Sunday, 1 December 2013

فوج نے لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کو ارشد نورخان بننے سے بچالیا

 لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے سپرسیڈ ہونے پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنا استعفیٰ ملٹری سیکرٹری برانچ کو ارسال کردیا، ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے اپنے سے کم سینئر لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کئے جانے کے باعث سپرسیڈ ہونے پر عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ ذرائع کے مطابق 
سپر سیڈ ہونے پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا فوج کی روایات میں شامل ہے۔


یہ وہ خبر ہے جس پر میڈیا نے گزشتہ ایک ہفتے سے شور مچا رکھا ہے جو چیز فوج کی
 روایات میں شامل ہو وہ خبر کیسے بن سکتی ہے یہ کسی بھی فوج کی ایک اچھی روایت ہے اور اس کے پیچھے بہت بڑی حکمت ہے کیونکہ اگر جنرل ہارون استعفی نہ دیتے تو امکان یہ  ہوتا ہے کہ زخم خوردہ افسر ادارے کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے
ہماری بدقسمتی سمجھ لیں کہ پاکستان میں عدلیہ نے اس روایت کو فراموش کردیا ہے جس کی وجہ سے جب جسٹس کنفرم نہیں ہوتے تو ان کو غیراخلاقی طور پر دوبارہ سیشن جج بنادیا جاتا ہے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے سیشن جج کو جسٹس بنایا جاتا تھا تاکہ اگر وہ کنفرم نہ ہوں تو ان کو ریٹائر کردیا جائے کیونکہ سول جج سے لیکر سیشن جج  تک جج کی پروموشن ہوتی ہے اس کے بعد ایلیویٹ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ایلیویٹ ہونے کے بعد واپس سیشن جج بنانے کا اصول نہ جانے کس نے پاکستان میں ایجاد کرلیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں ایسے کسی سیاہ اصول کا نشان نہیں ملتا لیکن عدلیہ نے اب تھوڑی بہتری لائی ہے وہ یہ کہ جب سپریم کورٹ کے ایک جسٹس نے  اس طرح سے اپنی اہلیہ کو جسٹس لگوایا ہے کہ اقرباء پروری کا الزام بھی نہ لگ سکا تو عدلیہ نے دو آرڈر کیئے ہیں پہلا آرڈر  اپنے سپریم کورٹ  کے پیٹی بھائی کی اہلیہ  کا بحثیت ایڈیشنل جج تقرری کا اور دوسرا بحثیت جسٹس کنفرمیشن کا ایڈوانس آرڈر ہے  دوسرا آرڈر خفیہ ہے ججوں نے  اپنے پیٹی بھائی سےدوستی کا حق ادا کردیا ہے دوستی ہوتو ایسی یاری ہوتو ایسی  یارو یہی دوستی ہے قسمت سے جو ملی ہےاس  یاری دوستی کے دور رس نتائج ہونگے کیونکہ اس "چکر" میں کچھ اور لوگ بھی کنفرم ہوجایئں گے اور ہماری عدلیہ ان نفسیاتی مریضوں سے بچ جائے گی جو کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ سیشن کورٹس میں بحثیت سیشن جج واپس آنے والے تھے کیونکہ ان کو کنفرم کیئے بغیر یاری دوستی نبھانا مشکل ہوجائے گی  
جس اصول کو میڈیا بلاوجہ کی خبریں بنا کر اچھا ل رہا ہے وہ تو  ادارے کی بہتری کی علامت ہے کیونکہ  جس طرح عدلیہ میں اس اصول کی نفی کی وجہ سے گزشتہ پانچ سال کے دوران زخم خوردہ سیشن ججز نے ہایئکورٹ سے کنفرم نہ ہونے کے بعد عدلیہ سے جو انتقام در انتقام لیا اس کی کوئی مثال کہیں نہیں ملتی
اگر  لیفٹنٹ جنرل اسلم ہارون صاحب استعفی نہ دیتے تو ان کا حشر کیا ہوتا  وہ کوئی بھی  کراچی میں رہنے والا کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹ  ایسٹ میں چلا جائے وہاں ایک سیشن جج بیٹھا ہے جو پہلے کسی زمانے میں جسٹس ہوا کرتے تھے جب کنفرم نہ ہوئے تو دوبارہ سیشن جج بنادیئے گئے جس کے بعد ان کی جو نفسیاتی حالت ہے وہ پورے کراچی کے وکیل جانتے ہیں  اس پر کسی تبصرے کی کوئی گنجایئش باقی نہیں
فوج نہیں چاہتی کہ  لیفٹنٹ جنرل اسلم ہارون  کراچی ایسٹ کے سیشن  جج ارشد نورخان کی طرح نفسیاتی ہوکر لوگوں کیلئے تماشہ بن جایئں اس لیئے  فوج نے ایک روایت قائم کردی ہے کہ کوئی بھی افسر ارشد نورخان نہ بن سکے 
فوج نہیں چاہتی کہ ان کا قابل احترام افسر اس  طرح لوگوں کیلئے تماشہ بن جایئں جس طرح عدلیہ نے اپنے سیشن  قابل احترام سیشن ججز کو پہلے جسٹس  بنایا اور پھر دوبارہ سیشن جج بنا کر ان کا مذاق بنا دیا

Post a Comment