Saturday, 30 July 2016

جوڈیشل مجسٹریٹ کا انٹرویو دوسری قسط تحریر صفی الدین اعوان

جوڈیشل مجسٹریٹ کا انٹرویو دوسری قسط      تحریر  صفی الدین اعوان
No offence should go unchecked and no offender should go unpunished۔
۔
لاء سوسائٹی کے قیام کا واحد مقصد عدالتی اصلاحات کے سفر کو  جاری رکھنا ہے اسی  سفر کے دوران ہم نے کوشش کی کہ مسائل کو سامنے لاکر ان کا حل تلاش کیا جائے اسی سلسلے کے تحت  ہم نے کوشش کی کہ  ڈسٹرکٹ کورٹس میں موجود ان  چند ججز سے بات چیت کی  جو واقعی  جج ہیں   اور اس قابل ہیں کہ  ان کو جج کہا جائے
لیکن  ان میں  ججز کی شرح  بہت  ہی کم  ہے  یعنی  صرف  ایک فیصد  اور ان ججز کے انٹرویوز بھی کیئے  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کا انٹرویو دوستوں نے بہت پسند کیا  کیونکہ وہ پہلی قسط تھی اس لیئے اس کو مکمل کرنا ضروری تھا اس لیئے اس انٹرویو کو آج ہم  آگے بڑھارہے ہیں   لیکن کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت دو بہت ہی بڑے مسئلے ہیں پہلا مسئلہ وکیل تلاش کرنا اور دوسرا سب سے بڑا مسئلہ  جج تلاش کرنا  ۔۔۔۔۔۔ہایئکورٹ نے ججز کے نام پر جو نالائق اور نااہل  سفارشی بٹھا رکھے ہیں  ان میں سے اگر سو افراد سے ملاقات کی جائے تو بہت ہی مشکل سے ایک جج اس قابل ہوگا جو جج کی کسوٹی پر کسی  حد تک پورا اترتا ہوگا  اور ایک ہزار وکلاء سے ملاقات کی جائے تو بہت ہی مشکل سے ایک وکیل ایسا ملے گا جس کو وکیل کہا جائے    خیر یہ تو ایک بدترین المیہ ہے  اس بار جس جج صاحب کو انٹرویو کیلئے منتخب کیا وہ ذرا جلالی قسم کے تھے اور ان کی جلالی باتیں انٹرویو میں نمایاں ہیں
جوڈیشل مجسٹریٹ  جس کا فرضی نام   لطیف  ہے  کا انٹرویو جو زیادہ تر انتظامی مسائل پر مشتمل تھا  مندرجہ ذیل ہے 

