سب ایک جسٹس کی آنکھ کے اشارے   کے رحم وکرم  پر ہوں  اس معاشرے میں صرف جسٹس کے بیٹے کی وکالت کو ہی اچھی وکالت کہا جاتا ہے

میں نے سوال کیا کہ وہاں وکالت کیوں اتنی زیادہ کامیاب ہے اور ہمارے ہاں زوال پذیر کیوں ہے ؟
میرے دوست نے کہا کہ وکالت دنیا کا سب سے بہترین اور مہنگا ترین پروفیشن ہے  وکالت کرنے کیلئے پہلے وکیل  کا  بھی تو ایک معیار ضروری ہے جب اچھے وکیل ہونگے تو اچھے جج بھی ہونگے   جب کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسی سفارشی بھانجے بھتیجے اور نااہل  بیٹے کو جج لگادیں اور وہ پورا دن عدالت میں  بیٹھ کر نااہلی کے گھوڑے دوڑاتا رہے جن  عدالتوں میں  جسٹس سارا زور اپنے  بچوں کی پریکٹس کو بہتر بنانے پر  لگادیتے ہوں وہاں کیا وکالت ہوگی اور جس معاشرے میں  چیف جسٹس کا بدتمیز بیٹا ماتحت عدالتوں میں جاکر سیشن جج کو اوپن کورٹ میں  بدتمیزی اور دھمکی آمیز لہجے میں کہتا ہو  کہ آپ  میرے دلائل پڑھ لیں گے یا جج ساب میں آپ کو پڑھانا شروع کردوں   اس معاشرے میں وکالت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی
میں نے دوست سے یہ پوچھا کہ  وہاں سزا کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟
میرے دوست نے کہا یار  عدالت ہوگی تو  جزا اور سزا بھی ہوگی  کیا تم لوگ ان عدالتوں کو عدالتیں  سمجھتے ہو؟ عدالتیں ایسی ہوتی ہیں   بھائی جب کسی بھی ملزم کے خلاف پولیس رپورٹ پیش ہوجائے اس کو پولیس ملزم قرار دے دے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ملزم عدالت سے بری ہوجائے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ  اگر ملزم کے خلاف کیس ثابت  نہ ہوا تو پولیس کی ساکھ بھی  زیرو اور پراسیکیوشن کی ساکھ بھی زیرو اور عدلیہ کی ساکھ بھی زیرو یہی وجہ  ہے کہ وہاں  بہت کم کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور جب کیس رجسٹر ہوجائے تو سزا بھی لازمی لگتی ہے اور اگر کسی وجہ سے کیس ثابت نہ ہوتو اس  پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے خلاف کا روائی ہوتی ہے جس نے کیس رجسٹر کیا تھا  اور یہی کامیابی کا راز ہے  یہی وجہ ہے کہ وہاں وکالت کا بھی اعلٰی معیار ہے
اگر پاکستان میں اہل عدلیہ کام کرنا شروع کردے تو پاکستان کے سارے مسائل حل ہوجائیں  گے

میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ پاکستانی عدلیہ سے کوئی امید ہے آپ کو؟
 میرے دوست نے کہا کیا امید ہوسکتی ہے اگر امید ہوتی تو ایک عام پاکستانی وکیل یہاں کیوں  نہ کامیاب ہوتا  میرے جیسا  نااہل بیرون ملک کیوں اتنا کامیاب ہوتا کہ آج یوریپین اٹارنی وہاں  میری لاء فرم میں کام کرتے یہ عدالتیں ہیں ہی نہیں صرف عدالتوں کے نام پر مذاق ہے بس  میں ان کو جب عدالت ہی نہیں سمجھتا تو امید کیسی اگر یہاں کی عدالت واقعی عدالت ہوتی تو یہاں پریکٹس کیوں نہ کرتے 

