Sunday, 20 July 2014

کیا عدلیہ تفتیش میں مداخلت کرسکتی ہے

ہمارے سامنے ایک بہت بڑی  مثال موجود ہے جس کے ذریعے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکتی ہے  لندن میں رہائیش پذیر ایک پاکستانی شہری پر  ایک پاکستانی نژاد شہری ڈاکٹر عمران فاروق  کے قتل کا الزام ہے اسکاٹ لینڈ یارڈ اس معاملے کی تحقیق کررہا ہے لیکن انہوں نے آج تک اس پاکستانی شہری کو جو ایک سیاستدان بھی ہے کو اس کیس میں گرفتار نہیں کیا۔ بلکہ صرف تفتیش کی ہے وہ بھی مقررہ وقت کے اندر معاملہ عدالت تک نہیں گیا لیکن  لندن پولیس نے اس پاکستانی شہری کو لندن شہر  سے باہر جانے پر پابندی لگادی ہے نہ ہی وہ ملک چھوڑ کر جاسکتا ہے پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بیان کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کرنے والے تھے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ان کی فیس بک کی آئی ڈی پر بے شمار رابطے موجود تھے وہ اپنی سابقہ سیاسی جماعت چھوڑ چکے تھے اسی تفتیش کے عمل کے دوران مذکورہ سیاسی رہنما کے گھر  قانونی تقاضے پورے کرکے چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے بہت بھاری مقدار میں کرنسی برآمد ہوئی جس کی وجہ سے وہ منی لانڈرنگ  کیس کا  الگ سے سامنا کررہے ہیں پولیس کو تفتیش کرنے سے چھاپے مارنے سے عدالت نے آج تک نہیں روکا کیونکہ پولیس قانونی تقاضے پورے کرکے تفتیش کررہی ہے اس لیئے کسی عدالت کو حق نہیں پہنچتا کہ تفتیش میں مداخلت نہ کرے اور ڈاکٹر عمران کی بیوی کا کردار بھی ایک گواہ کا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں
یہ ایک اعصاب شکن قانونی جنگ ہے اور پولیس نے پاکستانی نژاد سیاستدان کو اعصابی طور پر توڑ کے رکھ دیا ہے  تفتیش جاری ہے اور پولیس کو ایسے ثبوت کی تلاش ہے جس کے ذریعے وہ  ملزم کو سزا  دلواسکے عدالت پولیس کو حکم نہیں دے سکتی کہ اس شہری کو بیرون ملک جانے دیا جائے  یا گرفتار کیا جائے اگر برطانوی عدالت ایسا حکم جاری کرتی ہے تو  ایسا حکم تفتیش میں مداخلت تصور ہوگا اور عدالت کو تفتیش میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں  پولیس کافی محتاط ہے وہ صرف تفتیش کرتی ہے گرفتار نہیں کرتی پولیس شواہد تلاش کررہی ہے ملزم تو سامنے موجود ہے سارا زور ملزم کی گرفتاری پر نہیں ہے بلکہ شواہد کی تلاش پر ہے پولیس نے کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا نہ ہی کسی کیمرے والے کی جرات ہے کہ وہ تفتیشی افسر کے سامنے اپنا کیمرہ  اور مائک رکھ کر اس سے تفتیش شروع کرسکے کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی نیوز چینل والا اسکاٹ لینڈ یارڈ کے  اندر کیمرہ لیکر چلا جائے اور کیس کے تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کرسکے اور اس کی "دھلائی" کرسکے کہ ملزم کو کیوں نہیں گرفتار کیا گیا