سوال  آپ کے خیال میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کا کردار کورٹ میں کیسا ہونا چاہیئے؟
جوڈیشل مجسٹریٹ یا جج کو انتظامی طور پر بھی مضبوط ہونا چاہیئے صرف قانون جاننا ضروری نہیں  میری جب کراچی میں پوسٹنگ ہوئی تو پہلے ہی دن ایک  معزز  قسم کا انسان میری عدالت میں پیش ہوا  اور اس نے  مقامی تھانے سے گاڑی ریلیز کروانے کیلئے درخواست دائر کی میں نے اس  معزز پاکستانی  شہری   سے پوچھا کہ مسئلہ کیا تھا پولیس نے گاڑی کیوں بند کی  اس شخص نے بتایا کہ  اس کے پاس کاغزات نہیں تھے  اور وہ کسی وجہ سے گھر رہ گئے تھے تو پولیس نے گاڑی بند کردی جب میں کاغذات لیکر تھانے گیا تو تھانے والوں نے جواب دیا کہ اب یہ  گاڑی کورٹ ریلیز کرے گی جاکر کورٹ سے آرڈر لیکر آؤ اس لیئے میں کورٹ آیا ہوں
میں نے کورٹ محرر کو بلوایا اور کہا کہ ایس ایچ کو فوری بلواؤ ایس ایچ او آگیا میں نے مسئلہ پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ آپ تھانے سے رپورٹ کال کروالیں ہم رپورٹ دے دیں گے تو آپ گاڑی  کا ریلیز آرڈر بنا دیجئے گا ہم ریلیز کردیں گے ایس ایچ  او نے  مجھے قانون سکھانے کی کوشش کی
میں نے ایس ایچ او سے کہا کہ مجھے بے وقوف سمجھتے ہو کیا ہم فارغ بیٹھے ہیں  جب  گاڑی کا مالک موجود ہے اس کے پاس اوریجنل کاغزات موجود ہیں کوئی تنازعہ نہیں ہے تو گاڑی تھانے سے ہی واپس کیوں نہیں کی  کیوں اس شخص کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے  اور اب تم پولیس والے عدالت کا بھی قیمتی وقت ضائع کرنا چاہتے ہو جاؤ اور آدھے گھنٹے کے اندر اس کی گاڑی واپس کرو اور اگر کوئی تنازعہ ہے تو رپورٹ کرو تاکہ میں ایکشن لوں مختصر یہ کہ ایس ایچ او نے گاڑی واپس کی لیکن دوسرے ہی دن میں نے اپنی حدود میں واقع تمام  ایس ایچ اوز کو بلوایا اور ان کو ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا کہ  اگر تھانہ کوئی ایسی گاڑی بندکرتا ہے جس کا کوئی تنازعہ نہیں ہوتا اور اوریجنل مالک کے ساتھ اس کے کاغزات بھی مکمل ہوتے ہیں اور اس کے باجود تھانہ خود گاڑی ریلیز نہیں کرتا  بلکہ معاملہ کورٹ تک آتا ہے تو ایسی صورت میں  کورٹ ڈیپارٹمینٹل ایکشن  کیلئے  آئی جی سندھ کو خط بھیج دے گی اس کا نتیجہ یہ  نکلا کہ تین سال کے دوران صرف اور صرف  بارہ درخواستیں  میری  عدالت میں پیش کی گئیں
بحیثیت جج ہمیں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پولیس کے پاس عام شہری کو تنگ کرنے کے کیا کیا حربے ہوتے ہیں اور انتظامی طور پر مضبوط جج ہی ان کو روک سکتا ہے
اسی طرح پولیس والے روزانہ ایف آئی آر بھی کورٹ کو فراہم نہیں کرتے  میری عدالت  میں ایف آئی آر کا رجسٹر موجود تھا اور چوبیس گھنٹے میں ایف آئی آر کورٹ کو فراہم کردی جاتی تھی اس سلسلے میں پولیس کے خلاف سخت ڈیپارٹمینٹل ایکشن بھی لیئے  اسی طرح ریمانڈ کے دوران  جج کے ذہن میں قانون شہادت ہونا چاہیئے اور  میں تو ریمانڈ کے دوران اتنے سخت سوال کرتا تھا کہ کسی بے گناہ کو عدالت میں ہتھکڑی لگا کر لانے کا تو سوال  ہی نہیں پیدا ہوتا تھا میں نے  بے شمار مقدمات میں  بے گناہ ملزمان کی ہتھکڑیاں کھلوا کر  ان کو کورٹ سے ہی رہا کیا لیکن اس کیلئے قانون پر عبور کے ساتھ خداداد صلاحیت بھی ضروری ہے اگر ایک مجسٹریٹ قانون پر عبور حاصل کیئے بغیر ہتھکڑی کھلواتا ہے تو وہ حکم نامہ  اس کے  گلے بھی پڑ سکتاہے  یہی وہ نقطہ ہے جو   اہم ہے قانون پر مکمل  عبور اور خداداد صلاحیت جوڈیشل اکیڈیمی کو چاہیئے کہ صرف ریمانڈ کے حوالے سے بار بار ریفریشر کورس منعقد کرواتا رہے جس جوڈیشل مجسٹریٹ کو ریمانڈ کا بنیادی فلسفہ سمجھ آجائے وہ آگے چل کر بہترین جوڈیشل افسر ثابت ہوتا ہے  یہ بہت ضروری فلسفہ ہے کیونکہ عدلیہ کے زریعے ایک شہری پولیس کی حراست  میں قانونی طور پر  دیا جارہا ہوتا ہے  اور اس کی آزادی ختم ہورہی ہوتی ہے ریمانڈ کا فلسفہ کریمینل جسٹس سسٹم کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بدقسمتی سے جوڈیشل اکیڈیمیوں میں جو  خودساختہ  دانشور موجود ہیں وہ خود  بھی ریمانڈ کا فلسفہ نہیں سمجھتے
کیا جوڈیشل اکیڈیمی اپنا کردار ادا کررہی ہے؟
سب سے پہلی بات اہم یہ ہے کہ  خداداد صلاحیت کا ہونا ضروری ہے ۔ جس جج کے پاس خداداد صلاحیت ہوتی ہے اس کو کسی جوڈیشل اکیڈیمی سے تربیت کی بھی ضرورت نہیں ہے   ویسے بھی جوڈیشل  اکیڈیمی  صرف  صلاحیت  کو پالش  کرسکتی  ہے رہنمائی کرسکتی  ہے  کسی ہیرے کی تراش خراش کرسکتی  ہے لیکن  سوال ہی نہیں  پیدا ہوتا  کہ کسی کوئلے کو ہیرا  بنادے  نااہل   جج  کو سفارشی  کو جتنی بھی ٹریننگ دے دو اس پر کسی بھی قسم کا کوئی اثر نہیں ہوگا  جوڈیشل اکیڈیمی کسی نااہل کو اہل نہیں بناسکتی  اس لیئے یہ ضروری ہے کہ نااہل بھرتی ہی نہ کیئے جائیں  
لیکن اس حوالے سے لاہور ہایئکورٹ کے چیف جسٹس نے درست سمت میں سفر شروع کیا ہے

