Saturday, 2 November 2013

قابل احترام جسٹس ریٹائرڈ سپریم کورٹ رانا بھگوان داس

کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی خوش قسمتی کہ یہاں عدلیہ سے منسلک کئی اہم شخصیات نے بحثیت سیشن جج اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں میرٹ کا نتیجہ ہی تھا کہ سیشن جج  کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے ججز نے ترقی کی منازل  کیں اور سپریم کورٹ تک جا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ایسے قابل احترام ججز میں  سے جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس صاحب بھی ایک ہیں رانا  بھگوان داس صاحب پاکستان کی  عدالتی تاریخ میں  معتبر اورایک اہم  درجہ اورمقام رکھتے ہیں
گزشتہ دنوں رانا بھگوان داس صاحب کی ماتحتی میں فرائض سرانجام دینے والے ایک ریٹائرڈ کورٹ کلرک سے ملاقات ہوئی تو انہوں آپ کی زندگی کے بہت سے اہم واقعات شئیر کیئے جن میں سے ایک مختصر واقعہ شیئر کررہا ہوں  جس سے ان کے اندر احساس زمہ داری کے قومی جزبے کا  اندازہ لگایا جاسکتا ہے انہوں نے بتایا کہ ماضی میں سیشن جج روزانہ اپنی کورٹ کی کاروائی سے فارغ ہوکر اپنے زیراہتمام عدالتوں کا دورہ کرتے تھے  اور تمام آفسز میں جاکرخاموشی سے دیکھتے تھے کہ کوئی غلط کام تو نہیں ہورہا کوئی کورٹ اسٹاف کسی کو ناجائز تنگ تو نہیں کررہا اس سرپرائز وزٹ کا بہت اثر ہوتا تھا اسٹاف بھی ٹھیک کام کرتا تھا اور کورٹ میں آنے والے سائلین کے مسائل بھی حل ہوجاتے تھے کیونکہ اسٹاف کے روزمرہ کے مسائل بھی حل ہوجاتے تھے
کورٹ سے منسلک آفس میں اگر کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو اکثر رانا صاحب موقع پر حل کردیتے تھے "ایک دن میں اپنے آفس میں کام کررہا تھا اور میں نے اپنی ٹیبل پر اپنا ٹائپ رائٹر اوندھا رکھا ہوا تھا (اس وقت ڈسٹرکٹ کورٹس میں کمپیوٹر نہیں آیا تھا)  تو اس وقت کے سیشن جج رانا بھگوان داس دورے پر آئے اور میرے آفس میں آکر رک گئے میرے پاس آئے اور کہا کہ یہ دیکھیں آپ نے اپنی ٹیبل پر ٹائپ رائٹر اوندھا رکھا ہوا ہے آپ کے آفس میں لوگ آتے جاتے ہیں کسی کا غلطی سے ہاتھ لگ جائے اور ٹائپ رائٹر گرجائے  تو کون ذمہ دارہوگا؟
ٹائپ رائٹر زمین پر گرے گا تو یقینناً خراب ہوگا جس کی وجہ سے آپ کا کام متاثر ہوگا جب تک خراب رہے گا آپ کو دوسری عدالت یا باہر سے کام کروانا ہوگا آپ کا خرچہ ہوگا وقت ضائع ہوگا کام کا معیار خراب ہوگا آپ کو کتنی پریشانی ہوگی عوام کو پریشان ہوگی تو مجھے بھی پریشانی ہوگی  سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ قومی خزانے کو جو نقصان ہوگا اس کا کون ذمہ دار ہوگا عوام کے ٹیکس یعنی ان کے خون پسینے کی کمائی سے حکومت کو دیئے گئے ٹیکس کی رقم سے خریدے گئے اس ٹائپ رائٹر کی اگر مرمت ہوبھی گئ تو ویسے کام نہیں کرے گا جیسا کہ پہلے کررہا تھا یہ قوم کے پیسے کے ساتھ بددیانتی نہیں ہوگی ان کے اسٹاف نے بتایا کہ مجھے اس بات پر سخت شرمندگی ہوئی اور باقی سروس کے دوران رانا بھگوان داس کی شفقت بھری ڈانٹ کو یاد رکھا"
رانا بھگوان داس کی بحثیت سیشن جج سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ آپ کو ایک کاغذ کے ضائع ہونے کا بھی درد ہوتا تھا اور ہمیشہ کورٹ کے اسٹاف کو تاکید کرتے تھے کسی بھی شخص کو ناجائز تنگ نہیں کریں
جب تک سیشن جج رہے نہ خود کرپشن کی اور نہ کسی کو موقع دیا کہ وہ کرپشن کرے بحیثیت سیشن جج کسی بھی کورٹ اسٹاف کو ناحق تنگ نہیں کیا

ذاتی طور پر میری ان سے ایک ملاقات ریٹائرمنٹ کے بعد ہوئی تھی رانا صاحب باقی عمر سوشل ویلفئر کے کام کرکے گزارنا چاہتے تھے لیکن میری ان سے گزارش ہے کہ وہ عدالتی نظام کی بہتری کیلئے اگر رضاکارانہ خدمات سرانجام دیں تو یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوگی
Post a Comment