پاکستان میں کیا ہوتا ہے ملزم پہلے گرفتار کرلیئے جاتے ہیں ثبوت بعد میں تلاش کیئے جاتے ہیں  فرض کیا ایک لڑکی گھر سے غائب ہوگئی یا اغوا ہوگئی والدین نے نامعلوم افراد کے خلاف  ایف آئی آر داخل کروادی پولیس  نے تفتیش کی  ایک شخص کو تفتیش میں شامل کیا گیاپولیس تفتیش24 گھنٹے میں مکمل نہ کرسکی تو اس کا ریمانڈ لینے کیلئے کورٹ پہنچ گئی یہاں ہرصورت میں پولیس کو عدالت کے سامنے وہ وجوہات بیان کرنی ہونگی جن کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا گیا اس سے تفتیش کی گئی تھی اور اب وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ملزم کو باقاعدہ گرفتار کیا جاچکا ہے وہ کونسے شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں جن کی بنیاد پر گرفتاری کی گئی پولیس پابند ہے عدالت کے سامنے وہ وجوہات بیان  کرنے کی جن کی بنیاد پر ایک شخص کو اس کی شخصی آزادی سے محروم کیا جاچکا ہے مجسٹریٹ کا یہ سوال ہرگز تفتیش میں مداخلت تصور نہیں ہوگا کیونکہ یہ بنیادی سوال ہے جو لندن کی عدالت  میں بیٹھا ہوا مجسٹریٹ ،امریکہ فرانس اور ہر ترقی یافتہ ملک کا مجسٹریٹ  کسی شخص کو اس شخصی آزادی سے  محروم کرنے سے پہلے پولیس سے پوچھتا ہے کہ وہ وجوہات بتاؤ کہ جس کی  بنیاد پر اس شخص  کو گرفتار کیا گیا ہے یہ کامن سینس پر مبنی سوال ہرگز تفتیش میں مداخلت نہیں ہے۔مداخلت یہ ہے کہ فلاں شخص کے خلاف ثبوت موجود ہے اس کو گرفتار مت کرنا فلاں شخص سے اس کیس کے حوالے سے تفتیش مت کرو بلکہ فلاں کو گرفتار کرو
مداخلت کا تصور ہی غلط ہے  ہمارے وکلاء اور ججز کریمنالوجی نہیں پڑھتے جس کی وجہ سے ان کا بنیادی نقطہ نظر ہی کلیئر نہیں ہوتا  تفتیش کے بنیادی اصول نہایت گہرے ہیں نہایت ہی پیچیدہ ہیں ان کو سمجھنے کیلئے خدادا صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ثبوت کے بغیر ملزم کی گرفتاری سے مقدمہ کمزور ہوجاتا ہے تفتیش تباہ وبرباد ہوجاتی ہے لیکن اگر ان اصولوں کی سوجھ بوجھ نہ بھی ہوتو کامن سینس کا استعمال بھی اہم ہوتا ہے  
بعض اوقات تفتیش سالہا سال جاری رہتی ہے لیکن جب ملزم کو شخصی آزادی کو پولیس سلب کردیتی ہے تو پولیس کیلئے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر مجسٹریٹ کی عدالت میں پولیس رپورٹ جمع کروائے  جس کی وجہ سے بھی تفتیش کا عمل تباہ و برباد ہوجاتا ہے کیونکہ پولیس گرفتاری کے بعد ثبوت تلاش کرتی ہے دوسرا ہمارا کلچر بن چکا کہ ہمارا میڈیا کیسز پر اثرانداز ہوتا ہے پولیس بھی بدعنوان ہے   اگر عمران فاروق کا قتل پاکستا ن میں ہوتا تو میڈیا کی ساری توجہ گرفتاری پر ہوتی ملزم گرفتار ہوتا  اس کا ریمانڈ ہوتا اسی دوران اس کو جیل بھیج دیا جاتا چند روز بعد اس کی ضمانت ہوجاتی  اس دوران  پولیس کیلئے لازمی ہوجاتا کہ  وہ پولیس رپورٹ کورٹ میں جمع کروادیں جس کے بعد پورا کیس ہی ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتا  پولیس روایتی قسم کے گواہ پکڑ کر لے آتی جو دوران  ٹرائل کے دوران منحرف ہوجاتے معاملہ ہی ختم  اسی دوران عدالت پر الزام لگا دیئے جاتے کہ اس نے ملزم کو چھوڑ دیا رہا کردیا  لیکن عدالت مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک بنیادی غلطی کرکے بیٹھی ہوتی ہے کہ اگر مشینی انداز میں ریمانڈ نہ دیئے جائیں تو پولیس ثبوت  کے بغیر ملزم گرفتار ہی نہیں کرے گی پولیس کو تفتیش سے کس نے روکا ہے وہ تفتیش کرے بار بار کرے ملزم کے خلاف ثبوت تلاش کرکے لائے اور جب  ایسے ثبوت جمع ہوجائیں تو ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردے عدالت چاہے تو ملزم کو ضمانت پررہا کردے جیسا کہ  پوری دنیا میں ہوتا ہے سارا زور ٹرائل پر ہونا چاہیئے نہ کہ ملزم کو جیل میں سڑانے پر
