Monday, 11 November 2013

خودکش ای میل حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے

سوشل میڈیا کے مجاہدین کی جانب سے خودکش ای میل حملوں کا سلسلہ جاری ہے قصہ تو بہت پرانا ہے کتنا اچھا لگتا ہے کہ جج بھی اپنا ہو۔وکیل بھی اپنا سگا بیٹا ،بیٹی،داماد،بھانجہ،بھتیجا یا کوئی قریبی رشتے دار ہو فیس بھی کروڑوں میں ہو یہ ایک آیئڈیل ماحول ہے پریکٹس کا یہ کوئی نئی بات نہیں پوری دنیا میں ایسا ہوچکا لیکن وقت کے ساتھ ضابطے بنا دیئے گئے  ایک وقت آیا جب بار اور لاء سوسائیٹیز کو نوٹس لینا ہی پڑا
بار کونسلز اور دنیا بھر کی لاء سوسایئٹیز نے اپنا رول ادا کیا حقائق تلخ ہیں  گزشتہ دودنوں میں ایک ہی ایشو پر سینکڑوں کی تعداد میں ای میلز کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں مسئلہ ضرور ہے سسٹم کے کسی نہ کسی حصے میں آگ ضرور لگی ہے  جس مسئلے کے پیچھے کئی نمبر دار قسم کے گروپس کا کروڑوں روپے کا مفاد روزانہ کی بنیاد پر وابستہ ہو اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہوتا ایسے گروپس کے پاس  "جواز" کیلئے بے شماروزنی  دلائل ہوتے ہیں
لیکن صاف دل اور اچھی نیت ہمیشہ کامیابی دلاتی ہے ہماری کامیابی ایک عام وکیل کی کامیابی ہوگی
چور ہمیشہ بزدل ہوتے ہیں ان کے دل میں ہمیشہ ڈر ہوتا ہے وہ کسی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرسکتے ہمارے دوستوں کا شکریہ جنہوں نے وسیع تر مفاد میں اپنی رائے دی  اور مشوروں سے نوازا
اپنی بات ایک اقتباس کے ساتھ ختم کرتا ہوں فیس ویلیو کے خاتمے کیلئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہوگی ایک خاص وکیل اور عام وکیل میں فرق ختم کرنا آسان نہیں بار کونسل انڈیا  اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ لانا اتنا آسان کبھی نہ تھا لیکن صرف بار ہی ایک ایسا ادارہ تھا جس نے فیس ویلیو جیسے خطرناک لاعلاج مرض کا علاج دریافت کیا ان تمام رولز کے پیچھے ایک عام وکیل کی جدوجہد شامل ہے
Bar Council Rules: Bar Council of India (BCI)

In 2003, the Bar Council of India (BCI) demanded that all judges whose close relatives practiced in the same courts be transferred. In a report, the BCI had revealed then that a substantial number of High Court judges and the machinery appointing them had disregarded the requirement that an advocate should not practice in a court in which his or her relative happens to be a judge.

This requirement is specified as a standard of professional conduct and etiquette for an advocate, under the BCI Rules. Rule 6 makes it mandatory for an advocate not to practise before a court if any of its judges is related to him or her as father, grandfather, son, grandson, uncle, brother, nephew, first cousin, husband, wife, mother, daughter, sister, aunt, niece, father-in-law, mother-in-law, son-in-law, brother-in-law, daughter-in-law or sister-in-law.

The BCI had then forwarded to the Union Law Ministry a list of 131 “uncle judges” (out of a total 499) in 21 High Courts and 180 advocates with their names and nature of relationships. Neither the government nor the higher judiciary has so far found the necessary will to rid the judiciary of this menace.

Section 3(2)(d) asks the judge not to permit any member of his family who is a member of the Bar to use the residence in which he resides or use other facilities provided to the judge for professional work of such member; and Section 3(2)(e) bars the judge from hearing and deciding a matter in which a member of his family, or his close relative or a friend, is concerned.

فیس
فف
فد
بب

Top of Form
Post a Comment