تو حل کیا ہے ؟
میرے دوست نے کہا حل موجود ہے ایک طویل آئینی جدوجہد  آئین کے دائرے میں رہ کر ان نااہل افراد کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے اور  نااہل افراد پر مشتمل عدلیہ کو عدلیہ مت سمجھو  ایک دن آئے گا کہ اس ملک میں بھی لوگوں کو عدالتوں کی ضرورت محسوس ہوگی اور پھر عدلیہ کا قیام ضرور عمل میں  آئے گا
اصل جنگ ہی آئینی جنگ ہے تمام نااہلیوں کو ان سے بڑھ کر نااہلوں کی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے جاؤ  کرتے چلے جاؤ یہاں تک کہ نااہلی ایک گالی بن جائے  بہت جلد وہ وقت ضرور آئے گا جب  عدالتوں میں نااہلی سب سے بڑی گالی بن کر سامنے آئے گی  اور بالآخر  ایک دن یہ سب کے سب نااہل بھاگ کھڑے ہونگے
اس وقت سب سے بڑا ٹاسک یہ ہے کہ  نااہلی کو گالی بنادو
اب دیکھو چند روز قبل ہی چیف جسٹس پاکستان نے  یہ ارشاد فرمایا کہ نوے فیصد مقدمات پراسیکیوشن کی غلطی سے ختم ہوجاتے ہیں کیا   کسی وکیل نے چیف جسٹس پاکستان سے سوال کیا کہ اگر پراسیکیوشن کی غلطی ہے تو کتنے ہزار پراسیکیوٹر کے خلاف کاروائی چیف جسٹس پاکستان کی نااہل ترین عدلیہ نے کی ہے اور  ان  نااہل پراسیکوٹرز کے خؒاف کاروائی سے چیف ساب  اور ان کی نااہل ترین عدلیہ کے ہاتھ کس نے باندھ رکھے ہیں
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جاؤ اور جاکر سوال کرو کہ چیف جسٹس نے اتنا  بڑا جھوٹ بار بار اورکیوں اور کس بنیاد پر بولا ہے کہ نوے فیصد مقدمات صرف پراسیکیوشن کی غلطی کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں  اگر پراسیکیوشن کی غلطی  ہے تو ان پراسیکیوٹرز کے نام  سامنے لائے  جائیں   ان کے خلاف کہاں کاروائی کی ہے یہ بھی بتادے جب اس قسم کے آئینی سوال کرنا وکلاء شروع  کردیں گے تو آئیندہ چیف جسٹس پاکستان کی ہمت  نہیں ہوگی کہ اپنی  نااہل ترین  عدلیہ کی نااہلی کی ذمہ داری پراسیکیوشن  پرڈال دے لیکن اگر چیف جسٹس کو دوبارہ یہ بات کرنے کی ہمت بھی ہوگی تو فخر سے بولیں گے کے  پراسیکیوشن کی غلطی کی وجہ سے اتنے ہزار مقدمات ختم ہوگئے اور  ذمہ دار  پراسیکیوٹرز کے خلاف  میرے اہل ججز نے کاروائی کی سفارش کردی ہے اتنے ہزار نااہل پراسیکیوٹرز کے خلاف  ڈپارٹمنٹل ایکشن کے لیئے سفارش کی تھی اور ان کے خؒاف ایکشن بھی ہوچکا ہے یہ وہ  طویل آئینی جنگ ہے جو عدلیہ کی نااہلی کو ختم کردے گی  اور اگر مقدمہ کے دوران یہ ثابت ہوگیا کہ کیس بنتا ہی نہ تھا تو  چیف جسٹس پاکستان فخر سے بتائے گا کہ  وہ تمام جوڈیشل مجسٹریٹس  پراسیکیوٹرز اور پولیس افسران  برطرف کردیئے گئے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹے مقدمات رجسٹر ہوئے تھے
وہ دن ضرور آئے گا لیکن آئینی جدوجہد کی صرف سمت درست ہونا ضروری ہے

مطلب یہ کہ آئینی جدوجہد یعنی نااہلوں کے سامنے ہی آئین کی بات کی جائے؟
میرے دوست نے کہا جی ہاں بالکل ان نااہلوں کے سامنے ہی اہلیت کی بات کی جائے  نظریہ کا پرچار جاری رکھو آج تمہاری کمزور آواز ایک دن طاقت بن جائے گی اور جب نااہل لوگ اس عدالتی نظام کا حصہ نہیں رہیں گے تو پھر کسی جسٹس کے بیٹے کو کسی جج سے  بدتمیزی اور غنڈہ   گردی   کی ہمت نہیں ہوگی  اور جب عدالتوں سے لوگوں کو انصاف  ملے گا تو پھر وکالت کو بھی عروج حاصل ہوگا اور جرم کرنے والے جیلوں میں بند ہونگے اور ان کو سزا بھی ملے گی
ایک عام کمزور وکیل کی کمزوری اس کی طاقت بنے گی  یہی کامیابی ہے ہر کمزور طبقہ اپنی کمزوری کو  اپنی طاقت بنا کر ہی اپنی محرومیوں کو دور  کرسکتا ہے



Post a Comment