Friday, 7 February 2014

تبدیلی ضرور آئے گی



سندھ میں کریمینل جسٹس کی بدترین خامیوں میں سے ایک "کورٹ محرر" بھی ہے ۔کراچی میں اس "افسر" کے وسیع تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  سیشن ججز بھی اپنی پسند کی سیٹ حاصل کرنے کیلئے اسی "افسر" کا چینل استعمال کرتے ہیں ماضی قریب میں ججز کی پروموشن تک کا اختیار کراچی شہر کے کچھ بااثر کورٹ محرر حضرات کے پاس ہوا کرتا تھا اور کراچی ہی کا ایک کورٹ محرر  سابق چیف جسٹس کا ذاتی دوست تھا  خیر جب مغلیہ سلطنت تباہ ہوئی تھی تو اس وقت  شاہی خواجہ سرا  بہت اہمیت اختیار کرگئے تھے کیونکہ جب کوئی ادارہ تباہ ہوتا ہے تو اس قسم کے کردار شہرت اور عروج حاصل کرتے ہیں  کیونکہ وہ عدالتیں جن کا تعلق پاکستان کے عام شہریوں سے ہے وہ تباہ حال ہیں اس لیئے کورٹ محرر قسم کے کردار اگر شہرت رکھتے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیئے
خیر آج سے ایک سال قبل اسی موضوع پر "یایک  کورٹ محرر کا انٹرویو لکھ مارا تھا" وہ ساری باتیں میرے ذاتی مشاہدے پر مبنی تھیں  اس بلاگ کو پسند کیا گیا
کئی ماہانہ میگزین میں شائع ہوا ۔دوستوں نے تفریح لی ۔۔۔میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ یہ معاملہ تفریح کی حد تک ہی محدود رہے گا لیکن اس بلاگ کی اشاعت کے بعد جب یہ خلائی مخلوق عدالتوں میں گھومتی پھرتی نظر آتی تو لوگ ایک خاص نظر سے دیکھتے میں تو اپنی اس تحریر کو بھول ہی گیا تھا گزشتہ دنوں میں  بقلم خود ایک عدالت ڈسٹرکٹ سینٹرل میں موجود تھا 25 جنوری 2014 کی تاریخ تھی تو وہی ہستی مجھے ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی نظر آئی اس کے ارد گرد بہت سے سینئر ۔۔۔۔سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ۔۔۔موجود تھے اس کو تسلیاں دے رہے تھے صبر صبر کہ جبر کے دن اب بہت تھوڑے ہیں  کورٹ محرر پیش ہوا کورٹ سے معافی مانگی ایک معافی نامہ لکھا اپنے پرانے گناہوں کی معافی طلب کی اپنے آپ کو کورٹ  کے رحم وکرم پر چھوڑا کہ آخری بار معاف کردیا جائے آئیندہ نہ کوئی جعلی رپورٹ لگاؤں گا نہ کوئی فراڈ کروں گا وہ بھی کورٹ کے ساتھ بعد ازاں معلومات لیں تو پتہ چلا کہ  کورٹ محرر کو جعلی رپورٹس لگانے پر کئی بار وارننگ دی گئی تھی لیکن یہ بعض ہی نہیں آرہا تھا حسب معمول 22 جنوری کو اس نے جعلی رپورٹ پیش کی تو مجسٹریٹ صاحب  نے تصدیق کروائی رپورٹ جعلی ثابت ہونے پر   اس  سرکش کورٹ محرر کو جو دیدہ دلیری سے جعلی رپورٹس لگا رہا تھا کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عام   شہریوں کی طرح  سیدھا جیل بھیج دیا اور اب یہ صاحب تین دن جیل  کاٹ کر کورٹ میں پیش کیا گیا ہے خیر  مجسٹریٹ صاحب نے آخری بار معاف کیا اس کا معافی نامہ کورٹ کے ریکارڈ پر لایا گیا وہ بھی بہت دلچسپ ہے  انشاءاللہ اس کو اسکین کرکے بہت بلاگ میں لگادوں گا
