Thursday, 5 December 2013

پولیس اسٹیٹ پاکستان


یہ دو مہینے پرانا واقعہ ہے
کراچی کے ضلع وسطی کا ایک طالب علم گھر سے  فوٹو کاپی کرانے موٹرسائیکل پرنکلتا
 ہے ۔اور گھر واپس نہیں آتا گھر والے تلاش کرتے ہوئے تھانے تک پہنچ جاتے ہیں اور روزنامچے میں اندراج کروادیتے ہیں اپنے بچے کی گمشدگی کا کہ ان کا بچہ لاپتہ ہوگیا کچھ دیر بعد اینٹی کار لفٹنگ سیل کی جانب سے کال آتی ہے بچہ ان کی تحویل میں ہے اہل خانہ تڑپ کر تھانے پہنچتے ہیں تو پولیس کی وردی میں ملبوس "اغواءکار پانچ لاکھ روپیہ "تاوان" دینے  کا مطالبہ کردیتے ہیں اہل خانہ جب رقم کا انتظام نہیں کرپاتے تو 491 ضابطہ فوجداری کے تحت پٹیشن فائل کردیتے ہیں کورٹ کا بیلف جاتا ہے تو وہاں ایک کی بجائے دو افراد کو غیرقانونی حراست میں رکھا گیا ہوتا ہے ان نوجوانوں پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوتا بیلف رہا کرتا ہے اور دوسرے دن جب معاملہ سیشن کورٹ تک آتا ہے تو سیشن کورٹ کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے بھگا دیا جاتاہے  پولیس کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ ان افراد کے پاس  موٹرسائیکل  کےکاغذات نہیں تھے  انجن نمبر،چیسس نمبر اور رجسٹریشن نمبر کی جانچ پڑتال فرانسسک ڈیپارٹمنٹ سے کروائی گئی ہے تو وہ درست ثابت ہوئے ہیں بدقسمتی دیکھ لیں کہ سیشن جج  نے نہ تو پولیس اہلکاروں کو کوئی سزا دی اور نہ ہی بچے کو اس کی موٹر سائیکل واپس کی
کچھ دن بعد وہی بچہ موٹر سائیکل واپسی کی درخواست  اپنے علاقہ مجسٹریٹ کے پاس دائر کرتا ہے تو وہی پولیس افسر جس نے  491 ضابطہ فوجداری کی کاروائی کے دوران تسلیم کیا ہوتا ہے کہ موٹرسائیکل کا انجن نمبر،چیسس نمبر اور رجسٹریشن نمبر فرانسسک ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق کروائے گئے ہیں وہ علاقہ مجسٹریٹ کو ایک نئی رپورٹ دیتا ہے کہ نمبر مٹے ہوئے ہیں اور جعل سازی کی گئی ہے خیر موٹرسائیکل تو بچے کو واپس مل ہی گئی  اور ممکن ہے کہ عدالت سرکش پولیس افسر کے خلاف مقدمہ بھی قائم کردےلیکن یہ واقعہ بہت سے سوالات چھوڑ جاتا ہے کہ سیشن جج کی کیا ذمہ داری تھی  کیا موجودہ بگڑے ہوئے حالات میں صرف ڈانٹنے سے کام چل جائے گا
گزشتہ دنوں احمد صبا صاحب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کا واقعہ لکھا تھا جنہوں نے ایک 15 دن کے بچے کی برآمدگی کیلئے حکم جاری کیا  اور تھوڑی سی توجہ دیکر برآمد کروا بھی لیا   اسی طرح گزشتہ مہینے  (اے وی سی سی )کے آفس سے اس وقت کے سیشن جج ساؤتھ  غلام مصطفی میمن کے حکم پر  لوگوں کو برآمد کیا گیا جس کے بعد ایس ایس پی سمیت اعلی افسران کو بلوایا گیا تھا اس واقعے میں بھی سیشن جج نے ایک سخت رویہ اختیار کیا اور تاحال معاملہ لٹکا ہوا ہے
پولیس کی خفیہ ایجنسیاں کہتی ہیں کہ بیلف کے چھاپے تفتیش کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں  کیونکہ (اے وی سی سی) سےبرآمد کیئے گئے افراد "اغواء برائے تاوان" کی واردات میں ملوث تھے جو رہا ہوگئے ہیں جناب معاملہ بالکل صاف ہے پولیس قاعدے قوانین کی پابندی کرے اور کسی بھی ملزم کو گرفتار کرکے اس کی گرفتاری ظاہر کردے اور عدالت میں پیش کرے جب پولیس قانون کے مطابق  گرفتاری ظاہر نہیں کرتی تو اس کے نقصانات تو ہونگے
لیکن اصل حقائق تلخ ہیں پورا پاکستان حقیقی معنوں میں پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے پولیس شہریوں کے اغوا کے درپے ہے پولیس ہرروز شہریوں کو اغوا کرتی ہے غیرقانونی طور پر حراست میں رکھتی ہے اور تاوان وصول کرکے چھوڑ دیتی ہے اور روزانہ ایسے ایک دو نہیں سینکڑوں واقعات  صرف کراچی میں پیش آرہے ہیں جب کے عدلیہ روایتی طریقے سے کام کررہی ہے جو کہ اب غیر مؤثر ہوچکے ہیں مجموعی  طور پر صورتحال عدلیہ کے قابو سے باہر ہوچکی اور پاکستان پولیس اسٹیٹ بن چکاہے

https://www.facebook.com/notes/tls-pakistan/%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%DB%8C%D9%B9-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/735541219806781
یہی وجہ ہے کہ لاء سوسائٹی پاکستان 2014 کو پاکستان سے غیرقانونی حراست کے خاتمے کے سال کے طور پر منارہی ہے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر 
 شروع ہونے والی مہم سارا سال جاری رہے گی
Post a Comment