Monday, 6 January 2014

لاء سوسائٹی پاکستان کیلئے میرا آخری بلاگ

لاء سوسائٹی کے  فیس بک  کےصفحے پر میرا یہ آخری بلاگ ہے۔
آزاد عدلیہ کسی بھی صورت میں  بدعنوان حکومت کے مفاد میں  نہیں ہوتی ۔ایک بدعنوان حکومت کو ایسی عدلیہ کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی کرپشن پر آنکھیں بند کرلے۔ اس کے بدلے میں حکومت عدلیہ کو بدعنوانی کے پھرپور مواقع فراہم کرتی ہے اور عدالتیں ان مواقع سے بھرپور فوائد حاصل کرتی ہیں۔  جیسا کہ مصر ،لیبیا اور ماضی قریب میں پاکستان  جہاں فوجی آمریت کو ہمیشہ عدلیہ نے تحفظ فراہم کیا اور ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا جب عدلیہ اور بدعنوان حکومت کا راستہ ایک ہوجائے توحکومت عدلیہ کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتی۔ اس کے بدلے عدالتیں بھی حکومت کیلئے کوئی مسائل پیدا نہیں کرتی ہیں ۔ لیکن جب عدلیہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرے تو حکومت  عدلیہ میں ہونے والی کرپشن کے حوالے سے ثبوت کے زریعے  بلیک میلنگ کرتی ہے۔جس کے بعد اکثر کچھ مزید لین دین کے بعد معاملات چل پڑتے ہیں۔کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال آزاد عدلیہ کے راستے میں ایک اہم رکاوٹ ہے ۔اگر عدلیہ کا اپنا دامن صاف ہوگا تو وہ بے خوف ہوکر فیصلے کرے گی
پاکستان میں عدلیہ کی بحالی کے بعد بظاہر ایک نئی عدلیہ نے جنم لیا۔لیکن عادتیں وہی پرانی ہی رہیں  جو کہ ختم نہیں ہوسکتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ جان جاتی ہے تو عادت جاتی ہے۔ بعض اوقات بدعنوانی کو بدعنوانی ہی نہیں سمجھا جاتا اور اکثر اوقات بدعنوانی ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ سندھ اور اسلام آباد ہایئکورٹ  میں بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال  مزاج کا حصہ بن گئی ہے (کے پی کے،بلوچستان اور پنجاب کا ہم مشاہدہ نہ کرسکے) اور عوام نے بھی اس  حق کو قبول بھی کرلیا ہے۔جب عوام کو اعتراض نہیں تو  کسی کو کوئی حق نہیں کہ ان کے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال  جو ہماری خاموشی کی وجہ سے ان کا حق بن چکی ہے کو روک سکے۔
ہم کسی حدتک کامیاب رہے۔بلاگ مسائل پر بات کرتا رہا اور مزید مسائل پیدا کرتا رہا۔ لیکن ہم  کسی سے ان کا حق چھین نہیں سکتے ۔ اس وقت سندھ ہایئکورٹ میں  ایک اہم پٹیشن زیر غور ہے جس کا تعلق  اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہے۔ یعنی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تعیناتی کے دوران صوبائی سلیکشن بورڈ  جو پانچ جسٹس  پر مشتمل ہے نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے زریعے بددیانتی کی اور قوم کو دھوکہ دیا ۔عدالتیں عموماً ایسے مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتی ہیں
جیسا کہ اصغر خان کیس  اس کی بہترین مثال ہے  
اسی طرح کا ایک اور مقدمہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان  نے اسلام آباد ہایئکورٹ میں ہونے والی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال  کے خلاف داخل کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس آئینی پٹیشن کا نمبر 01/2014 ہے یعنی   عدلیہ کے لیئے سال نو کا  آغاز ہی غلط ہوا ہے
عدالتیں اس قسم کے مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتی ہیں ۔کیونکہ کرپشن اور  اختیارات کا ناجائز استعمال عدلیہ کا بنیادی حق ہے اور یہ ناجائز حق  پاکستان میں ہم سب نے ان کو دیا ہے۔ ویسے بھی اسلام آباد ہایئکورٹ میں ہونے والی کرپشن کا تعلق سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی ہے  اور بنچ کا ایک اہم طاقتور ممبر  بھی اس میں ملوث ہے۔  جبکہ بنچ کے ایک اور ممبر نے سندھ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز کی تعیناتی کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال  کے بعد ہونے والے ردعمل  کے بعد ریفرنس سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ میں جاکر اپنی جان بچائی۔کیونکہ سندھ میں بارکونسل نےہڑتال کردی تھی
