Tuesday, 29 October 2013

عدلیہ بحالی کے بعد عوام کی مایوسی کا ازالہ کون کرے گا۔۔۔خواجہ محمد احمد صمدانی مرحوم کا خدشہ درست ثابت ہوا

  
ارشاد احمد عارف
فوجی حکمران صدر ضیاء الحق نے میٹنگ میں پہلے تو وفاقی سیکرٹریوں کو نااہل اور کام چوری کا طعنہ دیا اور پھر دو قدم آگے بڑھ کر یہ کہہ دیا ”اپنی حرکتوں
سے باز نہ آئے تو میں تم لوگوں کی پتلونیں اتروا کر الٹا لٹکا دوں گا“ معاً ایک دبلے پتلے، پستہ قد نسبتاً نوجوان وفاقی سیکرٹری قانون نے جھرجھری لی، کھڑا ہوا اور بولا ”ہاں مگر کچھ جرنیلوں کی پتلونیں اتار کر الٹا لٹکانا بھی ضروری ہے، کیونکہ انہوں نے بھی ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے“ ضیاء الحق خاموش ہو گئے، محفل پر سناٹا چھا گیا اور سینئر بیورو کریٹس ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، یہ وفاقی سیکرٹری قانون جسٹس صمدانی تھے، خواجہ محمد احمد صمدانی، میٹنگ ختم ہوئی ضیاء الحق نے جسٹس صمدانی کو کمرے میں بلایا اور اس تلخ نوائی پر گلہ کیا، یہ بھی کہا کہ وہ معذرت کریں مگر صمدانی صاحب کا جواب تھا ”آپ میٹنگ دوبارہ بلائیں، سب کے سامنے اپنے الفاظ واپس لیں میں بھی اپنے کہے پر معذرت کر لوں گا بصورت دیگر میں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہوں‘ آمر مطلق لاجواب ہو گیا“ یہ جسٹس صمدانی ہی تھے جنہوں نے 1977ء میں جبکہ مارشل لا اپنی تمام تر سخت گیری کے ساتھ نافذ تھا نواب محمد احمد خاں کیس میں مرکزی کردار ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت منظور کر لی جبکہ بھٹو اور ضیاء کے مابین تلخی کا آغاز ہو چکا تھا اور ضمانت منظور کرنا مارشل لا کے عتاب کو دعوت دینے کے مترادف تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی کتاب REMINISCENCE   میں جسٹس صمدانی نے یہ دونوں واقعات درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اول الذکر واقعہ کے بعد میں کئی ماہ تک وفاقی سیکرٹری قانون کے منصب پر کام کرتا رہا مگر جنرل ضیاء یا مارشل لا انتظامیہ کی طرف سے مجھے کبھی ہراساں نہ کیا گیا، کوئی انتقامی کارروائی عمل میں نہ آئی جبکہ 1987ء میں جب میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدارتی امیدوار تھا تو ایک نامور وکیل نے اپنے پیپلز پارٹی سے وابستہ وکیلوں کے گروپ کی طرف سے اس بناء پر تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی کہ میں نے بطور جج بھٹو صاحب کی ضمانت لی تھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ فیصلہ میں نے آئین اور قانون کی روشنی میں میرٹ پر کیا تھا، لہٰذا وہ میری حمایت صرف اہلیت و صلاحیت کی بناء پر کریں، بھٹو کی ضمانت منظور کرنے کے عوض نہیں مگر وکیل صاحب کو میرا جواب پسند نہ آیا تاہم یہ الیکشن میں نے بھاری اکثریت سے جیتا۔ یہ جسٹس صمدانی تھے جنہیں فیلڈ مارشل ایوب خان کی والدہ محترمہ کا ایک سفارشی رقعہ موصول ہوا تو انہوں نے رقعہ لانے والے کے سامنے لفافہ کھولے بغیر آتش دان میں پھینک دیا اور باور کرایا کہ بطور ایڈیشنل جج ہائی کورٹ وہ نہ تو کسی کی سفارش مانتے ہیں اور نہ دباؤ قبول کرتے ہیں۔ ربوہ واقعہ کی انکوائری رپورٹ میں بھی انہوں نے وہ سب کچھ بلا کم و کاست بیان کیا جو جائے وقوعہ پر پیش آیا تھا، اس بناء پر انہیں مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ کب ایسی باتوں کی پروا کیا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو پیشہ ورانہ سرگرمیوں تک محدود کر لیا تھا، وہ نہ تو بھٹو کی ضمانت والے واقعہ کی تشہیر اور نہ ضیاء الحق کے سامنے کلمہ حق کہنے کا بار بار ذکر کرتے بلکہ دونوں کی خوبیوں اور خامیوں کے بیان میں توازن و اعتدال برقرار رکھتے، کونسل آف نیشنل افیئرز کی ہفتہ وار نشستوں میں وہ اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے اور مختلف قومی و بین الاقوامی موضوعات پر رائے دیتے تو ان کی دانش و بصیرت ژرف نگاہیں اور معاملہ فہمی کے جوہر کھلتے اور ان کی پرمغز گفتگو ہم متبدیوں کے لئے چشم کشا، سبق آموز اور بصیرت افروز ہوتی۔ وہ قومی کردار میں جھول اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے کردار سازی پر توجہ نہ دینے کی پالیسی پر ہمیشہ دل گرفتہ اور ملول نظر آتے اور اسے نمبر ون قومی مسئلہ قرار دیتے۔ اس ضمن میں وہ بے رحم مسیحا کی آرزو کرتے جو جمہوری لبادے میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے تسلط کو ختم کرکے پاکستان کو اصل راستے پر ڈال سکے ورنہ یہ منافقت ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ ضعف کی بناء پر کچھ عرصہ سے انہوں نے سی این اے میں آنا ترک کر دیا تھا۔ اپنے بچوں سے ملنے امریکہ چلے جاتے یا بونیر کا چکر لگا آتے جہاں قادر نگر میں ان کے پیر و مرشد قبلہ عبید اللہ درانی  کی قائم کردہ درگاہ ہے۔ تصوف اور روحانیت سے انہیں عمر بھر لگاؤ رہا وہ قادر نگر ٹرسٹ کے قانونی مشیر تھے اور انہوں نے قادر نگر میں اپنی تدفین کا اہتمام کر رکھا تھا۔ عدلیہ بحالی تحریک کے دنوں میں وہ اس بات پر ہمیشہ متفکر اور پریشان نظر آئے کہ قوم نے اعلیٰ عدلیہ سے غیر ضروری اور غیر معمولی توقعات وابستہ کر لی ہیں، وکلاء قیادت جذباتی نعروں سے عوام کی توقعات بڑھا رہی ہے جبکہ قومی زوال میں دیگر اداروں کے ساتھ عدلیہ کا بھی حصہ ہے اور عدلیہ بحالی کے بعد عوام کی مایوسی کا ازالہ کون کرے گا۔ وہ سول سروس آف پاکستان سے جوڈیشری کا حصہ بننے والے ججوں کو طبقہ وکلاء سے جج بننے والوں کے مقابلے میں زیادہ باصلاحیت، ویژنری اور معاملہ فہم قرار دیتے تھے، مستشنیات البتہ ہر جگہ ہوتی ہیں۔جسٹس کارنیلس سے وہ متاثر تھے اور اپنا رہنما مانتے، ججوں کی خود نمائی اور میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں ہونے والے عدالتی ریمارکس کو وہ آئین و قانون اور عدل و انصاف کے بنیادی تقاضوں سے متصادم قرار دیتے تھے، ”جج کو نہیں فیصلوں کو بولنا چاہئے، یہی عدالت کا وقار اور اعتبار ہے“ موجودہ عدلیہ میں ایک سے بڑھ کر ایک قابل، دیانتدار اور انصاف پسند جج موجود ہے، مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی، جسٹس صمدانی کی صرف قابلیت اور دیانتداری مسلمہ نہ تھی نمود و نمائش سے گریز، سادگی اور صلہ و ستائش سے بے نیازی ان کا خاص وصف تھا اور شہرت سے پرہیز نے انہیں دریشوں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔ آٹھ دس روز قبل انہوں نے اہلیہ سے فرمائش کی کہ مجھے قادر نگر (بونیر) لے چلو، زیادہ دن شائد میں زندہ نہ رہوں، چاہتا ہوں اپنی آنکھوں سے قادر نگر کے گلی کوچوں کا نظارہ کر سکوں اور مرنے کے بعد مجھے لے جانے کی زحمت آپ لوگوں کو اٹھانی پڑے، گزشتہ روز اطلاع ملی کہ وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جہاں انہیں قبلہ عبید اللہ درانی کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر اپنے پیر و مرشد کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار وہ ان الفاظ میں کیا کرتے تھے من خاک کف پائے سگ کوئے تو ستم (میں آپ کے کوچے کے کتے کے پاؤں کی خاک ہوں، یہی میرا اعزاز ہے) اسے آپ غلو سمجھیں یا فنا فی الشیخ مرید کی عقیدت و محبت کا انداز مگر صمدانی صاحب کے جذبات یہی تھے۔ پیر و مرشد سے عشق نے انہیں قادر نگر میں آسودہ خاک کیا ہے  گر عشق نہ بودے بہ خدا کس نہ رسیدے حسن ازلی پردہ زرخ بر نہ کشیدے 
Post a Comment