Tuesday, 15 October 2013

جسٹس مشیر عالم: عدالتی اصلاحات کا عمل ناکام رہا

مشیر عالم صاحب جن دنوں ڈسٹرکٹ کورٹس میں پریکٹس کرتے تھے وہ ایک اصلاح پسند وکیل کے طور پر مشہور تھے آپ عدالتی اصلاحات پر یقین رکھتے تھے بعد ازاں ہائی کورٹ بار آپ کی پہچان بنی اور بالآخر سندھ ہائی کورٹ میں بطور جسٹس آپ کی تعیناتی ہوئی بنیادی طور پر آپ تعاون کرنے والے انسان ہیں ایک مخصوص حلقہ احباب بھی ہے
عدالتی بحران میں مالی مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہے جس کا میں خود عینی شاہد ہوں کہ وکلاء تحریک کے دوران مالی مشکلات کی وجہ سے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ ملازمت پر مجبور ہوئے انہی دنوں  مشیر صاحب واضح کرچکے تھے کہ وہ کسی صورت بھی اکیلے حلف نہیں لیں گے اس لیئے ان دنوں وہ سنجیدگی سے وکلاء کا ایک ایسا گروپ تشکیل دینا چاہتے تھے جو عدالتی اصلاحات پر کام کرے وہ عدلیہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے
لیکن عدلیہ بحال ہوگئی اور اس طرح یہ منصوبہ ادھورا ہی رہا لیکن آپ نے کہا کہ میں نوجوان وکلاء کے ساتھ ہوں
بعد ازاں آپ چیف جسٹس سندھ کے عہدے پر فائز ہوئے ایک اصلاح پسند شخصیت کے طور پر ہمارا گمان تھا کہ آپ ایک بہت بڑی تبدیلی لائیں گے لیکن بدقسمتی سے آپ مختلف نوعیت کے تنازعات میں الجھتے چلے گئے  سب سے بڑا تنازعہ جسٹس ناصر اسلم زاہد کی صورت میں آیا جب ناصر اسلم زاہد کو سندھ گورنمنٹ نے غیر قانونی طور پرجیلوں میں کروڑوں روپے کے فنڈز دیکر قانونی امداد کا سلسلہ شروع کیا جسٹس صاحب کی این جی او کو کس طریقہ کار کے تحت فنڈنگ دی گئی اس کی کوئی وضاحت آج تک نہ کی گئی پھر قانونی امداد کی آڑ میں کرائے کے قاتلوں، ڈکیتوں،بھتہ خوروں یہاں تک کے خواتین پر جنسی تشدد تک ملزمان کو نہ صرف قانونی امداد بلکہ کروڑوں روپے کی ضمانتیں بھی جمع کروائی گئیں اس پر بارایسوسی ایشن نے احتجاج کیا تو وہ مسترد کردیا گیا آخر کار اس پر احتجاج پوا اور شدیداحتجاج ہوا عدالتیں تالہ بندی کا شکار ہوئیں یہاں تک کہ مشیر عالم صاحب نے جسٹس صاحب سے کوئی حساب کتاب لیئے بغیر"نکلنے" کا باعزت راستہ فراہم کیا یہ معاملہ اس قدر خراب ہوچکا تھا کہ وکلاء ریٹائرڈ جسٹس کا دھندا روکنے کیلئے کسی بھ حد کو پا کرنے کیلئے تیار ہوچکے تھے
بار سے وعدہ کیا گیا کہ بار کو اعتماد میں لیکر ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اس کیلئے لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کے پاس پہلے ہی کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں مشیر صاحب کی اتنی زمہ داری ضرور تھی کہ وہ کم ازکم ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیاں تشکیل دے دیتے لیکن ایک پراسرار ہاتھ اس میں مسلسل رکاوٹ ہےجس کی وجہ سےدوسال میں یہ ابتدائی کام بھی مکمل نہ ہوسکا اور قانونی امداد بھی عدلیہ کی جانب سے  کیئے گئے بے شمار وعدوں سے ایک ایسا وعدہ ثابت ہوئی جو کبھی پورا نہیں ہوگا
جسٹس ناصر اسلم ریٹائرڈ کے تنازعے میں الجھنے کی وجہ سے مشیر صاحب پہلی بار پریشانی کا شکار ہوئے
نوجوان وکلاء سے کیا گیا ایک وعدہ پورا کیاگیا کہ مجسٹریٹ کی سیٹوں پر میرٹ کی بنیاد پر تقرری کی گئی جس کے اثرات عدلیہ پر نظرآئیں گے میں زاتی طور پر ایسے کئی دوستوں کوجانتا ہوں جو کہ میرٹ کی بنیاد پر مجسٹریٹ مقرر ہوئے اور ان کا تعلق ایسے غریب گھرانوں سے تھا جن کے پاس نہ ہی سفارش تھی اور نہ ہی پیسہ مشیر عالم صاحب کا یہ ایک ایسا قدم ہے جس کی ہرسطح پر بار بار تعریف کی گئی ہے  بدقسمتی سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن ججز کیلئے عدلیہ کو ایسے امیدوار نہ مل سکے جو ان کی نظر میں اہل تھے