اکثر تھانہ کورٹ کے نوٹسز کا جواب وقت پر نہیں دیتا  یہاں تک کے وراثت کی درخواستوں پر بھی دیر سے  جواب آتا ہے جو کہ سیشن کی عدالت میں پیش کی جاتی ہیں ؟
یہی تو  کسی بھی جج کا امتحان ہوتا ہے کہ تھانہ  کورٹ کے نوٹس کو نظر انداز کردے جب کورٹ پولیس فائل منگواتی ہے تو تھانہ ڈھیٹ بن جاتا ہے ایسی صورت میں حکم عدولی کے مرتکب پولیس افسر کو لازمی  جیل بھیجنا ضروری ہوتا ہے اور ان کے خلاف سخت قسم کے قانونی ایکشن ہی کورٹ کے اندر ڈسپلن قائم کرسکتے ہیں دوسری صورت میں عدالت مذاق بن جاتی ہے اور یہی مذاق ڈسٹرکٹ کورٹس میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں  کیونکہ اکثر سیشن ججز بھی آج کل نااہل آئے ہیں جو پولیس سے ڈرتے ہیں
عدالتیں ملزمان کو سزا کیوں نہیں دیتی ہیں؟
سیدھی سی بات ہے جب عدالت کسی ملزم کو سزا سنائے گی تو وہ اپیل میں جائے گا اور جب اپیل میں جائے گا تو  سفارش  کی بنیاد   پر بھرتی  ہونے والے جج صاحب کی قابلیت  اعلٰی عدلیہ کے سامنے کھل کر آجائے گی اس لیئے ایک حکمت عملی کے تحت عدالتوں میں موجود سفارشی  سزا سنانے کی بجائے ٹائم پاس کرنا زیادہ بہتر  محسو س  کرتےہیں  یہی وجہ ہے کہ سزا نہیں سنائی جاتی  کیونکہ اکثریت  کے پاس جوڈیشل مائینڈ ہے ہی نہیں   آخر کار ملزمان کو باعزت بری کرکے سارا ملبہ پراسیکیوشن  پر ڈال دیا جاتا ہے  اور سرکار کی مدعیت میں ہونے والے لاوارث کیسز میں کوئی اپیل نہیں کرتا  یہی وجہ ہے کہ شارٹ کٹ کے زریعے  نااہل ججز ملزمان کو جان بوجھ کر سزا سے بچاتے ہیں   جب اپیل ہی نہیں داخل ہوگی تو ان کی نااہلی کیسے سامنے آئے گی
پراسیکیوشن کا کیاکردار ہے؟
عدالتی نظام میں پراسیکیوشن ہی کا تو اہم ترین کردار ہے   پولیس والے اور پراسیکیوشن والے دنیا کے چالاک ترین لوگ ہوتے ہیں ہونا تو یہ چاہیئے کہ ان دونوں مافیاز کا مقابلہ کرنے کیلئے   جج کو بہت زیادہ معاملہ فہم ہونا چاہیئے اور کسی بھی کریمینل کیس کو احتیاط سے چلانے کیلئے اپنا ذہن استعمال کرنا ضروری ہے 
سب سے پہلی غلطی جوڈیشل مجسٹریٹ اس وقت کرتا ہے جب وہ پولیس رپورٹ پر ایک تفصیلی  نوعیت کا انتظامی حکم جاری نہیں کرتا  اور تفتیش کے دوران پولیس کی  چالاکیاں سمجھنے میں ناکام رہتا ہے  اس لیئے ایسے کیس سماعت کیلئے منظور  کرلیئے جاتے ہیں جن کو اصولی طورپر سماعت کیلئے منظور ہی نہیں ہونا چاہیئے ہوتا  یہیں سے پاکستانی عدلیہ اور کسی ترقی یافتہ ملک کی عدلیہ کے درمیان تضاد واضح ہونا شروع ہوجاتا ہے 
ہم بیرونی دنیا سے اپنا تقابل نہیں کرتے یہی ہماری ناکامی ہے  اگر جوڈیشل افسران اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیں تو کیسز کی شرح تیزی سے کم ہوگی جس بے گناہ نے پانچ سال کی مشقت کاٹنے  اور تاریخیں بھگتنے کے بعد  عدالت سے رہا ہونا ہے اس کو ابتدائی مرحلے میں ہی جوڈیشل مجسٹریٹ رہا کردے گا
بدقسمتی یہ ہے کہ  نااہل  عدلیہ پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی کا شکا ر ہے  اور یہ جوڈیشل سسٹم کا سب سے بڑا المیہ ہے
اگر پراسیکیوشن کا کردار غلط ہے تو ججز کو چاہیئے کہ اپنے عدالتی فیصلہ جات میں واضح طور پر لکھیں کہ اس کی  کورٹ کے پراسیکوٹر جس کا نام فلاں ابن فلاں  ہے کی غفلت اور غلطی کی وجہ سے ملزم کو رہا کیا جارہا ہے   یا اس کیس میں پراسیکیوشن  نے یہ غلطیاں کی ہیں   اور پراسیکیوشن  کا فلاں  شعبہ نااہل  تھا  جس کی وجہ سے  کیس خراب ہوا ہے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو خط  بھی بھیجا جائے وہ پراسیکیوٹر تبدیل کروایا جائے تو پراسیکیوشن اپنا کردار کیوں ادا نہیں کرے گی  میری رائے یہی ہے کہ جج کا انتظامی کردار زیادہ اہم ہے

