Saturday, 21 December 2013

صوبہ سندھ کا ججز کی تعیناتی کا صوبائی سلیکشن بورڈ کا مطالبہ اور پانچوں ممبران کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا مطالبہ

صوبائی سلیکشن بورڈ صوبہ سندھ نے 2013 میں 3 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منتخب کیئے جن میں سے دو ایسے امیدوار منتخب کیئے گئے جو سندھ جوڈیشل رولز کے مطابق بطور امیدوار امتحان میں شرکت کی بھی اہلیت نہیں رکھتے تھے
چیف جسٹس پاکستان محترم تصدق حسین جیلانی سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سارے معاملے کا نوٹس لیں اس کی خود انکوائری کروایئں اور اس معاملے میں صوبائی سلیکشن بورڈ نے غلط سفارشات بھیج کر حکومت سندھ کے ساتھ 1994 کے جوڈیشل رولز کی خلاف ورزی کرکےدھوکہ اور فراڈ کیا ہے اس کے علاوہ  4 انتہائی اہل امیدواروں کی جگہ نااہل امیدواروں کو جج تعینات کیا گیا ہے اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو چیف جسٹس پاکستان سے گزارش ہے کہ   دیگر  وہ فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دے کر معاملے کی مکمل انکوائری کروایئں اور اگر الزام ثابت ہوں تو صوبائی سلیکشن بورڈ کے خلاف رجسٹرار سندھ ہایئکورٹ کی مدعیت میں صوبائی سلیکشن بورڈ کے پانچوں ممبران کے خلاف ایف آئی آر رجسٹرڈ کروا کر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ان کے خلاف کاروائی کی جائے چیف جسٹس صاحب اس معاملے میں بااثر افراد ملوث ہیں  اور صوبہ سندھ میں بار کونسل کی طرف سے ایک پریس کانفرنس اور عدالتی ہڑتال بھی ہوچکی ہے
چیف جسٹس پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ صوبہ سندھ کا صوبائی سلیکشن بورڈ فوری طور پر توڑنے کا اعلان کریں  اور اس معاملے کی انکوائری کرایئں کہ جب پاکستان کی چار ہایئکورٹس ججز کی سلیکشن کیلئے  سلیبس اور رولز بناچکے ہیں تو سندھ ہایئکورٹ نے کیوں نہیں بنائے اس لیئے فوری طور صوبائی سلیکشن بورڈ کو توڑنے اور دیگر ہایئکورٹس کی طرح سلیبس اور رولز تشکیل دینے کے بعد سول ججز کے انٹرویو ز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ  سیشن ججز کے امتحانات منعقد کیئے جایئں
چاروں ہایئکورٹس میں ججز کی تعیناتی کے مکمل رولز،تفصیلی سلیبس اور انٹرویو کے نمبر تفصیلات  سے موجود ہیں ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں جبکہ سندھ میں ذاتی مرضی کی بنیاد پر سلیکشن ہوتی ہے  لیکن اب انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا


Post a Comment