مختصر یہ کہ  جب سے  وہ کورٹ محرر جیل سے واپس آیا ہے بندے کا پتر بن گیا ہے  اللہ کا شکر ہے کہ ماتحت عدلیہ میں کوئی تو ہے جس نے ایکشن لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے  کراچی ویسٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈبل سواری کے ملزمان کے خلاف بحثیت جج  کاروائی کی اور معزز شہریوں کو زنجیروں سے باندھ کر اور جانوروں کی طرح گھسیٹ کر عدالت لانے سے سختی سے منع کردیا ہے  سب سے پہلے یہی کام سینٹرل کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے کیا تھا لیکن بعض عدالتوں میں آج بھی ڈبل سواری کے ملزمان کو جانوروں کی طرح زنجیروں سے باندھ کر اور گھسیٹ  کر لایا جاتا ہے لیکن کچھ تو تبدیلی آئی  انشاء اللہ باقی ججز بھی کلرکی والی نوکری چھوڑ کر بحیثیت جج سوچنا شروع کردیں گے دیکھیں بہت کچھ تبدیل ہورہا ہے   تبدیلی کا عمل بتدریج ہو تو زیادہ مناسب ہوتا ہے
ہمارے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ آپ عدلیہ کے موضوع پر لکھا کریں کہ انصاف کی راہداریوں کی اصل حقیقت کیا ہے جنا ب بہت مسائل پیدا ہوجاتے ہیں  میرے  بلاگ پڑھیں تو بہت سے دوستوں کو اندازہ ہوگا کہ میں کافی کھل کر لکھ چکا ہوں  اور جتنا لکھا گیا وہ اصل سچ کا  ایک فیصد بھی نہیں تھا  لیکن موجودہ صورتحال میں جب   ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم کراچی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر تبدیلی کی جدوجہد فیلڈ میں رہ کر کرسکتے ہیں کیونکہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی منتخب قیادت نے  یہ پیش کش کی ہے کہ وہ تبدیلی کی ہر مثبت کوشش کا خیرمقدم کریں گے  اس وقت کراچی بار ایسوسی ایشن کی قیادت محترم صلاح الدین احمد اور محترم خالد ممتاز صاحب کے پاس ہے   محترم صلاح الدین احمد کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی حدود میں واقع عدالتوں میں اچھی وکالت کیلئے ماحول بنایا جائے  ان کا ایک اہم ترین کارنامہ کراچی بار ایسوسی ایشن کیلئے جدید ترین لایئبریری کا قیام ہے جبکہ خالد ممتاز صاحب نے ہمیشہ ہمیں سپورٹ کی ہے
عدالتی اصلاحات کیلئے لاء سوسائٹی پاکستان اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی سوچ ایک ہے  وکلاء کے ساتھ ساتھ ماتحت عدلیہ کے اندر بھی اب تبدیلی کی سوچ پرورش پارہی ہے سوشل میڈیا نے گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں
2013میں ہمارا بلاگ بے بسی کی پکار تھا  لیکن آج دوستوں  کی کثیر تعداد ہمارے ساتھ ہے ہم سب مل کر تبدیلی لائیں گے انشاءاللہ
3 فروری کو کراچی بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے سیمینار سے ایک دن پہلے  کسی کے پالتو  نے  کسی کے اشارے پراور  مانگے ہوئےسگریٹ کا  ایک زوردار سوٹا مارکر  ڈسٹرکٹ کورٹس میں کہا تھا کہ (اے وت کی کراچی بار اچ ڈرامہ شروع تھی گئیا تےگل سن میری   غور نال  جتنی تیڈی عمر اے اتنی میڈی پریکٹس اے تے میں سب سمجھناواں  تے میں اے ڈرامہ نہ چلن دیساں)  پھر  مانگے تلنگے ہوئے سگریٹ کی چٹکی لگانے کے بعدایک ناقابل اشاعت مزیدار قسم کا طنزیہ محاورہ کہا اور  شاید اپنی زندگی بھر کی ناکامیوں پر ہنستا ہوا  چلا گیا دنیا کے ناکام لوگ جو زندگی بھر کچھ نہیں کرپاتے  وہی لوگ تبدیلی کا راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں  

۔۔۔۔۔تبدیلی ضرور آئے گی
Post a Comment