ڈسپوزل پالیسی  کےحوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جس نے بھی عدلیہ کیلئے  ڈسپوزل پالیسی تشکیل دی ہے وہ منحوس انسان  اس قوم کا قومی مجرم ہے اور اس کیلئے ایک سوبار موت کی سزا بھی کم ہے   پاکستان کے عدالتی نظام کو حقیقی معنوں میں  ڈسپوزل پالیسی اور یونٹ  سسٹم نے تباہ و برباد کیا ہے
یہ حقیقی معنوں میں انصاف کا قتل ہے ۔  جس طریقے سے کریمینل سائڈ کے  کیسز ڈسپوزل پالیسی کی نظر ہورہے ہیں اس سے تو جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے   جو جتنا زیادہ نااہل ہے وہ اتنا ہی زیادہ کیسز کو ختم کرکے ڈسپوزل کی شرح بڑھاتا ہے اور ہزاروں یونٹ ماہانہ کماتا ہے  اس طرح ججز ڈسپوذل پالیسی کی آڑ میں  جرائم کے سرپرست بن گئے ہیں  
کریمینل کیسز اور دیوانی نوعیت کے کیسز کو ترازو کے ایک ہی پلڑے میں کیسے تولا جاسکتا ہے
کریمینل کیس کا تعلق تو جرم سے ہے  کریمینل کیس کا تو فلسفہ ہی الگ ہے  ڈسپوزل  پالیسی  اس  فلسفے کی نفی  ہے کریمینل کیس نہ تو آسانی سے رجسٹر ہوتا ہے اور نہ ہی آسانی سے ختم ہوتا ہے  بدقسمتی یہ ہے کہ ہم الٹا چل رہے ہیں کریمینل کیس   جتنی آسانی سے رجسٹر ہوتا ہے اتنی ہی آسانی سے ڈسپوزل بھی کردیا جاتا ہے  سوال یہ ہے کہ ایک جرم ہوا ہے اس کی سزا تو ملزم کو ملے گی اور ہرصورت میں ہی ملے گی اور یہ معاشرے کی بقاء کیلئے ضروری ہے  سوال یہ ہے کہ  جب کیس ہی ڈسپوزل ہوگیا ملزم کے خلاف جرم ثابت ہی نہیں ہوا تو سوال یہ ہے کہ  پھر جرم کس نے کیا تھا؟  جرم ہوا لیکن گناہگار کو سزا نہیں ملی اصل ملزم سامنے نہیں آیا  اور کیس بھی ڈسپوزل ہوگیا  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم پورے معاشرے کو تباہی کی جانب لے جارہے ہیں   انٹرنیشنل اصول کیا کہتے ہیں

