Saturday, 16 November 2013

محترم افتخار اجمل بھوپال کے نام

اگرچہ ہرروز کافی ای میل اور پیغامات موصول ہوتے ہیں لیکن اپنے ایک قابل احترام  سینیئر افتخار اجمل  بھوپال کے تبصرے  کو نظر انداز نہ کرسکا کوشش کی ہے کہ  اس حوالے سے وضاحت کی جائے
آپ  فرماتے ہیں کہ
"اللہ کا فرمان اٹل ہے ۔ سورت 53 النّجم آیت 39۔  وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ (اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی)
سورت 13 الرعد آیت 11۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ (اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے )
برائی کے خلاف جد و جہد انسان کا فرض ہے جس سے عصرِ حاضر کا انسان غافل ہو چکا ہے ۔کوئی خود غلط کام نہیں بھی کرتا لیکن وہ دوسرے کو غلط کام سے روکنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ گویا انسان مصلحتی بن چکا ہے جو کی اسلام کی نفی ہے ۔

محترم اگر جھاڑو دیا جائے تو غلیظ جگہوں سے کچھ گندگی کم ہو جاتی ہے لیکن صاف جگہوں پر اس میں سے کچھ گندگی پہنچ جاتی ہے ۔ اسلئے جھاڑو نہیں پھیرنا چاہیئے ۔ معاشرے کے ہر تکنیکی گروہ میں اچھے لوگ ہیں اور بُرے بھی ۔ چنانچہ وکلاء کو استثنٰی حاصل نہیں ہے ۔
دوسری بات کہ جج صاحبان کے جن اقارب کی بات آپ کر رہے ہیں وہ آپ ہی کے تکنیکی گروہ (وکلاء) سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیا وکلاء کی بار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ جج صاحبان کے ان اقارب وکلاء کو کسی نظم کا پابند کر سکیں ؟ اگر نہیں تو پہلے اپنی بار کے قواعد و ضوابط درست کروایئے پھر جہاد کا عَلَم بلند کیجئے ۔ جس کا اپنا گھر ہی درست نہ ہو وہ دوسروں کو کیا درست کرے گا    پوری تحریر پڑھنے کے بعد یہ تاءثر اُبھر سکتا ہے کہ جیسے جج صاحبان کے اقارب آپ کا رزق کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جو باعثِ خلش ہے ۔ بلاشبہ پرہیز گار سب جج نہیں اور سب وکلاء بھی کچھ جج صاحبان سے پیچھے نہیں ۔ میں وکیل نہیں ہوں لیکن وکلاء کے بہت قریب رہا ہوں اور بات چند سال کی نہیں یہ قُرب چالیس سال سے زائد پر محیط ہے جس میں وکلاء کی تین جنریشنز سے واسطہ پڑا ۔ میرا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر وکلاء بد اخلاقی چھوڑ دیں تو کوئی جج کم ہی کسی بد اخلاقی کی جرءت کرے گا "   


ہماری رائے مندرجہ زیل ہے


افتخار اجمل بھوپال صاحب  ایک قابل احترام شخصیت ہیں آپ کی رائے ہمارے لیئے اہم ہے

 آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنی رائے سے نوازا سب سے پہلے عدلیہ کے حوالے سے ایک بات واضح کردوں کہ عدلیہ کی گورننس مشکل ترین گورننس ہے    اور دوسرے اداروں سے مختلف ہےایک شخص جو انصاف کرنے کیلئے بیٹھا ہے اس کی حیثیت ہر حال میں قابل احترام ہے منصف  ملازم  نہیں ہے اس پر چھاپہ نہیں مارا جاسکتا عدلیہ کی پیچیدہ گورننس کو جاننا بھی ایک علم ہے 

افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے عدلیہ نے ایک اہم ترین کامیابی حاصل کی اور بظاہر عدلیہ انتظامیہ کے شکنجے سے آزاد ہوگئی لیکن عدلیہ کس قدر آزاد ہے اس کا فیصلہ تب ہوگا جب میدان سجے گا اللہ نہ کرے کہ کوئی نیا آمر آئے یا کوئی نیا "پی سی او" آئے   خدانخواستہ جب عدلیہ پر کوئی امتحان آیا تو یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ ہماری عدلیہ سرخرو ہوگی  یا نہیں

