Wednesday, 5 February 2014

ایک مجسٹریٹ کا جرات مندانہ فیصلہ



آج ایک بہت اہم ترین معاملہ کراچی کی ڈسٹرکٹ سینٹرل کی  ایک عدالت میں زیر بحث رہا ۔علی مرتضٰی میتلو صاحب جو کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ہیں ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اور 5 فروری  یوم کشمیرکی تعطیل کی وجہ سے ان کی بحیثیت   آن ڈیوٹی  مجسٹریٹ ان کی ذمہ داری تھی  
صبح 10 بجے کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل  کی حدود میں واقع تھانہ گلبرک کا تفتیشی افسر رفاقت مغل دوخطرناک ملزمان کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر اور گھسیٹ کر ریمانڈ لینے کیلئے عدالت میں لیکر آیا مجسٹریٹ صاحب نے معاملہ پوچھا تو تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ یہ دو انتہائی خطرناک ملزمان ہیں اور تلاشی کے دوران ان سے پستول برآمدہوئے ہیں
مجسٹریٹ صاحب نے جب دونوں ملزمان کو دیکھا تو وہ انہیں معاملہ مشکوک  محسوس ہوا پوچھ گچھ کرنے پرانہوں نے بتایا کہ وہ دونوں  باپ بیٹا ہیں  اور ایک سیاسی شخصیت کے زیرعتاب ہیں  پیش کیا گیا اسلحہ لایئسنس یافتہ ہے اور ایک ماہ قبل رینجر نے اپنی تحویل میں لیا تھا جس کا انہوں نے لائسنس بھی پیش کیا تھا
جس کے بعد دودن قبل انہیں لائسنس سمیت رینجر ہیڈکوارٹر میں طلب کیا گیا اور لائیسنس ضبط کرکے انہیں تھانہ گلبرک کے حوالے کردیا گیا اور ان کے لائیسنس اس وقت بھی رینجرز کے پاس موجود ہیں یہ ہمارا قانونی اسلحہ ہے
مجسٹریٹ نے پولیس افسر کو اسلحہ پیش کرنے کا حکم دیا جو کہ اس نے فوری طور پر تھانے سے منگوایا اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ ملزمان کے گھر رابطہ کریں اور اگر ان کے پاس اسلحے سے متعلق قانونی دستاویزات موجود ہیں تو وہ کورٹ میں لیکر آئیں تفیشی افسر نے ان کے گھر  فون کرکے رابطہ کیا ان کے گھر والے ان کی گرفتاری سے لاعلم تھے ۔کیونکہ وہ دونوں باپ بیٹا دودن سے لاپتہ تھے اور ان کے اہل خانہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یا تو ان کو اغواء کرلیا گیا ہے یا پھر کوئی اور معاملہ ہے بہرحال وہ شدید پریشان تھے مختصر یہ کہ تمام اہل خانہ روتے پیٹتے کورٹ پہنچ گئے اس شخص کی چھ بیٹیاں تھیں اور وہ اپنے باپ سے لپٹ کر رونے لگیں کہ چلو ہتھکڑی میں جکڑا ہوا ملا لیکن  اپنے باپ اور بھائی کو زندہ سلامت دیکھ تو لیا۔ ان کے پاس تمام کاغذات کی فوٹو کاپیاں موجود تھیں۔اسلحہ کی خریداری کی اوریجنل رسید اور وہ صدر کے اسلحہ ڈیلر بشیر ٹریڈرز سے خریدا گیا تھا۔بینک میں جمع کرائے گئے چالان کی  اوریجنل رسیدیں اور کمشنر کراچی کا ایک ابتدائی اجازت نامہ  بھی موجود تھا مختصر یہ  کہ مجسٹریٹ نے قانونی کاروائی مکمل کرکے ان کی ہتھکڑیاں کورٹ میں ہی کھولنے کا حکم دیا۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ اس کے اہل خانہ کو اس وقت کیسی خوشی ہوئی ہوگی
اس پوری کاروائی کے دوران شام کے 5 بج گئے یعنی مغرب ہوگئی لیکن مجسٹریٹ صاحب عدالت میں موجود رہے تمام تصدیقات کروائی گئیں اور اس کے بعد دونوں باپ بیٹے کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گئی