No offence should go unchecked and no offender should go unpunished۔
کریمینل جسٹس سسٹم کے حوالے سے یہ رہنما ترین اصول ہے کیا ہم اس کی ہرروز خلاف ورزی نہیں کرتے 

ڈسپوزل پالیسی نے ہماری عدلیہ کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے جو جتنے  زیادہ  کیس ڈسپوزل کرے گا  اس کو اتنے ہی زیادہ یونٹ ملیں گے اور اسی کو  پروموشن بھی ملے گی    ڈسپوزل پالیسی نے نااہلوں کو عدلیہ کا ہیرو بنادیا ہے اور اہلیت رکھنے والے ججز کو ہر لحاظ سے زیرو کردیا ہے  

کم ازکم کریمینل کیسز میں تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ  جو جج جتنے زیادہ ملزمان  کو سزا دے گا یا جتنے زیادہ پراسیکیوٹرز  پولیس افسران اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف غلط انتظامی آرڈرز کرنے کے خلاف احکامات جاری کرے گا اس کو اتنے ہی زیادہ پوائینٹ ملیں گے تو  یہ سسٹم  زیادہ بہتر تھا لیکن  یونٹ سسٹم کی وجہ سے جوڈیشل سسٹم  مکمل طورپر غرق ہوچکا ہے  عدلیہ  تو ہر مہینے مقابلہ کرواتی ہے کہ جو  جج جتنے زیادہ ملزمان  کو باعزت بری کرے گا وہ اس مہینے کا ہیرو ہوگا   عدلیہ میں کیسز کیلئے ڈسپوزل کا لفظ استعمال کرنا ہی سب سے بڑا ظلم ہے  جس نظام کی میں نے بات کی ہے وہ نظام اس ملک میں انصاف فراہم کرسکتا ہے  لیکن موجودہ عدلیہ میں موجود پالیسی ساز عوام کو انصاف فراہم کرنا ہی نہیں چاہتے اس لیئے وہ نت نئے قسم کے ڈرامے تیار کرتے ہیں جن کا مقصد صرف عدلیہ کی تباہی سے زیادہ کچھ نہیں ہے


پولیس ایک عام شہری پر ظلم کرتی ہے عدلیہ کے پاس اس کا کیا علاج ہے؟


اگر پاکستان کی سڑک پر کھڑا ہوا کوئی پولیس والا کسی پاکستانی شہری کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اس کو گالی دیتا ہے اس کا گریبان پکڑتا ہے  یا اس کو تھپڑمارتا ہے تو دراصل وہ  پولیس والا گالی کسی پاکستانی شہری کو نہیں دیتا وہ گالی چیف جسٹس پاکستان کو دیتا ہے پولیس والا  وہ تھپڑ کسی عام پاکستانی شہری کو نہیں بلکہ وہ زناٹے دار تھپڑ اس ملک کے چیف جسٹس اس صوبے کے چیف جسٹس اس شہر کے سیشن جج اور اس علاقہ مجسٹریٹ کے  چہرے پر پڑتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی پولیس اسی صورت میں بے لگام ہوجاتی ہے  پولیس  ایک عام شہری کے گریبان  پر ہاتھ نہیں  ڈالتی  بلکہ  وہ  عدلیہ  کا گریبان  پکڑتی  ہے جب عدلیہ اپنا کردار ادا نہ کرے   جب عدلیہ نااہل ہوجائے اور پولیس کے دل سے عدلیہ کا خوف ختم ہوجائے  تو یہی ہوگا جو ہورہا ہے
صرف عدلیہ ہی  وہ ادارہ ہے جو پاکستانی شہریوں کو پولیس کے مظالم سے بچا سکتا تھا لیکن  عدلیہ میں موجود نااہلی نے پولیس کو یہ حق دے دیا ہے کہ جو چاہے کرتے پھریں ان سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی

عدلیہ کس سمت جارہی ہے ؟
 عدلیہ کی موجودہ سمت مکمل طور پر غلط ہے      ہایئکورٹ نے کافی مدت ہوئی  عوامی بہبود سے متعلق کوئی اہم فیصلہ نہیں دیا

