Tuesday, 17 December 2013

کلمہ پڑھ کر کہو کہ میرے نام پر پیسہ تو نہیں لیا

یہ تین سال پرانا واقعہ ہے سیشن کورٹس ملیر میں  ایک ایماندار جج تھا۔ وہ تھا تو واقعی ایماندار لیکن بدقسمتی سے اس کو ایمانداری کے ساتھ ساتھ ایمانداری کا خطرناک قسم کا ہیضہ بھی تھا  وہ پوری ایمانداری سے کیس چلاتا تھا اور ایمانداری سے کیس کا فیصلہ کرتا تھا ۔جس کو باعزت طور پر بری کرنا ہوتا تھا اس کو چیمبر میں بلواتا تھا اور پوچھتا تھا  "میرے نام پر کسی کو پیسہ تو نہیں دیا۔میرے اسٹاف نے میرے نام پر پیسہ تو نہیں لیا ۔حلف اٹھا کر کہو کلمہ پڑھ کر کہو کہ تم نے میرے نام پر کسی کو پیسہ نہیں دیا" اس کے بعد اگلی تاریخ پر اس ملزم کو باعزت بری کردیتا تھا  خرانٹ قسم کے ایک اسٹاف نے اس بات کو نوٹ کرلیا اور نہایت ہی طریقے سے اب جج کے نام پر کرپشن کیسے ہوئی ملاحظہ فرمایئں
ایک دن میں ملیر گیا تو میرا ایک دوست جس کے کلایئنٹ کا کیس اسی عدالت میں چل رہا تھا وہ ایک تبلیغی قسم کے مولانا صاحب کے ساتھ تکرار کررہاتھا مولانا صاحب کی داڑھی ایک فٹ سے زیادہ لمبی تھی  وہ  مولوی صاحب کو پیسے واپس کرتا تھا جب کہ مولوی صاحب زبردستی اس کی جیب میں رقم ڈال رہے تھے نہیں یار مولانا صاحب تم اندر جائے گا زبان کھول دے گا یہ جج کا خاص پاس ورڈ ہے وہ چیک کرتا ہے کہ جو شخص رشوت دے رہا ہے وہ کل کہیں زبان نہ کھول دے مولانا کہتا تھا خدا کا قسم زبان نہیں کھولوں گا میرے دوست نے کہا وہ کلمہ پڑھوائے گا تم پر بھروسہ نہیں تم مولوی آدمی ہے تم زبان کھول دے گا تو جج ہمارا آئندہ کوئی بھی کام نہیں کرے گا  مولاناصاحب نے  منت سماجت کرکے زبردستی جج کے نام پر پچاس ہزار روپیہ دیا۔ایماندار جج صاحب نے حسب معمول مولوی صاحب کو بلوایا کہا کلمہ پڑھو مولوی صاحب نے کلمہ پڑھا جج صاحب نے کہا کلمہ پڑھ کر کہو کہ میرے نام پر کسی کو پیسہ تو نہیں دیا مولوی صاحب نے کہا نہیں  جج نے کڑک کر سچ سچ بتاؤ میرے اسٹاف نے پیش کار نے پٹے والے نے کسی نے میرے نام پر پیسہ تو نہیں لیا  مولوی صاحب نے کہا نہیں  ہم خدا کا قسم اٹھاتا ہے ہم کلمہ پڑھ کر کہتا ہے کہ تمہارے نام پر کسی کو کوئی پیسہ نہیں دیا جج نے کہا چلو جاؤ اگلی تاریخ پر آنا
مولوی صاحب  کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئےباہر نکلے کہتا ہے یار آپ کا اندر پکا سیٹنگ ہے اس خانہ خراب نے بالکل یہی باتیں پوچھی ہیں  خرانٹ اسٹاف نے کہا کرنا پڑتا ہے ایسا کل جو تم سندھ ہایئکورٹ میں جا کر درخواست دے دو پھر کیا ہوگاخیر مولوی صاحب اگلی تاریخ پر باعزت طور پر بری ہوگئے
یہ ایک حقیقت ہے کہ سندھ ہایئکورٹ کے پاس ایسا نظام موجود ہے جس کے تحت کوئی بھی جج ایک روپیہ بھی رشوت لے وہ چھپ نہیں سکتا ایماندار جج اپنی ایمانداری کے ہیضے کا خود ہی شکار ہوتا چلا گیا اس کا شمار بھی "ان" لوگوں میں ہونے لگا اس کا ریکارڈ اور عزت بھی خراب ہوئی آخر کار اندرون سندھ دور دراز شہر میں بھجوادیا گیا
ضرورت سے زیادہ ایمانداری اور ایمانداری کا اس قسم کا ہیضہ ججز کیلئے اکثر مسائل پیدا کرتا ہے جج صاحب کو چاہیئے تھا کہ وہ سیدھا سیدھا کیس چلاتا اور ضابطے کے تحت کیس چلا کر فوری فیصلہ سنادیتا اس قسم کے ڈرامے کرنے  یعنی سائل کو چیمبر میں بلوا کر کلمہ پڑھوا کر کہ میرے نام پر کسی سے رشوت تو نہیں لی اور سائلین سے ایمانداری کی "پی ایچ ڈی" کی ڈگری لینے کی ضرورت ہی کیا تھی 
صفی الدین اعوان 

Post a Comment