Tuesday, 26 November 2013

ایک نامعلوم مصنف کی نامعلوم تحریر

دوست سوچتے تھے کہ ایک دن آئے گا جب وہ  قومی  کرکٹ ٹیم میں شامل ہوگا کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ بڑا آدمی بنے گا ایک معروف صنعتکار کا بیٹا تھا  اس کا والد ٹیکسٹائل کمپنی کا مالک تھا پھر کمپنی دیوالیہ ہوکر نیلام ہوگئی اور والد کے انتقال کے بعدتو سب کچھ ختم  ہی ہوگیا
نہ جانے کب جرم کی راہ پر چل نکلا اور بالآخر پکڑا گیا پھر رہا ہوا  پھر یہ سلسلہ چل نکلا  اور اپنے علاقے کا چھوٹا سا "ڈان" بن گیا کیونکہ کرکٹ کا شیدائی تھا اور اپنی ٹیم کا کپتان تھا تو کیپٹن کے نام سے شہرت حاصل کی  یوں محسوس ہوتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے اور وہ ہمارے سامنے ہی کرکٹ کھیل رہا ہے لیکن نہیں کیپٹن اب وہ نہیں رہا تھا  اب وہ "علی کیپٹن "بن چکا تھا
پھر کراچی کے ایک مشہور زمانہ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ نے سر پر ہاتھ رکھا تو کیپٹن جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا کیپٹن کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی وارداتوں میں پکڑا گیا لیکن اس نے کبھی وکیل نہیں کیا ہمیشہ "جج" کو خریدا اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کی عدالتوں سے منٹوں سیکنڈوں میں ضمانت کروا کر غائب ہوجاتا تھا  2 نمبر ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اس کی پسندیدہ کورٹ تھی لیکن عدالت میں پیش ہوتا تھا لیکن جب پولیس   نے ہاتھ رکھا تو اس پر 49 مقدمات تھے اس نے کہا جب "ففٹی" مکمل ہوگی تو اپنے آپ سے عہد کیا ہے کہ کبھی عداالت میں پیش نہیں ہوں گا  اور پچاسواں مقدمہ ایک حساس ادارے کے افسر کا کھارادر میں  قتل کا بنا جس کے بعد "کیپٹن" کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوا  اور نہ ہم نے کبھی اس کو دیکھا پھر اس نے وہ سب کچھ کیا جو ایک ڈان کرتا ہے  وہ سوشل میڈیا میں متحرک تھا اس کا فیس بک اکاؤنٹ تھا،ٹویئٹراستعمال کرتا تھا آپ درج ذیل لنکس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انڈر ورلڈ کے لوگ کراچی میں کتنی آسانی سے گھومتے پھرتے ہیں سینکڑوں مقدمات میں ملوث لوگ کتنی آسانی سے پورے پاکستان میں گھومتے پھرتے ہیں ذرا سا ڈر زرا ساخوف بھی ان کو نہیں ہوتا

پاکستان تو پاکستان پوری دنیا میں یہ لوگ باآسانی گھومتے ہیں  ایک ایسی زندگی گزارتے ہیں  کاروبار کرتے ہیں سب کچھ کرتے ہیں
ہماری ایجنسیاں ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ سے کھیل کا سامان چھین کر کلاشنکوف دے رہی ہیں ان کو خود "ڈان" بناتی ہیں  اور جب  تک ان کے پیدا کردہ ڈان ان  کے اشارے پر چلتے ہیں سب ٹھیک رہتا ہے  اور جب باغی ہوجایئں تو یہ خود ہی ماردیتے ہیں یا دوسرے کسی ڈان سے مروادیتے ہیں اور اس کا علاقہ نئے ڈان کو مل جاتا ہے بے روزگاری عام ہے نیا ڈان یہ سوچ کر پھانسی کا پھندا قبول کرلیتا ہے کہ مرتو جایئں گے لیکن گھر والوں کیلئے کچھ بنا کر مریں گے منظر دہرایا جاتا ہے  اور ایک نیا بے روزگار ڈان تیار ہوجاتا ہے
کیپٹن  کراچی کا دوسرے نمبر پر بڑا ڈان بنا  اور بالآخر پورے گروپ سمیت مارا گیا اس کی فیس بک میں موجود آئی ڈی میں تمام کے تمام لوگ مارے جاچکے ہیں  
ہمیں بچوں کی تربیت میں خیال رکھنا چاہیئے  کہ وہ کسی جرائم پیشہ کردار کو اپنا آئیڈیل تو 
نہیں بنارہے


انڈین فلم واستو فلم کا سنجے دت یعنی رگھو بھائی اور باکسر بھائی موجودہ جرائم پیشہ افراد کے

ہیرو ہیں جس دور میں یہ فلم آئی تھی   وہ بچے جو کل تک رگھو بھائی کے پوسٹراپنے کمرے کی دیوار پر لگاتے تھے وقت نے ان کو جیتا جاگتا رگھو بھائی بنا دیا کراچی میں وہ سب کچھ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے جو کل تک ہم انڈین فلموں میں ہوتا تھا دھیان رکھیں کہ آپ کا نوجوان بیٹا یا بھائی کس کو اپنا ہیرو بنا رہا ہے

ہم کس گلی جارہے ہیں اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں

اس کی موت کے بعد ایک دوست کی ای میل آئی
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے

سب ہے میرے پاس ایک تم ہی نہیں ہو
Post a Comment