Monday, 25 November 2013

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

ساحر لدھیانونی کی ایک نظم دوست نے میل کی شئیر کررہا ہوں
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں 
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں

روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں

روح مرجائے تو ہر جسم ہے چلتی ہوئی لاش
اس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں

کئی صدیو ں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے
کئی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج

لوگ عورت کی ہر ایک چیخ کو نغمہ سمجھیں
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا سماج

جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کرے
یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں



Post a Comment