کیا فرق پڑجاتا کہ جہاں کراچی  کے یہ دو مظلوم شہری جیل میں چلے جاتے  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وہ دو  مظلوم شہری جن کی عزت آبرو آزادی اور عزت کی ضمانت 1973 کے آئین میں دی گئی  لیکن ۔۔۔یہ تو ہماری روزانہ کی پریکٹس ہے  نہ جانے کتنے ہی بے گناہ مجسٹریٹوں کی نااہلی اور نالائقی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں؟
لیکن خراج تحسین کے مستحق ہیں علی مرتضٰی میتلو صاحب جنہوں نے ان دوشہریوں کی شخصی آزادی کو تحفظ فراہم کیا بدقسمتی سے کراچی میں یہ بھی مثال موجود ہے کہ چند روز قبل لائسنس پیش کرنے کے باوجود ڈی جی رینجرز اور ایجنسیوں کی ہدایت پر ہمارے ایک سیشن جج نے ضمانت کی درخواست مسترد کی بعد ازاں ہایئکورٹ  نے اسلحے کا لائیسنس پیش کرنے پر ضمانت دی اس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں رہتی
کراچی بار ایسوسی ایشن کو چاہیئے کہ ہماری عدلیہ سے منسلک  ججز جو ان حالات میں بھی جرات مندانہ فیصلے کررہے ہیں انہیں تعریفی اسناد کے زریعے خراج تحسین پیش کرے
اس سارے معاملے پر ایک تفصیلی بحث جلد ہوگی
بنیادی حقوق سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی منظوری کے بعد معطل ہوچکے ہیں  اس پر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے
میرے پاس وہ الفاظ نہیں  جن کے زریعے میں جوڈیشل مجسٹریٹ علی مرتضٰی میتلو کو خراج تحسین پیش کرسکوں
اللہ دیکھ رہا ہے اور وہی انصاف کرنے والا ہے
کیونکہ وہ دو مظلوم  باپ بیٹا خدانخواستہ جیل چلے جاتے تو موجودہ سیاہ قوانین کے مطابق اور انتظامیہ کی خواہشات کی تکمیل میں لگی ماتحت  عدلیہ  کیلئے انصاف فراہم کرنا ممکن نہ ہوتا  اس مقدمے کا تعلق کریمنل جسٹس سسٹم سے ہے اور یہاں میں اکیس توپوں کی سلامی پیش کرنا چاہتا ہوں  ان تمام سیشن ججز کو جو لائیسنس اوریجنل پیش کرنے پر ایک لاکھ ضمانت  جمع کروانے پر ملزم رہا کررہے ہیں
یہ بیچارے تو زندگی بھر کیلئے ذلیل ہوجاتے سیشن جج بھی ضمانت نہ دیتا چالان ان کے خلاف آجاتا ہایئکورٹ  جانے کے اخراجات ہی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہیں  اگر آج ان دو افراد کا کیس  کسی نااہل شخص کے پاس پیش کیا جاتا اور وہ ان کو   جیل بھیج دیتا  تو گھر کے زیور سے لیکر  مکان تک بک جاتا  خدا کی قسم اس مظلوم شخص کی بیٹیوں کی عزت تک نیلام ہوجاتی لیکن ان دونوں باپ بیٹوں کی ضمانت نہ ہوتی اور اس کیس کے ذیلی اثرات ان کی آنے والی نسل تک رہتے   نہ جانے کونسی نیکی ان کے کام آگئی کہ آج تعطیل کا دن تھا اور آن ڈیوٹی مجسٹریٹ کو اللہ تعالٰی نے یہ ہمت دی کہ موجودہ حالات میں  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دو شہریوں کا کیس ابتدائی اسٹیج پر ہی خارج کردیا بلکہ ایک پورے خاندان کو تباہی اور بربادی کے گڑھے میں گرنے سے بچالیا
کیونکہ ایک باعزت آدمی جب پولیس ، جیل اورعدالت کی چکی سے پس کرنکلتا ہے جب مقدمہ ختم ہوتا  ہے تو  پھر ایک زندہ لاش ہی باقی رہ جاتی ہے مقدمے کے دوران ایک شخص تباہ نہیں ہوتا پورا خاندان اور بعض اوقات پوری نسل تباہ ہوجاتی ہے ۔ایک ذرا سی توجہ ایک ذرا سا جرات مندانہ فیصلہ کسی کی عزت آبرو اور نسل کو بچا سکتا ہے محترم ججز صاحبان آپ تمام پر نہایت ہی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے
Post a Comment