یہاں کسی بنیادی اصلاح کی بھی ضرورت نہیں ہے تفتیش کے دوران جدید تیکنیکس اپنانے  کی بھی ضرورت ہے جب ملزم پر چارج فریم کردیا جائے تو اس کا مطلب یہی ہونا چاہیئے کہ ایسی شفاف تفتیش ہوئی ہے کہ ملزم کا سزا سے بچنا ناممکن ہے
ملزمان کی عدالتوں سے رہائی کا رجحان بہت ہی زیادہ ہے 97  فیصد کیا یہ بات ثابت نہیں کرتا کہ جو فرد جرم عائد کی گئی وہ بے جان تھی
جب تک فرد جرم جاندار نہیں ہوگی اس وقت تک ملزم کو سزا نہیں مل سکتی اور فرد جرم میں جان کیسے آئے گی جب مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ پیش کیا جائے گا تو وہ  اس شخص کی شخصی آزادی ختم کرنے سے پہلے اس کو جیل ریمانڈ یا پولیس ریمانڈ پر بھیجنے سے پہلے  وہ ساری مناسب وجوہات قلمبند کرے گا جن کی وجہ سے اس شخص کو جیل بھیجنا ضروری تھا
یہاں میں یہ بات اضافی طور پر لکھ دوں کے پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنز میں قدیم عدالتیں اور بار کی لایئبریریوں میں قانون کی قدیم  کتابیں اور عدالتی فیصلہ جات موجود ہیں   اگر کسی طالبعلم کو موقع ملے تو مطالعہ کرے  نہایت ہی باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا تھا کہ عدالت کے سامنے جب تک وہ مناسب وجوہات موجود نہیں ہونگی اس وقت تک کسی بھی شخص کو پولیس ریمانڈ یا جیل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
کامن سینس کا استعمال ہر گز تفتیش میں مداخلت نہیں ہے عدلیہ کی جانب سے تفتیش میں مداخلت کا لفظ ہی غلط ہے  پولیس افسر  پابند ہے کہ وہ مناسب وجوہات بیان کرے جن کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا گیا اور مجسٹریٹ بھی جیل بھیجتے وقت یا حراست پولیس کے حوالے کرتے وقت  اگر وہ مناسب وجوہات لکھ دے تو جن کی بنیاد پر کسی شخص کی شخصی آزادی سے محروم کرکے اس کو قید میں رکھنا ضروری تھا تو کافی مسائل حل ہوجائیں جب فرد جرم  مضبوط ہوگی اور شواہد ٹھوس ہونگے تو ملزم کیوں نہیں کیفر کردار تک پہنچے گے
جب برطانیہ جیسے ملک میں جہاں اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسی  دنیا کی نمبر ون تفتیشی  ایجنسی کی موجودگی میں ایک قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا تو پاکستان میں بھی ضروری نہیں کہ کسی شخص کو گرفتار کیا جائے  وہ بھی شواہد کے بغیر
عدلیہ کی تفتیش میں مداخلت ایک قدیم بحث ہے ترقی یافتہ ممالک نے اس بحث پر قابو پا کر  اپنے عدالتی نظام کو اس بنیاد پر استوار کرلیا ہے کہ جب عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کردی جائے تو ملزم کسی صورت سزا سے بچ نہیں سکتا

جب کہ ہم اس بحث میں الجھ کر 97 فیصد کیسز میں ملزمان کی رہائی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں


Post a Comment