Monday, 14 July 2014

ایک مجسٹریٹ نے چار بے گناہ افراد کو عدلیہ کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچالیا

گزشتہ ہفتے ذکر کیا تھا کہ ایک اقدام قتل کے مقدمے میں پولیس نے مستعدی دکھاتے ہوئے ملزمان کو اندرون سندھ سے گرفتار کیا اور کورٹ میں پیش کردیا تھا مجسٹریٹ صاحب نے اس پر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ مدعی مقدمہ ،ملزمان اور  تفتیشی پولیس افسر سب سندھ ے کے کھوسو قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں  جبکہ ملزمان نے پستول سے براہ راست وڈیرے پر فائر کیئے لیکن وڈیرے کو ایک گولی بھی نہیں لگی اسی دوران وڈیرہ قبرستان کی دیوار کے پیچھے چھپ گیا اور اپنی جان بچالی ملزمان اس کے 
پیچھے آئے لیکن وہ نہیں ملا اس دوران ملزمان مغلضات بکتے ہوئے چلے گئے
مختصریہ کہ مجسٹریٹ نے  ایس ایس پی ضلع  سینٹرل کو ہدایت کی کہ وہ نیا تفتیشی افسر مقرر کریں جوتمام سوالیہ نقاط  کے جوابات تفتیش کے دوران پیش کریں  اس حکم نامے پر عدلیہ میں بھی کافی لے دے ہوئی   کیونکہ ہماری عدلیہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ تفتیشی افسر کے ماتحت ہیں جب کہ ایس  ایس پی تو "بہت " بڑا افسر ہوتا ہے ایک مجسٹریٹ تو قانونی حوالہ لیکر آگیا کہ مجسٹریٹ تفتیش کے عمل کے دوران کوئی مداخلت  نہیں کرسکتا  یہاں تک کے ہایئکورٹ تک مداخلت نہیں کرسکتی  اگرچہ یہ بات درست ہے لیکن جہاں پولیس کسی آزاد شہری کو کسی جھوٹے کیس میں فٹ کررہی ہو وہاں کوئی قاعدہ کوئی قانون کوئی سپریم کورٹ  کا فیصلہ   کسی جج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اس کے علاوہ   وڈیرے کے پاس چار  پرایئویٹ چشم دید گواہ موجود تھے جو ایک اشارے پر کلمہ پڑھ کر گواہی دینے کیلئے تیار تھے
حیرت انگیز طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر ہوتے ہی  ٹنڈو آدم کے وڈیرے نے ایک حلف نامہ تفتیشی افسر کے سامنے پیش کردیا کہ وہ مزید کاروائی نہیں چاہتا وہ نہ ہی کوئی گواہ پیش کرے گا اور نہ ہی وہ جائے وقوعہ کی نشاندہی کرے گا اور اگر تفتیشی افسر چاہے تو ملزمان کو رہا کردے
مختصر یہ ملزمان رہاکردیئے گئے اور وہ پولیس کے شکنجے سے اس لیئے بچ گئے کہ مجسٹریٹ نے پہلے دن ہی پولیس کی چوری پکڑلی تھی  اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ملزمان عدالتوں میں ہی ذلیل ہوجاتے جس طرح کہ ہماری عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اس قسم کے مقدمات میں ملزمان ذلیل ہونے آتے ہیں
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اس قسم کے جھوٹے جعلی مقدمات سٹی کورٹ میں جو ہماری عدلیہ پائی جاتی ہے اس کے ماتھے کا جھومر ہیں  اور صرف اقدام قتل کے مقدمات جن میں فائرنگ تو ہوتی ہے لیکن مدعی مقدمہ مجال ہے جو ذخمی ہوجائیں یا معمولی خراش بھی ان  کو پہنچ جائے
وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ جب پولیس کسی ملزم کو پکڑ کر عدالت میں لاتی ہے تو مجسٹریٹ بہت ہی  کم  "کامن سینس" استعمال کرتے ہیں  زیادہ تر پولیس کی رپورٹ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں
اسی دوران ایک مجسٹریٹ صاحب کی عدالت میں پیش ہوا تو اس نے کہا کمال ہے اس  مدعی مقدمہ کے پاس چار گواہان موجود تھے جن کے سامنے یہ وقوعہ پیش آیا اس کے باوجود ملزمان کی رہائی سخت ناانصافی ہے میں نے کہا چار گواہ کم ہیں چار سو لوگ بھی اس قسم کے واقعہ کے گواہ بن جائیں جو ناممکن ہو تو وہ واقعہ جھوٹا ہی ہوگا گولی کا ایک ہی اصول ہے وہ  پستول سے فائر کی جائے تو  آر پار ضرور ہوتی ہے  مجسٹریٹ نے چڑ کر کہا کہ اس اصول کے مطابق تو ہمارے سارے مقدمات جھوٹے ہیں میں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ لوگوں کے سامنے جب ملزم پیش کیئے جاتے ہیں تو صرف کامن سینس کے استعمال کے زریعے  آپ لوگ اگر تفتشی عمل پر سوالیہ نشانات  کا سلسلہ شروع کردیں تو بہت سے  بے گناہ عدالتوں میں ذلیل ہونے سے بچ جائیں
مجسٹریٹ نے کہا کہ پھر تو عدالتیں ہی بند کردینی چاہیئں میں نے کہا جو عدالتیں عوام کی عزت اور ان کی آزادی کا تحفظ نہ کرسکیں تو ان کو بند ہی کردینا زیادہ مناسب ہوگا یہ میری مختصر پیشہ ورانہ زندگی کا عجیب وغریب واقعہ ہے کہ  چار غریب افراد کو  ایک مجسٹریٹ نے عدلیہ کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچالیا ایک ایسا اندھا کنواں جہاں سے واپس باہر نکلنا بہت ہی مشکل ہے ناممکن کی حد تک مشکل


Post a Comment