Thursday, 30 January 2014

سندھ آرمز ایکٹ 2013 اور عدلیہ کا کردار کے حوالے سے کراچی بار ایسوسی ایشن میں خصوصی سیمینار




پاکستان کے کسی بھی علاقے یا شہر میں جب بھی کوئی فوجی،نیم فوجی یا پولیس آپریشن 
شروع ہوتا ہے وہاں عملی طور پر انسانی حقوق معطل ہوجاتے ہیں پولیس اور عسکری ادارے اپنی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہیں اس دوران صرف عدالتی فورم ہی انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے
عدلیہ اور انتظامیہ کی سوچ کبھی ایک نہیں ہوسکتی انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے غلط کاموں کی توثیق عدالت سے کروالے عموماً ایسا نہیں ہوتا لیکن اگر ایسا ہوجائے تو  شہری اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے دربدر پھرتے ہیں
سندھ اسمبلی نے آرمز ایکٹ 2013 پاس کیا تو اسی وقت ہی خدشات شروع ہوگئے تھے لیکن چند روز سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ وزیراعلٰی سندھ اور ملٹری ادارے عدلیہ پر دباؤ بڑھارہے ہیں  
حالانکہ پولیس کی جانب سے شہادتیں ضائع کرنے سندھ حکومت کے شعبہ فرانسسک کی نااہلی سہولیات کے فقدان اور رینجرز کی جانب سے بطور گواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کے خلاف کیسز کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ملزم رہا ہوجاتے ہیں
اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیئے۔اس پر کوئی دو رائے نہیں پائی جاتی ہیں لیکن جس طرح کراچی میں   آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی
لاء سوسائٹی پاکستان نے کراچی میں شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بعد کراچی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر کراچی بار کے شہدائے پنجاب ہال میں 4 فروری 2014  دوپہر 2 بجے  اس حوالے ایک سیمینار منعقد کیا ہے جس کا مقصد آرمز ایکٹ 2013 اور ڈسٹرکٹ عدلیہ کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرنا ہے
سیمینار سے سینئر وکلاء   اورسید وقار شاہ ایڈوکیٹ خصوصی  طور پر  آرمز ایکٹ 2013 کے حوالے سے نہ صرف اپنی تحقیق بلکہ کراچی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی گفتگو کریں گے
کراچی بار کے جنرل سیکرٹری محترم خالد ممتاز کا بھی خصوصی خطاب ہوگا  اور وہ یقیناً بار کی پالیسی واضح کریں گے

آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ 4 فروری 2014 دوپہر 2 بجے کراچی بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اس پروگرام میں ضرور شرکت کریں 
Post a Comment