پروموشن پالیسی بوگس ثابت ہوئی اور نااہل لوگوں کو پروموٹ کیا گیا یہاں تک کہ ایسے لوگوں کو پروموٹ کیا گیا جن کے خلاف جسٹس صبیح الدین نے تادیبی کاروائی کررکھی تھی اور وہ پی سی او ججز کے دور میں جسٹس افضل سومرو کو رشوت دے کر واپس آئے تھے پروموشن پالیسی ہی کی وجہ سے جب حقداروں کو ان کا حق نہیں ملاتو ججز مایوسی کا شکار ہوگئے اور ایسے لوگ جو اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ مایوسی کا شکار ہوکر استعفی دینے کا سوچ رہے ہیں گزشتہ دنوں ہی ایک مجسٹریٹ نے جو سندھ کے اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں نے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے زاتی وجوہات بیان کی ہیں لیکن بنیادی طور پر عدلیہ پر مایوسی کا عملی اظہار ہے مختلف مواقع پر بار کے ساتھ تنازعات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے عدالتی اصلاحات کا سفر شدید متاثر ہوا یہاں میں سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار کا زکر کرنا ضروری سمجھوں گا کہ ایک تقریب میں کراچی بار کے صدر نعیم قریشی صاحب نے مختلف ایشوز پر عدلیہ پر کھلم کھلا تنقید کی جس کا جسٹس گلزار نے غصے میں آئے بغیرایسا  "مسکت" جواب دیا کہ صدر صاحب غصے میں آگئے لیکن جسٹس گلزار صاحب معاملہ فہم بھی تھے اپنی معاملہ فہمی سے موقع پر ہی معاملہ نمٹا دیا اور بات آئی گئی ہوگئی کاش جسٹس مشیر عالم صاحب بھی اسی معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ایک سازش کے تحت بار بار جسٹس مشیر عالم کو مختلف نوعیت کے تنازعات میں الجھایا جاتا رہا اور وہ الجھتے رہے
مشیر عالم صاحب کے دور میں عدلیہ کی تاریخ کی ایک اور اہم ترین سیاہ کاری سامنے آئی جب ہایئکورٹ کی ایک اہم شخصیت کی شہ پر وکلاء کی رٹ کو چیلنج کرنے کیلئے اسٹاف کی غیرقانونی اور خود ساختہ یونین تشکیل دی گئی جو آج بھی موجود ہے اور صوبہ سندھ وہ دنیا کا واحد بدقسمت صوبہ ہے جہاں لیبر یونین طرز کی عدالتی اسٹاف یونین عدالتوں میں فعال ہے ایک طے شدہ پلاننگ کے تحت عدلیہ کے زیرنگرانی تنخواہوں میں اضافے کیلئے خودساختہ یونین کی جانب سے عدالتوں کی تالہ بندی اور ہڑتالیں کروائی گئیں یہاں تک کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا وکلاء کی رٹ کو چیلنج کیا گیا یہاں تک کہ کراچی بار کے نئے صدر کو 2013 میں عدلیہ کی شہ پر بنائی گئی اس یونین کے خلاف آپریشن کلین اپ کرنا پڑا اور بالآخرکراچی بار اپنی "رٹ" قائم کرنے میں کامیاب رہی جس پر نعیم قریشی صاحب کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری ہوچکا ہے اس قسم کے اقدامات جن سے حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا صرف تنازعات جنم لیتے ہیں بدعنوان اسٹاف کو تحفظ دینے کیلئے بار کے صدر کو نوٹس جاری کرنے کا مشورہ مشیر عالم صاحب کو کسی دوست نما دشمن نے ہی دیا ہوگا  لیکن اسٹاف یونین پورے نظام کو چیلنج کرچکی ہے کیونکہ اسٹاف یونین کا کالعدم تنظیموں سیاسی جماعتوں کے مراکز اوران طالبان  دہشت گردوں سے براہ راست تعلقات ہیں جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور کئی جسٹس صاحبان کی اسٹاف یونین کے عہدیداران کو دیکھ کر ہی "ہوا" خشک ہوجاتی ہے اب اگر اس غیر قانونی یونین کو غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے تو ایک نیا تنازعہ جنم لے سکتا ہے اور جو جسٹس ان کے خلاف ایکشن لے گا کیا وہ شام کو گھر نہیں جائے گا؟