لیکن وکلاء تحریک کے دوران جو بحران آئے انہوں نے اندرونی طور پر عدلیہ کو ہلا کر رکھ دیا جسٹس ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی تھی ہایئکورٹ کا جسٹس پورے صوبے کے قابل ترین وکلاء اور سیشن ججز سے منتخب کیئے جاتے ہیں اکثر وکلاء اس عہدے کو قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ عہدہ ذمہ داری کا ہے ہر صوبے کا چیف جسٹس ماضی میں کوشش کرتا تھا کہ وہ بینچ کو مضبوط کرے  9 مارچ 2007 تک جو عدلیہ پاکستان میں موجود تھی وہ ادارے کا ساٹھ سال کا تسلسل تھا  ہایئکورٹ یا سپریم کورٹ ایک یا دودن میں تشکیل نہیں پاسکتی اس کیلئے کئی سال کی محنت درکار ہوتی ہے جو سول جج  1983 میں عدلیہ میں شامل ہوا ہوگا وہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا 30 سال کے بعد اس قابل ہوتا ہے کہ وہ جسٹس بنے ایک سیشن جج سالہاسال کی ریاضت کے بعد جسٹس جیسی ذمہ داری سنبھالتا ہے اسی طرح ایک وکیل 25 سال بار میں گزارتا ہے اس کی دیانت اس کی محنت اس کا رکھ رکھاؤ اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جسٹس کے عہدے پر فائز ہو لیکن 9 مارچ 2007 کے اقدامات نے عدلیہ کی بنیاد کو ہلایا ہی تھا 3 نومبر کی ایمرجنسی نے رہی سہی کسر پوری کردی    بنیادی طور پر 3 نومبر 2007 پاکستان کی عدلیہ کی تباہی کا دن تھا ۔جس کا ازالہ مزید کئی سال ممکن نہیں بار سے وہ لوگ  بینچ میں شامل ہوئے جو اہل نہیں تھے   تیزی سے سیشن ججز کو آگے لایا گیا اور انہوں نے بھی اپنا وقت پورا ہونے سے پہلے حلف اٹھالیا اگرچہ اکثریت اہلیت رکھتی تھی اکثر ججز اس عہدے کے منتظر تھے لیکن یہ شان ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی صرف خوش نصیب  سیشن جج ہی جسٹس بنتے ہیں  اسی دوران عدلیہ بحال ہوئی لیکن پھر پی سی او ججز کے حوالے سے ایک فیصلہ آگیا جب بہت بڑی تعداد میں جسٹس فارغ ہوگئے تو ایک نیا بحران پیدا ہوا ۔ ان کا متبادل آج دن  تک نہیں ملا کیونکہ وقت کے ساتھ ایک جسٹس ریٹائر ہوتا ہے اس کی جگہ ایک اور جج آجاتا ہے  میرٹ پر بھی ایک ہی وقت میں چار جسٹس تلاش  کرنا بھی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے  بعض اوقات صرف ایک جسٹس تلاش کرنا مسئلہ  ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ"پی سی او" ججز کے جانے کے بعد ان کا متبادل تلاش  نہیں کیا جاسکا جو لوگ ملے وہ اہل نہ تھے
اور بدقسمتی سے ہماری عدلیہ آج بھی اسی بحران کا شکار ہے بدقسمتی سے  عدلیہ کا پیچیدہ طرز حکمرانی یا گورننس بھی متاثر ہوا ۔انتظامی ڈھانچہ  آج بھی بحران کا شکار ہے آج بھی سندھ کے اہم شہروں میں  اچھے سیشن جج نہیں مل رہے اتنی اہم سیٹیں خالی ہیں یہ سانحہ سندھ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا  کہ اتنا عرصہ پرنسپل سیٹ خالی ہو اہم پوزیشن پر قومی پرچم نہیں لہرارہا ہے  عوام توقعات وابستہ کیئے بیٹھے ہیں   لیکن مزید پانچ سال عدلیہ کو درکار ہیں اپنے انتظامی بحران پر قابو پانے میں
محترم عالی وقار  اگر آپ نے عدلیہ سے وابستہ تین نسلوں کا  جائزہ لیا ہوتو عدلیہ تو ضیاءالحق کی آمریت کے دوران بھی   عام مقدمات میں اچھی پرفارمنس دکھا رہی تھی اس دور میں بھی اچھے جج سامنے آتے رہےتھے لیکن اس دور میں عدلیہ انتظامیہ کی  مرضی سے اہم فیصلے دینے پر مجبور تھی لیکن یہ مجبوری ہر دور میں رہی ہے  کیونکہ آزاد عدلیہ  انتظامیہ کو من مانی سے ہمیشہ روکتی ہے مشرف دور میں اگرچہ عدلیہ انتظامیہ کے سامنے مجبور تھی  یہی وجہ ہے کہ "پی سی او "حلف لیا گیا لیکن مجبوریوں اور خامیوں کے باوجود جب بھی ماضی میں عدلیہ کو موقع ملا پی سی او پر حلف لینے کے باوجود عدلیہ نے اپنا کام کیا محترم افتخار چوہدری نے ایک بار عدلیہ کو انتظامیہ کے شکنجے سے آزادی دلوادی اور اب عدلیہ انتظامیہ کے شکنجے سے آزاد ہے یہی آزاد عدلیہ کی علامت ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں