Wednesday, 16 October 2013

مسلمانوں کے مزاروں میں موسیقی کے قانون 1942ء کے تحت مزاروں پر گانا بجانا اور ناچنا از روئے قانون جرم قرار دیا گیا ہے

 لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ہائی کورٹ یا صوبائی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ فوجداری مقدمات دوسری عدالت کو منتقل کرسکتی ہے تاہم اس کے لیے دوسرے صوبے کی حکومت کی رضا مندی ضروری ہوگی ۔جبکہ مزارات پر گانا بجانا قانونا جرم ہے اور خلاف ورزی پر قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں، لاء کمیشن کی طرف سے فوجداری مقدمات کے انتقال کے قانون کی جاری کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ازروئے قانون فوجداری مقدمات ان مجاز فوجداری عدالتوں میں دائر ہوتے ہیں جن کی حدود اختیار سماعت میں جرم سرزد ہوا ہو تاہم بعض صورت میں حصول انصاف یا کسی فریق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے فریقین یا گواہان کی سہولت کیلئے عدالت عالیہ اور اس طرح صوبائی حکومت کو ا ختیار دیا گیا ہے وہ مطلوبہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں فوجداری مقدمہ کسی اور عدالت کو منتقل کرنے کے احکامات صادر کرے اور کمیشن کے مطابق جب کوئی شخص کسی فوجداری عدالت سے اپنا مقدمہ تبدیل کرانا چاہتا ہو تووہ اس عدالت میں درخواست دائر کرے گاکہ وہ مقدمہ تبدیل کروانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد عدالت عالیہ میں درخواست مع بیان حلفی اور منتقلی مقدمہ کی وجوہات دے گا۔ مزید برآں لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ مزارات پر گانا بجانا قانونی طور پر جرم ہے کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ خلاف ورزی کرنیوالے کو چھ ماہ قید اور 500روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں جبکہ ترغیب دینے والے کو بھی اسی قسم کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ بات قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس حوالہ سے قانون کی جاری کردہ وضاحت میں کہی گئی ہے۔مسلمانوں کے مزاروں پر موسیقی کی ممانعت کے قانون کی تشریح کرتے ہوئے لاء کمیشن نے کہا ہے کہ موسیقی زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے اور موسیقی پیش کرنے والے اس کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں جبکہ ہندو مذہب میں اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔اسی کے زیر اثر مسلمانوں کے مزارات پر بھی موسیقی کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن چونکہ اسلام اس کی اجاز ت نہیں دیتا اس لئے مسلمانوں کے مزاروں میں موسیقی کے قانون 1942ء کے تحت مزاروں پر گانا بجانا اور ناچنا از روئے قانون جرم قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنیو الے کیلئے سزا تجویز کی گئی ہے۔


Post a Comment