Thursday, 10 July 2014

اقدام قتل کے جھوٹے مقدمات عدلیہ کا حسن ہیں

کسی کو جان سے مارنے کی نیت   سے کوشش کرنا یا قتل کی نیت سے حملہ کرنا

پاکستان کے تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک وقوعہ ناقابل یقین حد تک عام ہے یہ ایک جعلی وقوعہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ ڈھونگ رچاکر ایک مصنوعی حملہ کروایا جاتا ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے ہی گھر پر یا اپنے آپ پر یا اپنی گاڑی پر خود فائرنگ کروادی جاتی ہے وقوعہ کے گواہ قریبی عزیز واقارب ہوتے ہیں جو پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں آیا تھا اور فائرنگ کرکے چلا گیا کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا بعض اوقات دروازے یا دیوار پر گولیوں کےنشانات دکھانے کیلئے  چند گولیاں بھی ماردی جاتی ہیں  اقدام قتل کے ایسے تمام مقدمات جن میں کوئی زخمی نہیں ہوتا ایسے تمام مقدمات ہی جعلی اور پلانٹڈ ہوتے  ہیں
عدالتوں کی آدھی سے زیادہ رونق اس قسم کے جھوٹے مقدمات  کی وجہ سے ہے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے 22
 اے کے زریعے بھی ایف آئی آر رجسٹر کروائی جاتی ہے
گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضٰی میتلو کے سامنے ایک سندھی وڈیرے کا مقدمہ آیا جس میں اس وڈیرے نے اپنے ہی گاؤں   کےایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ مل کر ایک مشکوک نوعیت کا مقدمہ قائم کیا جس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چار افراد نے مل کر اس  وڈیرے کو جان سے مارنے کی نیت سے کراچی کی ایک سڑک پر فائرنگ کی لیکن وہ خوش نصیب شخص محفوظ رہا جس کے بعد پولیس نے  فوری طور پر مقدمہ قائم کرکے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو ٹندو آدم سے جاکر گرفتار کیا  اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا مجسٹریٹ صاحب نے مکمل روداد سنی اور سننے کے بعد متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو عدالت کے تحفظات اور کسی اور تفتیشی افسر سے تفتیش کروانے کا کہا ایس ایس پی نے فوری طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر کردیا ہے جو بہت جلد اپنی رپورٹ پیش کردے گا اس بوگس مقدمے  کی سماعت کا مجھے انتظار ہے
آگے کیا ہوگا اس کا مجھے بالکل نہیں پتا کیونکہ کچھ عرصہ ہوا میں ڈسٹرکٹ کورٹس نہیں جاتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر انسان کے پاس رزق کا متبادل زریعہ ہوتو ڈسٹرکرکٹ کورٹس  میں پریکٹس بالکل بھی نہیں کرنی چاہیئے  یہاں سخت مجبوری کے علاوہ آنا بھی نہیں چاہیئے ۔  یہ ظلم اور بربریت کی جگہ ہے یہاں آتے ہی انسانیت دم توڑدیتی ہے کیونکہ یہاں آج بھی اقدام قتل کے ایسے ہی مقدمات پیش ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ایف آئی آر چالان کاپی سپلائی فرد جرم گواہی ہڑتال تاریخیں اچھا چار سال گزرگئے نیا صاب آگیا  یہ کس گدھے نے چالان منظور کیا تھا
 صاب وہ خیرپور والا  جج تھا اس نے  چالان منظور کیا تھا
اس کو کیا پتہ قنون کیا ہوتا ہے بلاوجہ غریب کے چار سال برباد کردیئے جاؤ بابا ان کو بری کرو ختم کرو کیس
یہ کس مقدمے کا چلان ہے صاب اقدام قتل کا اچھا گواہ سب پرایئویٹ ہیں چالان منظور دستخط ٹھوکا اور مقدمہ سماعت کیلئے تیار چار سال گزرگئے نیا جج آگیا

یہ کس گدھے نے چالان منظور کیا تھا۔۔۔بیچارے غریب چار سال سے دھکے کھارہے ہیں ۔۔مقدمہ بری
Post a Comment