مختصر یہ کہ  یہ دواہم مقدمات  ہیں جن کا فیصلہ کبھی نہیں ہوگا۔
ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ  سندھ  میں نئے صوبائی سلیکشن بورڈ جو کہ پانچ جسٹس حضرات پر مشتمل ہے کو اختیارات کے ناجائز استعمال کرکے سول جج لگانے  میں پریشانی ہورہی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صوبائی سلیکشن بورڈ کے پانچوں جسٹس اتنے بے بس اور مجبور ہیں کہ وہ ہمارے خلاف کاروائی بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے خلاف کاروائی کے بعد ان کو وہ اصول بھی بنانے پڑیں گے جو پاکستان کی چار ہایئکورٹس بنا چکی ہیں  اپنی "ویٹو" پاور کے تحفظ  کیلئے یہ کسی بھی قسم کو توہین برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں   اور یہ کسی بھی حد  تک جاسکتے ہیں کیونکہ اب صرف صوبہ سندھ ہی وہ واحد بدقسمت صوبہ ہے جہاں عدلیہ کو میرٹ کی بجائے سلیکشن بورڈ کو اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کا پورا پورا حق حاصل ہے جہاں ججز کے سلیکشن کیلئے کوئی باقاعدہ سلیبس موجود ہی نہیں  جہاں کوئی طریقہ کار موجود ہی نہیں ہے اور یہ منصوبہ بندی صرف اس لیئے کہ وہ  پانچ جسٹس صاحبان پر مشتمل سلیکشن بورڈ کرپشن کرسکے ،دھوکہ دے سکے اپنے اختیارات کا ایک بار پھر ناجائز استعمال کرکے خود ساختہ میرٹ بنا سکے   ہماری کامیابی  یہی ہے کہ سندھ ہایئکورٹ ہمارے خلاف نوٹس لے   ہمیں سزا دے لیکن اس کے بعد  صوبائی سلیکشن بورڈ کی ججز کی تعیناتی کیلئے  غیر اخلاقی  ویٹو پاور تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجایئگی
اگر میں برطانیہ میں عدلیہ کے خلاف ایسی بات کرتا۔ اگر میں امریکہ میں وہاں کی عدلیہ کے خلاف ایسی بات کرتا  اگر میں فرانس میں ایسی  بات کرتا  تو اس وقت کسی جیل میں سڑرہا ہوتا مہذب معاشروں میں عدالتوں  کےخلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاتی۔ لیکن وہاں عدالتوں میں کرپشن بھی نہیں ہوتی ۔کیونکہ وہاں کے عوام ان کو کرپشن کی اجازت بھی نہیں دیتے ۔عدلیہ تو دور کی بات ایک مجسٹریٹ کی دیانت داری پر سوال اٹھاتا تو میرے لیئے پوری زندگی ایسی بات ایک مسئلہ  بن جاتی
پاکستانی  عدلیہ مجھے بھی جیل میں بھیج سکتی ہے توہین عدالت کی کاروائی کرسکتی ہے لیکن اس کیلئے ان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے جولکھا جھوٹ لکھا
سچ بولنے پر توہین عدالت نہیں ہوتی لیکن  ان تمام باتوں کے باوجود ہم اپنی جدوجہد کے اس حصے  کو ختم کررہے ہیں ۔ یعنی لاء سوسائٹی پاکستان کی جانب سے میرا یہ آخری بلاگ ہے
ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور انشاء اللہ ایک ایسی عدلیہ ہمارا مقدر ہوگی جیسا کہ  امریکہ، برطانیہ،فرانس اور دیگر  ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہیں  جہاں عدلیہ تو دور کی بات ایک سول جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا اور ان ممالک نے اپنی عدلیہ کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ  تعالی ٰنے  بنائے تھے ۔ جب تک عدلیہ میں کرپشن  اور اقرباء پروری ختم نہیں ہوتی جب تک عدلیہ میں اختیارات کا ناجائز استعمال ختم نہیں ہوتا  اس وقت تک عدلیہ آزاد نہیں ہوسکتی اور ایک آزاد عدلیہ کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا
میں ایک بار پھر توہین عدالت کا جرم کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ اسلام آباد ہایئکورٹ  میں ہونے والی کرپشن کے خلاف اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے جو پٹیشن داخل کی ہے  جس کا نمبر 01/2014 ہے کا فیصلہ کرنا سپریم کورٹ کیلئے ناممکن ہوگا   
اکیسویں صدی ہے ہم بھی یہیں ہے اور آپ بھی یہیں ہیں فرسودہ نظام کی جڑیں مضبوط ہیں اس کو ختم کرنا تو دور کی بات اس درخت کو ہلانا بھی بہت مشکل ہے
دوستو اس آخری بلاگ کے ساتھ خدا حافظ

Post a Comment