 اسی طرح جسٹس صاحبان کی تقرری میں تاخیر کی گئی اور تاخیر سے کیئے گئے درست فیصلے بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ایک طرف تو پھرپور کوششوں کے باوجود جسٹس بنانے کیلئے اہل ججز نہ مل سکے دوسری طرف اہل لوگوں کو نظر انداز کیا گیا اندرون سندھ کے نامور وکیل بھجن داس تیجوانی کو جج بنایا گیا لیکن آخر کار ان کے ساتھ بھی تنازعہ ہوا اور ان کو مستقل نہیں کیا گیا وہ بھی کسی کی جھوٹی انا کا شکار ہوئے بھجن داس تیجوانی کے بعد اب سندھ ہایئکورٹ میں ایک بھی جسٹس ایسا نہیں ہے جس کے پاس کریمنل جسٹس سسٹم پر عبور کی خداداد صلاحیت ہو کتابی علم تو سب کے پاس ہوتا ہے بعد ازاں نہایت ہی تاخیر سے سندھ ہایئکورٹ میں جسٹس مقرر کیئے گئے لیکن تاخیر کا مسئلہ برقرار رہا
گزشتہ دنوں جن ججز کی تقرری کی گئی ہے اس پر بھی وکلاء خوش نہیں ایک سپریم کورٹ کے جسٹس کی اہلیہ کو جسٹس بنانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کیئے گئے ہیں تقرری بالکل قانون کے مطابق ہے اس تقرری سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ اب میرٹ کا معیار کیا ہے لیکن اندرون سندھ سے آواز اٹھ رہی ہے کہ وہ کون سا معیار ہے وہ کونسا میرٹ ہے جس پر بھجن داس تیجوانی تو پورا نہیں اتر سکتا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح "ایم آئی ٹی" بھی ناکام شعبہ ثابت ہوا ایم آئی ٹی جس کاکام کرپشن کو کنٹرول کرنا تھا خود کرپشن میں ملوث ہوا اور کرپٹ ججز کی حوصلہ افزائی کرتا رہا
مختصر یہ کہ ایمانداری اور انتظامی صلاحیتیں دو الگ چیزیں ہیں مشیر عالم صاحب کا عدلیہ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا خواب شرمندہء تعبیر نہ ہوسکا اس کی وجہ فیصلے کرنے میں تاخیر اور انتظامی صلاحیتوں کو بروقت استعمال نہ کرنا تھا تاخیر سے کئے گئے درست فیصلے بھی بدانتظامی اور تنقید کا باعث بنتے ہیں اور اس کے مضر اثرات سامنے آتے ہیں اگرچہ سندھ ہایئکورٹ جو کہ پہلے ہی اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھی اس کو مزید ہم آہنگ کیا گیا اور لاوارث ماتحت عدلیہ کو یتیم خانے میں جمع کروادیا گیا لیکن مشیر عالم صاحب کا ایک اہم کارنامہ جعلی دستاویزات اور پراپرٹی مافیا کا خاتمہ بھی ہے اور نادرا کی زیرنگرانی عدالتوں میں جمع کروائی جانے والی دستاویزات کی تصدیق کے نئے نظام سے سندھ ہایئکورٹ میں کسی بھی قسم کے فراڈ کی گنجائش اب باقی نہیں رہی یہ ایک نفع بخش پروجیکٹ ہے اور اس سے ہایئکورٹ کو آمدن ہی ہوئی لیکن سوال یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں یہ اقدامات کیوں نہیں جب بلاوجہ اچھے اقدامات سے ماتحت عدلیہ کو محروم رکھا جائے گا تو سوالات تو پیدا ہونگے جب جسٹس ناصر اسلم زاہد کی این جی او کے آفسز کیلئے ہر ڈسٹرکٹ کورٹ میں جنگی بنیادوں پرایک ایک کمرے کی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے تو ہایئکورٹ کی طرز پر نادرا کے آفسز ڈسٹرکٹ کورٹس میں قائم کرکے سٹی کورٹس سے جعلی دستاویزات کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جاسکتا
مختصر یہ کہ جسٹس مشیر عالم صاحب نے عدالتی اصلاحات کو جو نعرہ بلند کیا تھا وہ ماتحت عدلیہ کی سطح پر کامیاب نہیں ہوا جس کا آپ خود اعتراف کرتے ہیں جس بات کا مشیر عالم صاحب خود اعتراف کررہے ہوں اس پر تنقید کی ضرورت نہیں رہتی  اس تحریر کا مقصد ہر گز ہرگز بیجا تنقید نہیں ہے جسٹس مشیر عالم کی ایمانداری، نیک نیتی اور سادگی قابل تعریف ہے اور اس سے کون انکار کرسکتا ہے صوبے کے چیف جسٹس ہونے کے باوجود اکثر سیکورٹی کے بغیر اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارتے تھے اور ان کے معمولات زندگی ایک عام شہری کی طرح تھے
ایک اصلاح پسند جسٹس کی ناکامی سے سندھ میں عدالتی اصلاحات کی تحریکوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے لیکن یہ ادھورا سفر انشااللہ پورا ضرور ہوگا
صفی


Post a Comment