Sunday, 31 July 2016

نااہل عدلیہ ملک کو سول وار کی طرف لے کر جارہی ہے تحریر :: صفی الدین اعوان

No offence should go unchecked and no offender should go unpunished۔
تحریر :؛ صفی الدین اعوان

اگر  ملک کی سرحد  کی حفاظت کیلئے کھڑا ہوا فوجی سپاہی گولی چلانا ہی  بھول جائے تو وہ فوجی سپاہی  اس قابل نہیں رہتا کہ اس کو فوجی کہا جائے   کیونکہ گولی چلانا ہی کسی فوجی کی اصل طاقت ہے    اس لیئے فوجی گولی چلانا کبھی نہیں بھولتا
عدلیہ کی اصل طاقت انصاف کی فراہمی تھی جو کہ وہ بھول چکی ہے  جج کی سیٹ پر بیٹھا ہوا نااہل اپنا وہ کام نہیں جانتا جس کیلئے اس کو جج بنایا گیا تھا اس کو عزت دی گئی تھی  جب  جج اپنا اصل  کام  یعنی انصاف  فراہم کرنا ہی بھول گیا تو  اس کی سیٹ  کا مقصد ہی فوت  ہوگیا  ا س لیئے آہٹوں اور سرسراہٹوں کو   چند دنوں سے محسوس کیا جارہا تھا
  اسی دوران چیف جسٹس پاکستان نے خود تسلیم کرلیا کہ  نوے فیصد مقدمات  پراسیکیوشن کی نااہلی کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں  لیکن چیف صاحب  یہ وضاحت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں  کہ پراسیکوشن کی نااہلی کے خلاف ان کے نااہل ججز نے اپنے عدالتی فیصلوں  میں کوئی حکم نامہ لکھا ہے  عدلیہ کی طرف سے کتنے پراسیکیوٹر کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی تھی  حقیقت یہ ہے کہ نوے نہیں ستانوے فیصد مقدمات عدلیہ کی اپنی نااہلی کے نتیجے میں ختم ہوجاتے ہیں  جس کی ذمہ داری ان نااہلوں اور سفارشیوں  پر عائد ہوتی ہے جو جج کی سیٹ پر مسلط کردیئے گئے ہیں

آہٹیں اور سرسراہٹیں بالکل واضح ہوچکی ہیں لیکن دور دور تک اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ   وردی والے جنرل اور کرنل جج کی سیٹوں پر بٹھا دیئے جائیں گے لیکن صفائی مہم تو شروع ہوچکی ہے لاہور ہایئکورٹ کا چیف جسٹس جس  طریقے سے صفائی کررہا ہے وہ اسی ایجنڈے ہی کا حصہ ہے جس کے تحت نااہل لوگ عدالتی نظام سے ہر صورت میں فارغ کردیئے جائیں گے
لاہور کے  ساتھ ساتھ  صوبہ سندھ میں بھی صفائی مہم ہوگی اور یہ وقت کی  ضرورت ہے  میرے حساب سے اس صفائی مہم کے دوران ایک سوسے زیادہ  مکمل طور پر نااہل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز گھر بھیج دیئے جائیں گے  ملک کو سول وار کے خطرے سے بچانے کیلئے ضروری ہوچکا ہے کہ اب  جج کی سیٹ پر  جج ہی  بٹھائے جائیں  چپڑاسی سطح کے سفارشیوں کو گھر بھیجنے کا وقت قریب آگیا میں  دعوے سے  کہتا ہوں کہ ایسے ایسے اور ایسے ویسے ناااہل سفارشی   لوگ  عدالتی نظام میں اعلٰی پوسٹوں پر بٹھا دیئے گئے ہیں جو  اپنی سی وی لیکر پورا پاکستان گھومیں  ان کو  اپنے اداروں میں کوئی چپڑاسی نہ رکھے  اور یہ بات میں ثابت کرکے دوں گا

فوج سول اداروں کی کارکردگی کو بہتر نہیں بناسکتی ہے لیکن سرحد پر بیٹھا ہوا فوجی سپاہی اتنی عقل اور شعورضرور رکھتا ہے کہ    کسی بھی ملک میں سول وار کب شروع ہوجاتی ہے  کیوں شروع ہوجاتی ہے اور اس کی وجوہات کیا ہوتی ہیں
جب انصاف نہیں ملتا جب  جرم پر کنٹرول ختم ہوجاتا ہے اور جب مجرم کو سزا نہیں دی جاتی تو یہ قدم معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا ہے  اور جب ملک کا چیف جسٹس خود اعتراف کرلے کہ نوے فیصد مقدمات ملزمان کو سزا دیئے  بغیر ختم ہوجاتے ہیں تو اس  سے زیادہ کسی گواہی کی ضرورت باقی ہی نہیں رہتی
عدلیہ کی نااہلی ملک کو سول وار کی طرف لے کر جارہی ہے
آہٹیں اور سرسراہٹیں بہت کچھ کہہ رہی ہیں بہت کچھ واضح ہوچکا ہے  
No offence should go unchecked and no offender should go unpunished۔



Post a Comment