Thursday, 28 November 2013

سپریم کورٹ پاکستان آج تاریخی لمحات سے گزرے گی غیر قانونی حراست کے حوالے سے آج 29 نومبر 2013 کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے

سپریم کورٹ پاکستان آج تاریخی لمحات سے گزرے گی غیر قانونی حراست کے حوالے سے آج 29 نومبر 2013 کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے
کراچی سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل اعجاز شاہد کو بلوچستان کے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آج جمعہ کو طلب کر لیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئی جی ایف سی آج لاپتہ افراد سمیت پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ پھر دیکھیں گے کہ پولیس کس طرح انہیں گرفتار نہیں کرتی۔ حکومتوں میں پھر کیا ہوتا ہے۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ عدالت نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ عدالت نے ایف آئی آر میں نامزد تمام ایف سی اہلکاروں اور افسران کو طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر سخت حکم جاری کرنے والے ہیں کہنے کو تو جمہوری حکومت ہے لیکن اس دور میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا، ایف سی نے متوازی حکومت بنا لی ہے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی رجسٹری میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں لارجر بنچ نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کی دوران سماعت ایف سی کے اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی پر عدالت نےبرہمی کا اظہارکیا اور کہاکہ لگتاہے ایف سی میں کوئی ذمہ دار نہیں اگر ہم اس دوران کوئی حکم دیدیں تو کون ذمہ دار ہوگا بلوچستان کے 85فیصد حصے پر ایف سی تعینات ہے لیکن وہ حالات سے آگاہ نہیں بلوچستان کے حالات بگڑتے جارہے ہیں پہلے 87افراد لاپتہ تھے اب ان کی تعداد بڑھ گئی ہے، دوران سماعت عدالت نے کہاکہ لاپتہ افراد کے اغواء کے مقدمات جن افسران کے خلاف درج ہیں وہ بھی عدالت میں پیش ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایف سی بلوچستان میں متوازی حکومت چلارہی ہے وزیراعلیٰ خود کہتے ہیں کہ یہ میرے بس میں نہیں۔لوگ پیدل چل کر بلوچستان سے کراچی آگئے کیا ملک کا وزیراعظم یہ نہیں دیکھتا وزیردفاع یہاں بیٹھے ہیں وہ بتائیں کیا کوئی حکومتی نمائندہ ان کی دادرسی کیلئے گیا۔ آپ ان کے بندے بازیاب کرائیں تب دادرسی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ ٹی وی پر بھی صرف آپ کی حکومت کے خلاف ہی تشہیر ہورہی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میںپریس کلب جاکر ان لوگوں سے ملتا ہوں اور انہیںواپس ان کے گھربھیجتا ہوں۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ جو لوگ بیٹھے ہیں نہ وہ جائیں گے نہ ہم انہیں جانے کے لئے کہیں گے۔ آپ جائیں لاپتہ افراد کو لیکرآئیں کراچی والے مہمان نواز ہیں آپ کچھ کریں یا نہ کریں وہ ان گھرانوں کی خدمت کریں گے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیراے ملک سے کہاکہ آپ بتادیں کہ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں یا نہیں سیاسی، جمہوری اور منتخب حکومت میں لوگ پیدل چل کر کراچی آگئے۔ کسی کے کانوں پرجوں تک نہیںرینگی بلوچستان کے لوگوں کوسلام پیش کرتے ہیں بلوچستان کی ثقافت ایسی نہیں کہ مائیں بیٹیاں سڑکوں پر نکلیں، اتنی تکالیف اورمصائب کے باوجود انہوں نے جمہوری راستہ اختیار کیاہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں اسلامی جمہوریہ لکھا ہے لیکن یہ جو کچھ آپ لوگ کررہے ہیں اسلامی جمہوریہ میں ایسا کہاں ہوتاہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف سی وفاقی حکومت کے ماتحت نہیں،کیا آئی بی وفاقی حکومت کی اپنی ایجنسی نہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتےہوئے کہاکہ آئی ایس آئی اورایم آئی تعاون نہیں کرتیں آپ بھی ہیلپ لیس ہیں تو بتادیں۔ چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل سے کہاکہ وزیراعلیٰ آپ کے سامنے بے بس ہوچکا ہے آپ کیا چاہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہوجائے۔ آپ لوگوں نے سوچ رکھا ہے کہ صرف سپریم کورٹ کےخلاف کام کرنا ہے۔ آپ نے کچھ کیا ہوتا تو وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ کراچی پریس کلب کے باہربیٹھے عوام اس صوبے کے نہیںبلکہ دوسرے صوبے کے دارالحکومت میں بیٹھے ہیں کیونکہ یہ اپنے صوبے سے مایوس ہوچکے ہیں کوئی مدد کرنےکوتیار نہیں، صوبائی حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ وفاقی حکومت کہتی ہے اسے کچھ پتہ نہیں۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ عالمی طورپر دنیامیں بدنامی کا سبب بن رہاہے۔ ہم کوئی مؤثر آرڈر کردیں گے تو آپ جانیں اور آپ کی حکومت لوگ سڑکوں پرآئیں گے پھرآپ نمٹتے رہنا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی کو لاپتہ افراد سمیت آج (جمعہ) کو عدالت میں طلب کرلیا ہے عدالت کا کہنا تھا کہ اب ہم کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا اگر وہ نہ آئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتے ہیں عدالت نے سماعت آج(جمعہ) تک کیلئے ملتوی کردی۔


Post a Comment