Saturday, 1 February 2014

" سندھ آرمز ایکٹ 2013 انسانی حقو ق کی خلاف ورزیاں،عدلیہ اور بار کا کردار " کے موضوع پر سیمینار



سندھ آرمز ایکٹ 2013 کو سندھ اسمبلی نے یکم مارچ 2013 کو منظور کیا۔  سندھ اسمبلی نے ”سندھ آرمز بل 2013“ کی اتفاق رائے سے منظوری  دی، جس میں غیر قانونی اسلحہ اور ہتھیار رکھنے، تیار و فروخت کرنے، ان کا کاروبار کرنے یا ان کی غیر قانونی درآمد اور برآمد کرنے کی سزا میں غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد سندھ میں غیر قانونی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ یہ بل سندھ آمرز ایکٹ 2013کہلائے گا۔ اس میں اسلحہ اور ہتھیار رکھنے، ان کی تیاری و فروخت اور ان کی درآمد و برآمد کے لئے لائسنس کے اجراء کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے پہلے سے زیادہ سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایکٹ کے تحت 25سال سے کم عمر کے افراد کو اسلحہ لائسنس جاری نہیں کئے جائیں گے۔ کسی جرم میں سزایافتہ شخص اور غیر صحت مند حامل شخص کو بھی لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ ایکٹ کے تحت پولیس کو بھی اسلحہ لائسنس چیک کرنے اور اسلحہ ضبط کرنے کے بھی وسیع اختیارات دئیے گئے ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت صوبے بھر میں چیک پوسٹس قائم کرے گی تاکہ اسلحہ اور ہتھیاروں کی سرچ کی جاسکے اور ان کی نقل و حمل کو مانیٹر کیا جاسکے۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے مجاز پولیس افسران اور اہلکار گاڑیوں اور ان میں موجود سامان کی سرچ کرسکیں گے۔ ایکٹ کے تحت  بغیر لائسنس خطرناک اسلحہ گن پاؤڈر،شیل ،ڈیٹو نیٹر،گرینیڈممنوع بوراسلحہ،راکٹ اوربم رکھنے والوں کو 14سال تک سزائے قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی۔ لائسنس کے بغیر اسلحہ تیار، فروخت، منتقل، اس کی مرمت یا آزمائش کرنے والوں کو 10سال تک قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکے گی۔ قانون کے تحت جن افراد کو اسلحہ لائسنس کا اجراء ممنوع ہے، ان کے پاس اسلحہ اور ہتھیار موجود ہونے پر انہیں 7قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ قانون کی دیگر خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ سیکشن نمبر 40 میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ اسلحہ قابل استعمال ہونا ضروری ہے ایسا اسلحہ جو خراب ہواور استعمال کے قابل نہ ہو ایسے اسلحہ پر سندھ آرمز ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
حکومت  سندھ نے کراچی کی خراب صورتحال اور طالبانائزیشن کے خطرات کے پیش نظر قانون سازی کی ہوگی اور حکومت کی نیک نیتی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس ایکٹ میں موجود سیکشن نمبر 34 کی سب سیکشن اے کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 103 کا اطلاق سندھ آرمز ایکٹ 2013 پر نہیں ہوگا اگرچہ نوآبادیاتی دور کے ضابطے اور قوانین مثالی نہیں ہیں لیکن پولیس کیلئے لازم ہے کہ وہ وہ گرفتاری کے وقت   علاقے ہی کےدومعزز افراد کو گواہ بنائے اور ان کی موجودگی میں ہی تلاشی اور برآمدگی کی لسٹ بناکر سربمہرکردے اکیسویں صدی کے تقاضوں سے عدالتی نظام ہم آہنگ نہیں ہے جس کی وجہ سے عدالتوں میں بطور گواہ پیش ہونا بھی ایک جرم ہے لوگ گواہی دینا چاہتے ہیں لیکن  اس بات کو بھی یقینی بنانا لازمی ہے کہ ان کی گواہی باآسانی ریکارڈ بھی ہوجائے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ جات بھی موجود ہیں جن میں ضابطہ فوجداری کی سیکشن 103 کی وضاحت کی گئی ہے لیکن اس سیکشن کو کسی ایکٹ بنا کر غیر مؤثر کرنے کا مطلب انتظامیہ کے اختیارات نوآبادیاتی دور کی پولیس سے بھی اضافہ کرنا ہے اگرچہ نوآبادیاتی دور کے قوانین کا مقصد سکون سے حکومت کرنا اور مقامی آبادی کو پولیس کے زریعے لاٹھی سے ہانک کے رکھنا تھالیکن اس کے باوجوداس زمانے میں بھی ایسے ضوابط کا خیال رکھا گیا کہ طاقت کا محور پولیس ایک خاص حد میں ہی رہے