وکلاء گردی  نے عدلیہ کو کس حد تک تباہ کیا ہے اور کیسز کے التواء میں وکلاء کس حد تک شامل ہیں ؟

  وہ وکیل جن کو وکیل کہا جائے ان کی تعداد ہے ہی کتنی ہے  ایک ہزار وکلاء میں صرف ایک قانون دان اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو وکیل  کہا جائے  نااہلی نے بار اور بینچ دونوں اداروں ہی کو یکساں طورپر تباہ کیا ہے  قانون جاننے والے وکلاء  اور جج تو تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتے لیکن  فی زمانہ جو لوگ موجود ہیں وہ صرف عدلیہ کی نااہلی ہی کی وجہ سے کیسز کے التواء میں کامیاب ہوجاتے ہیں   اگر وکیل کیس میں التواء کرتا ہے تو ججز کو چاہیئے کہ ان کے خلاف جرمانہ عائد کریں ؟  میں  نے تو بے شمار وکلاء پر جرمانے عائد کیئے ہیں اور اس طریقے سے  بے شمار کیسز کے فیصلے میرٹ پر کیئے  ہیں  چند وکلا مس کنڈکٹ کرتے ہیں  ایسے  وکلاء  کے خلاف ایکشن لیں  تو کیسز میں کبھی بھی وکلاء کی جانب سے التواء نہیں ہوگا لیکن یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہم سب انسان ہیں سو مسئلے مسائل ہیں  بیماری  ہے  یا بے شمار وجوہات موجود ہیں جن کی وجہ سے التواء  ہوسکتی  ہے اگر کسی وکیل کی وجہ سے بلاوجہ التواء ہورہا ہو وہ التواء کا عادی  ہو  تو اسی صورت میں ہی ایکشن لیا جائے   لیکن جج اگر چیخ وپکار کی بجائے قلم کا استعمال کرے تو زیادہ  بہتر ہوگا    لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کچھ  وکلاء ایسے بھی ہیں جو مشہور ہیں کہ وہ ہایئکورٹ میں جسٹس لگواتے ہیں ان کی  لاء کمپنیوں کے سامنے تو ہایئکورٹ بھی بے بس ہے ایسی بااثر کمپنیاں جو چاہے کرتی پھریں  جج مجبور ہوجاتا ہے یا ان کے اثرورسوخ کے سامنے بلیک میل ہوجاتا ہے
Top of Form

عدلیہ کی نااہلی سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ؟
عدلیہ کی نااہلی  نے معاشرے کو کھوکھلا  کرنا شروع کردیا ہے ۔اور نااہل  عدلیہ اگلے بیس سال میں پورے  پاکستانی معاشرے کو سول وار کے خطرے سے دوچار کرسکتی ہے عدلیہ کی  نااہلی سلو پوائزن کی طرح   پاکستانی معاشرت کو عدم توازن کا شکار کررہی ہے پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی گزشتہ کئی سال سے سول وار کا شکار   ہے اور پولیس کے کنٹرول سے باہر ہوچکا ہے  اور  اس لیئے اگر پاکستان کو سول وار  کے خطرے سے بچانا ہے تو جرائم کو عدلیہ کے زریعے کنٹرول کرنا ہوگا  یہاں جرم پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ملزم کو سزا نہیں دی جاتی تو اس معاشرے کا مستقبل اچھا نہیں ہے  تحقیق تو یہی کہتی ہے کہ  جب جرم پر کنٹرول نہیں ہوگا اور ملزم کو سزا نہیں ملے گی تو وہ معاشرہ  سول وار کا شکار ہوتا ہے