جہاں جہاں آزاد عدلیہ کی تحریکیں چل رہی ہیں وہیں آزادی کے ساتھ ساتھ شفافیت کی بھی بات ہوتی ہے وہیں احتساب کی بھی بات ہوتی ہے لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ شفافیت اور احتساب کا نظام اندرونی ہوگا  "مکمل اندرونی نظام "عدلیہ کا احتساب انتظامیہ یا پارلیمنٹ نہیں کرسکتی لیکن  پارلیمنٹ  قانون سازی کے زریعے صرف طریقہ کار طے کرسکتی ہے یہ ایک انتہائی نازک اور سنجیدہ بحث ہے جو پوری دنیا خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں رہی ہے احتساب کا کوئی بھی طریقہ کار جس میں انتظامیہ شامل ہوگی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہوگا  برطانیہ میں کسی بھی جج کے خلاف شکایت اس وقت تک  درج نہیں ہوتی جب تک ثبوت نہ ہو لیکن جب شکایت رجسٹر ہوجائے تو پھر پارلیمنٹ عدلیہ سے پوچھ سکتی ہے کہ شکایت کا کیا ہوا لیکن پارلیمنٹ اس سے زیادہ اختیار نہیں رکھتی برطانیہ کی عدلیہ نے بھی یہ سفر صدیوں میں طے کیا ہے لیکن ایک جج کا اپنے اثاثے ظاہر کرنا شفافیت کی علامت ہے ایک جج کا اپنے رشتے داروں کی لسٹ فراہم کرنا شفافیت کی علامت ہے ایک جج کا اگر بیٹا یا بیٹی وکیل ہے تو وہ اس رہائیش گاہ کو استعمال نہیں کرسکتی پہلے یہ پابندی اخلاقی تھی اب کئی ممالک کی پارلیمنٹ نے قانونی شکل دے دی ہے لیکن اگر بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر ہے کوئی اور شعبہ ہے تو وہ رہایئش رکھ سکتے ہیں  اخلاقیات کا یہ سفر صدیوں میں  طے ہوا  ہندوستان کی تاریخ کے پہلے مسلمان چیف جسٹس   اللہ آباد ہایئکورٹ سرشاہ سلیمان مرحوم اپنے انتہائی قریبی رشتے دار کی شادی میں اس لیئے شریک نہ ہوئے کیونکہ ان کے داماد کا کیس ان کی عدالت میں زیرسماعت تھا ججز ہمیشہ احتیاط کرتے رہے ہیں کہ ان کی غیر جانبداری متاثر نہ ہو
پاکستان دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہے ہم اخلاقیات کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ہم  شفافیت کا مطالبہ کررہے ہیں 
کیا برطانیہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اس بات  کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک سپریم کورٹ کا حاضر جسٹس اور ہایئکورٹ کا حاضر جسٹس کسی لاء فرم میں جاکر بیٹھ جاتے ہوں  اگر آپ کے سامنے ایسا معاملہ آجائے تو آپ کیا کریں گے؟
بہت اہم سوال ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ کے جسٹس کسی وکیل کے دفتر میں اکثر آتے جاتے ہوں تو آپ کیا کریں گے؟ کیا وہ اپنی زمہ داری سے آگاہ نہیں  یہی معاملہ عزیز واقارب کا ہے  یہ بحث صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں چل رہی ہے انڈیا میں کافی عرصہ ججز اس معاملے میں ہڑتال کرچکے ہیں جس کے بعد اخلاقیات کو قانونی شکل دے دی گئی خلاف ورزی پر کاروائی کا طریقہ کار بیان کردیا گیا بہت سے قواعد اور ضوابط بنانا پارلیمنٹ کا ہی کام ہے  وکلاء اس حوالے سے رولز نہیں بنا سکتے  یہ پارلیمنٹ کا ہی کام ہے  جہاں تک تعلق ہے روزگار کا وہ اللہ عزوجل کے ہاتھ میں جو پتھر کے اندر موجود اپنی مخلوق کو روزی پہنچاتا ہے
  عدلیہ تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے ہم دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے  انڈیا میں جوڈیشل اسٹینڈرڈ اور احتساب بل کے زریعے  اس مسئلے کا حل نکالا گیا لیکن  اگر یہ اتنا آسان بھی نہ تھا اس پر ایک بھرپور بحث  ہوتی رہی ہڑتالیں ہوتی رہیں احتجاج ہوتے رہے آخرکار
 قانونی شکل دے دی گئی ہے
محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب بات یہ ہے کہ  اس سارے معاملے کو کھلے ذہن سے دیکھنے کی ضرورت ہے   
مکالمہ بہت سے مسائل کا حل ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ ہم غلط ہوں لیکن کیا بہتر نہ ہو کہ ہمیں مکالمے سے غلط ثابت کیا جائے
صفی الدین اعوان
Post a Comment