اگرچہ پاکستان ایک پولیس اسٹیٹ ہی ہے لیکن عدالتیں بھی موجود ہیں جو انتظامیہ کو حدود میں رکھتی ہیں ۔ایک زمانے سے ہی "تیرہ ڈی" پولیس کا ایک خاص حربہ رہا ہے جس کے تحت پولیس عام شہریوں کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں پھنساتی رہی ہے
موجودہ حالات میں کراچی کے شہری ایک نئی صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں ۔رینجرز ملزم پکڑتی ہے لیکن اپنے حکام کی ہدایت کی بنیاد پر وہ گواہ نہیں بنتے اور ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے کہ کسی بھی کیس میں "فٹ" کردو ایک سب انسپکٹر کی سطح کا افسر دو سپاہی بطور سرکاری گواہ جس کو جب چاہیں کسی بھی کیس میں فٹ کرسکتے ہیں
کیا ہم پولیس پر اعتبار کرسکتے ہیں؟
اور رینجرز کے افسران جب شہر میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے موجود ہیں تو وہ فوجداری کیسز میں گواہ کیوں نہیں بنتے
حقیقت یہ ہے کہ پولیس اصل ملزمان پکڑتی ہے اور ان کے ورثاء کو بلاکر تھانے سے ہی مک مکا کرلیتی ہے اس حوالے سے تفتیشی افسران جو کچھ کرتے ہیں وہ سب جانتے ہیں ۔فرد گرفتاری سمیت تمام لوازمات  جائے وقوع پر بنانے کی بجائے تھانے میں ہی بنائے جاتے ہیں تمام کے تمام شواہد ضائع کردیئے جاتے ہیں
اس کے علاوہ عدالتی کرپشن سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن اصلاح کی ضرورت ہے
موجودہ صورتحال میں پورے سندھ خصوصاً کراچی کو پولیس اسٹیٹ ڈیکلیئر کردیا گیا ہے کیونکہ پولیس کو من مانی کے جتنے اختیارات آج حاصل ہیں پہلے کبھی نہ تھے  وہ جس کو چاہے جب چاہے کسی بھی وقت کسی بھی لمحے سندھ کی حدود میں موجود کسی بھی شہری کو  سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی سیکشن (تیئس ایک اے ) میں گرفتار کرسکتی ہے
کریمینل جسٹس سسٹم پر عبور رکھنے والے  ایک نامور وکیل سید وقارشاہ صاحب نے بتایا کہ سندھ کے شہریوں نے اس سے بھی برے حالات دیکھے ہیں جام صادق مرحوم کے دور میں تو یہ عالم تھا کہ خصوصی عدالتیں دور دراز علاقوں میں بنائی جاتی تھیں اور جب ہم ایک ضمانت کی درخواست ٹائپ کرکے لے جاتے تو اس کو وصول کرنے سے ہی انکار کردیا جاتا تھا اور نہایت مشکلات کے بعد جب وہ درخواست وصول کرلی جاتی تو اس کو غائب ہی کردیا جاتا تھا  پھر دوبارہ اس سارے عمل سے گزرنا پڑتا تھا  جس کے بعد صرف درخواست کی سماعت میں چھ ماہ لگ جاتے تھے اور ضمانت کی درخواست مسترد کروانے کیلئے اس زمانے میں 25000 ہزار روپیہ ریٹ مقرر تھا  اور خصوصی عدالتوں سے ضمانت کی درخواست مسترد ہوجانا وکیل کی کامیابی سمجھا جاتا تھا بعد ازاں سندھ ہایئکورٹ سے ضمانت کروائی جاتی تھی
17 جنوری کو وہی سیاہ تاریخ دوہرانے کی کوشش کی گئی جب سندھ ہایئکورٹ کے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت خصوصی عدالتیں تشکیل دیکر ایک مائینڈ سیٹ بنایا گیا  اور انتظامیہ اور عدلیہ کی خواہشات ایک ہوگئیں
اس موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن  نے فوری طور پر سیشن ججز کی میٹنگ منعقد کی اور بار کا مؤقف پیش کیا کہ تمام مقدمات کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیئے  اور ایسا مائنڈ سیٹ بنانے کی جس کے تحت  عام شہریوں کے حقوق متاثر ہوں نہیں بنانا چاہیئے جس کے بعد صورتحال بہتر ہوئی لیکن قانون سازی کی وجہ سے مسائل تو موجود ہیں