جعلی پولیس مقابلے ان کاؤنٹر وغیرہ کیا جرائم کا خاتمہ کرسکتے ہیں ؟
 جعلی پولیس مقابلوں کے زریعے ملزمان کا قتل   فاشزم کی علامت اور عدلیہ کی نااہلی کا اعتراف ہے  جعلی پولیس مقابلوں کے زریعے ملزمان کو قتل کرکے  نااہل  عدلیہ کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ   ہم نے فوری انصاف کردیا  ہے  کیونکہ اگر عدالت  میں پیش کرتے تو ملزم  رہا ہوجاتا نااہل  عدلیہ کو واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ تم لوگ نااہل ہو  یہی وجہ ہے کہ جعلی پولیس مقابلے کے زریعے جرم کا خاتمہ کردیا ہے  اس قسم کے اقدامات معاشرے کو تباہ کرتے ہیں  اسی قسم کے اقدامات سول  وار کی طرف  جاتے ہیں  جرائم کا مکمل خاتمہ عدالت کے زریعے ہی ممکن ہے   عدلیہ پر عدم اعتماد کی اس سے بڑی علامت کیا ہوگی کہ عوام جعلی پولیس مقابلے کے بعد  سکھ کا سانس لیتے ہیں  لیکن  یہ سب اقدامات ملک کو سول وار کے خطرے سے دوچار کررہے ہیں  جعلی پولیس مقابلے عدلیہ کیلئے ایک واضح پیغام ہیں 
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئیندہ آنے والی نسل کا مستقبل ہرلحاظ سے محفوظ ہوتو عدلیہ سے نااہل ترین افراد کو اٹھا کر باہر  پھیکنا ہوگا  اور جرائم کے خاتمے کیلئے  اس اصول  پر عمل کرنا ہوگا
No offence should go unchecked and no offender should go unpunished۔
جب تک عدالت میں موجود نااہل ججز   ہزاروں کی تعداد میں کریمینل کیسز  میں ملزمان کو سزا سنائے بغیر  ختم کرتے رہیں گے اس وقت تک  جرم اور مجرم کنٹرول سے باہر ہوتے جائیں گے اور ایک دن سول وار کی صورت میں اس قوم کو  عدالتوں میں موجود نااہل ججز  کی نااہلی کی قیمت ادا کرنی ہوگی

کیا عدلیہ کے پاس وقت ہے؟
کیا آپ جے آئی ٹی سمجھتے ہیں یہ کیا چیز ہے ؟ لیکن جے آئی ٹی ڈنڈے کے زور پر جوڈیشل سسٹم کا زبردستی حصہ بنادی گئی ہے  کسی میں ہمت نہیں کہ اس پر بات کرے 
عدلیہ کے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے اگر حالات نہ بدلے تو نظر نہ آنے والا ڈنڈا برسنا بھی شروع ہوسکتا ہے   اور ایک شخصیت  پر تو نظر نہ آنے والا  ڈنڈا  برس  بھی چکا ہے اور کھل کر برسا ہے اگر نااہل افراد کی سرپرستی جارہی رہی تو خدشہ ہے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول عدلیہ کے ہاتھ سے نکل کر   ۔۔۔۔۔۔۔۔کے ہاتھ میں نہ آجائے  اور اس کے آثار بالکل واضح ہوچکے ہیں  عدلیہ اب زیادہ دیر جرائم پیشہ افراد کے کیسز ختم کرکے  جرائم کی سرپرستی  نہیں کرسکے گی  اب زیادہ دیر   نااہل  افراد کی مکمل سرپرستی  کرنا  ممکن نہیں ہوگا اب   مزید نااہلی کو چھپانا ممکن  نہیں ہوگا  اور اپنی  نااہلی کا ملبہ  پراسیکیوشن پر  مزید تھوپنا ممکن نہیں ہوگا   سرسراہٹ اور آہٹ  بالکل واضح ہوچکی ہے   اور ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کی  عدلیہ    میں موجود سفارشی  اور نااہل  ججز کی نااہلی کے حوالے سے تشویش میں ہرروز اضافہ ہوتا جارہا ہے  اور یہی تشویش کسی دن رنگ لاکر رہے گی    اس لیئے عدلیہ فوری طور پر سفارشیوں اور   نااہلوں کی پوری کی پوری بریگیڈ کو فارغ کرکے ان کی جگہ ججز تعینات کرے


عدلیہ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟
سب سے بڑا مسئلہ  نااہل اور سفارشی   ججز ہیں جو  ملزمان  کو سزا دینے کی اہلیت اور صلاحیت سے قطعی طورپر محروم ہیں  یہی وجہ ہے کہ جرم اور جرائم پھل پھول رہے ہیں  اور یہی نااہلی   عدلیہ کو اس منطقی انجام کی جانب لیکر جارہی ہے ایک ایسا انجام جو سب جانتے ہیں 


ایک طویل گفتگو کے باوجود ابھی بھی کافی کچھ باقی ہے کوشش ہوگی کہ مزید کچھ بھی سامنے لیکر آؤں 
Post a Comment