Wednesday, 19 February 2014

مسٹر پرفیکٹ


میرے ایک دوست ہیں شاہد قریشی ایڈوکیٹ مطالعے کے بہت شوقین ہیں ان کی اپنی ہی ایک الگ
 تھلگ دنیا ہے میں نے ان کو ہمیشہ کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ہی پایا ہے دوستوں کی تعداد نہایت محدود رکھتے ہیں  انہیں ایک منفرد شوق یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے کامیاب لوگوں کی بائیوگرافی پر مبنی کتابیں انہوں نے جمع کررکھی ہیں  ان کا ایک اور شوق انگلش زبان میں مہارت بھی ہے  اور اس حوالے سے ان کی گفتگو ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔سول کیسز کے ماہر ہیں اور ایک کیس کیلئے نہ جانے کیا کچھ کھنگال کر لے آتے ہیں
گزشتہ دنوں  جب  لاء سوسائٹی پاکستان،مبشر بھٹہ ہیومن رائٹس اور پبلک جسٹس ویلفئیر آرگنائزیشن نے  سٹیزن پروٹیکشن نیٹ ورک  کی بنیاد رکھی تو اس کا سلوگن بنانے کی زمہ داری لاء سوسائٹی پاکستان کو دی گئی کافی دیر سوچا لیکن کوئی نئی بات ذہن میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
آخر کار میں نے سوچا کہ مسٹر پرفیکٹ سے رابطہ کیا جائے جس کے پاس ہر مسئلے اور ہر معاملے کا حل موجود ہوتا ہے شاہد بھائی سے رابطہ کیا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ
Protecting civil liberties and civil rights
اور یہ کہہ کر فون بند کردیا کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح مطالعے میں مصروف تھے لوجی ہمارا تو مسئلہ ہی حل ہوگیا اتنا اچھا جامعہ قسم کا سلوگن  اگرچہ بظاہر کہنے کو تو یہ ایک سادہ سی بات ہے لیکن اسی ایک بات نے مجھے  پورا دن پریشان رکھا
معاشرے میں اہل علم کا اپنا ایک مقام ہے۔میں نے یہی دیکھا ہے کہ اہل علم حضرات کم بولتے ہیں لیکن جب بھی بولتے ہیں  دل چاہتا ہے کہ ان کی باتیں نوٹ کرکے محفوظ کرلی جائیں
اسی طرح کا معاملہ ایک بار پاکستان میں فلپس کمپنی کے ساتھ بھی تھا وہ ایسا سلوگن چاہتے تھے جس میں فلپس کمپنی کا نام بھی شامل ہو اور ان کی مصنوعات بلب اور ٹیوب لائٹ کا ذکر بھی ہو انہوں نے مقابلہ بھی کروایا لیکن کوئی معیار پر پورا نہ اترا بدقسمتی سے اب مجھے اس اہل علم کا نام یاد نہیں رہا ۔جب کمپنی اپنا مدعا لیکر ان کے پاس گئی تو انہوں نے برجستہ کہا "جہاں جہاں سورج ڈھلے فلپس کی ٹیوب لائٹ اور بلب جلے" اتنی سی بات کہہ کر انہوں نے میدان مارلیا

بہرحال میرے دوست شاہد قریشی نے ایک ایسا سلوگن ہمیں دیا جو بظاہر تو بہت سادہ ہے لیکن اس کی گہرائی بہرالکاہل سے بھی زیادہ ہے
Post a Comment