ہم سب کو مل کر جرم کے خاتمے کیلئے کوشش کرنی  چاہیے۔نیت صاف ہو تو پرانے قواعد وضوابط میں بھی گنجائیش موجود ہے کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ پولیس  جھوٹے مقدمات میں  ایک ہی اسلحہ بار بار استعما ل کرتی ہے ایک ہی اسلحہ آج بھی مختلف مقدمات میں پیش کیا جارہا ہے کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹ میں موجود مال خانے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے   وہاں بہت کچھ غیرقانونی طور پر ہورہا ہے
انشاءاللہ  کراچی بار ایسوسی ایشن کے تعاون سے لاء سوسائٹی کے دوستوں نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس کے انعقاد کیلئے  منتخب ممبران کراچی بار ،لارڈز لاء میگزین ،محترم مبشر بھٹہ ایڈوکیٹ،فرحان خالق انور ایڈوکیٹ،محترم قاضی ایازالدین ایڈوکیٹ، محترم کبیر احمد صدیقی،محترم جاوید حلیم ایڈوکیٹ ممبر منیجنگ کمیٹی ہایئکورٹ بار ایسوسی ایشن،مس مسرت خان خزانچی کراچی بار ایسوسی ایشن،محترم نثار شر،چوہدری تنویر ایڈوکیٹ،شعیب صفدر گھمن ایڈوکیٹ ،قمر ریاض ورک ایڈوکیٹ ،مسٹر امرت شردھا   میشوری ایڈوکیٹ ،ملک ساجد اعوان ،ملک فیاض اعوان ،شاہد میمن  ،مس ناہید سلطان اور مس عشرت سلطان ایڈوکیٹ  چیئر پرسن ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک  نے خصوصی طور پر تعاون کیا ہے
اس کے علاوہ بہت سے وہ دوست جو تعاون کررہے ہیں لیکن ان کا نام نہیں لے سکا ان سے دلی معزرت
سید وقار شاہ صاحب کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں  آپ اس موقع پر ایک خصوصی ریسرچ رپورٹ پیش کریں گے
امید ہے سیمینار میں اچھی مثبت تجاویز سامنے آئیں گی ہماری تجویز ہے کہ سندھ آرمز ایکٹ کے تحت گرفتار ملزمان کے ریمانڈ کے وقت پولیس جس اسلحے کی برآمدگی کا دعوٰی کرتی ہے وہ ریمانڈ کے موقع پر پیش کیا جائے
اسلحے کا فوری فرانزک لیب ٹیسٹ کروایا جائے
پولیس جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیکر رات 12 بجے مقدمہ درج کرتی ہے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں اگلے دن پیش کرنے کی بجائے  اسی دن ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ  اس حساب سے بھی پولیس 10 گھنٹے غیرقانونی حراست میں رکھتی ہے
سٹی کورٹ کے مال خانے کو فوری طور پر کمپیوٹرائزڈ کرکے  کلوز سرکٹ کیمرے لگا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایک اسلحہ تفتیشی افسران بار بار استعمال نہ کرسکیں
سیشن ججز سٹی کورٹ کے مال خانے کا دورہ کریں ۔ کیونکہ اگر دورہ کریں گے تو یہ انکشاف ہوگا کہ پولیس نے جتنا اسلحہ برآمد کرنے کا دعوٰ ی کررکھا ہے وہ مال خانے میں موجود نہیں ہے تو پھر وہ کہاں ہے؟
سیشن ججز اس  بات کو یقینی بنائیں کہ ختم ہونے والے مقدمات کا اسلحہ اپنی نگرانی میں  بلڈوزر پھیر کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پولیس دوبارہ استعمال نہ کرسکے (یہ نہایت اہم ترین تجویز ہے)
فرانسسک لیب کو پابند بنائیں کہ وہ رپورٹ کے ساتھ یہ رپورٹ بھی دیں کہ اس اسلحے کا پہلے تو ٹیسٹ نہیں ہوا  یہ تجویز بہت اہم ہے
ہم سب جانتے ہیں کہ ایک ہی پستول کم ازکم 10 مختلف مقدمات میں  اور مختلف مقدمات میں پیش کیا جارہا ہے اس حوالے سے مال خانے کو کنٹرول کرکے  ٹھیک کیا جاسکتا ہے
امید ہے بہت سی باتیں بہت سے نئے حقائق سیمینار میں سامنے آئیں گے
جرم کے خاتمے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر نیت صاف ہو تو عدلیہ اور بار ملکر کراچی کے حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں
4 فروری 2014 کو" سندھ آرمز ایکٹ 2013 انسانی حقو ق کی خلاف ورزیاں،عدلیہ اور بار کے کردار " کے حوالے سے ہونے والا سیمینار کراچی میں قیام امن  کے لیئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا
آپ کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے
آپ کی آمد کے منتظر ممبران لاء سوسائٹی پاکستان

Post a Comment