Tuesday, 14 January 2014

ہم ذبح کرتے ہیں وہ جھٹکا دیتے ہیں کمرشل اسلام



کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں چند سال قبل ایک مذہبی تنازعے کا مقدمہ پیش تھا ۔تنازعہ یہ تھا کہ ایک 
علاقے   میں تین مساجد تھوڑے فاصلے پر ے تھیں   ان مساجد کے پلاٹ حکومت  نے علاقے کی آبادکاری کے وقت  الاٹ کیئے تھےلیکن ایک جامع مسجد سے چند قدم ہی کے فاصلے پر  ایک مولانا صاحب نے پلاٹ خریدا اور مسجد کی تعمیر شروع کردی مجھے یاد ہے کہ 2007 میں وہ پلاٹ پچیس لاکھ نقد سکہ رائج الوقت  ادا کرکے خریدا گیا  جب مسجد کے سامنے ہی ایک اور مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی افراد کے شدید اعتراض کے بعد بیرونی عناصر کی آمد کے بعد جھگڑا بڑھ گیا  اور بڑھتے بڑھتے  فائرنگ شروع ہوگئی   پلاٹ سیل کردیا گیا مقدمہ عدالت میں پہنچا ۔خیر مولانا تجربہ کار تھے عدالت کا بجٹ بھی مخصوص کیا ہوا تھا ۔مقامی رہایئشیوں نے بہت شور شرابہ ڈالا کہ  اس علاقے میں پہلے ہی تین مساجد موجود ہیں  اور تینوں مساجد کے پلاٹ حکومت نے کالونی کی آباد کاری کے وقت سرکاری طور پر الاٹ کیئے تھے اس لیئے  مسجد وہاں بنانی چاہیئے جہاں مسجد کی ضرورت ہو یہاں اسپتال کی ضرورت ہے اسکول کی ضرورت ہے اگر مولانا کو نیکی کاکام ہی کرنا ہے تو کوئی اور نیک کام کریں لیکن مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ میں یہاں نیکی کاکام کرنا چاہتا ہوں اور یہ شرپسند مجھے روکنا چاہتے ہیں خیر چند دن بعد ایک خصوصی آرڈر کے تحت  "پلاٹ" کی سیل توڑ دی گئی اور مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی گزشتہ دنوں میرا وہاں جانا ہوا تو مسجد کے رقبے میں کافی توسیع ہوگئی تھی ۔اسی طرح ہمارے کچھ عزیز پنجاب کالونی میں رہتے ہیں ان کی عقبی گلی ڈیفنس میں کھلتی ہے  ان کے پاس  ایک مولانا صاحب گزشتہ برس تشریف لائے  ان کو پلاٹ کی منہ مانگی قیمت ادا کی اور قیمت ادا کرنے کے بعد ان کا پلاٹ   خرید لیا   اور تین دن کے اندر اندر ہیوی  سائز لاؤڈ اسپیکر مکان پر نصب کرکے  مکان کومسجد میں بدل دیا گیا حالانکہ وہاں بھی مساجد کی کوئی کمی نہیں تھی

پاکستان میں سب سے برا سلوک اسلام کے ساتھ ہوا ہے اسلام کو مکمل طور پر ایک کمرشل مذہب میں تبدیل کردیا گیا ہے  قیمتی علاقوں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے پلاٹ خرید کر مساجد کی تعمیر جاتی ہے اور  گراؤنڈ فلور پر دکانیں بنا کر صرف دکانیں ہی فروخت کرکے  ساری "انویسٹمنٹ" بمع منافع وصول کرلی جاتی ہے   ایسی مساجد میں کوئی کمیٹی وغیرہ نہیں ہوتی کرتا دھرتا مولانا صاحب ہی ہوتے ہیں  اور وہ کسی کو بھی حساب کتاب دینے کے پابند نہیں ہوتے
اسی طرح کراچی میں کچی آبادی کے تحفظ کیلئے مذہب  کا استعمال کیا جاتا ہے
جس طرح سیکورٹیز ایجنسیز ہوتی ہیں اسی طرح ایک صاحب نے  کراچی میں  ادارہ بنا رکھا ہے جو مساجد  میں مولوی بھیجتے ہیں جن کو معمولی تنخواہ  اور رہایئش دی جاتی ہے اور تین ماہ بعد ان کا تبادلہ  دوسری مسجد میں  کیا جاتا ہے تاکہ وہ مسجد میں اپنا اثرورسوخ  بنا کر "قبضہ" ہی نہ کرلیں  اس کے علاوہ ان کے پینل پر مختلف فیکٹریوں کی مساجد بھی ہیں  اسی طرح جمعہ کی نماز پڑھانے والے الگ ہوتے ہیں اور ان کو بھی کسی جگہ مستقل طور پر نہیں بھیجا جاتا
ہمارے ہاں حاجیوں کو کمرشل حج کروائے جاتے ہیں  اور اکثر اوقات اسلام میں کمرشل ازم لانے والے لوگ 
حاجیوں کے پیسے ہی لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں

پاکستان میں  کمرشل اسلام کے علمبردار اسلام کے نام پر سرمایہ کاری کرواتے ہیں اور آخر میں 8000 غریب لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں  اور مفتیان کے فرار کے بعد مدارس ایک چھوٹی سی وضاحت کردیتے ہیں کہ یہ ان کا ذاتی فعل تھا  جبکہ گرفتار مفتیان گرفتاری کے بعد وکٹری کا روایتی نشان بناتے ہیں
پاکستان میں سودی بینکاری کا نام بدل کر اسلامی بینکاری رکھ دیا جاتا ہے اور چند علماء قسم کے   لوگ کمرشل سودی بینکوں سے خالص ترین سود سے لاکھوں روپے تنخوا بٹور کر فایئو اسٹار ہوٹلوں میں اپنے  لیپ ٹاپ پر "پریزینٹیشن" پیش کرتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کیا ہے اور جب عوام کے سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں " ہم ذبح کرتے ہیں وہ جھٹکا دیتے ہیں" بس اتنا ہی فرق ہے اسلامی اور سودی بینکاری میں
پاکستان میں اسلام کو جس طریقے سے کمرشل کردیا گیا ہے اب بھی درجنوں شعبہ جات ایسے ہیں جن کا ذکر کیا جائے تو شاید لوگ یقین نہ کریں خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران جس طریقے سے ٹی وی چینلز نے مل کر رمضان اور اسلام کے ساتھ جو کمرشل سلوک میڈیا نے کیا اس کو پاکستانی عوام کبھی نہیں بھول سکتے

صفی
Post a Comment