Tuesday, 15 October 2013

اگلے پانچ سال تک پیشہ وکالت کو جوڈیشل پالیسی کے زریعے صفحئہ ہستی سے مٹا دیں گے

افغانستان کی عدلیہ کے پیشکار کا انٹرویو
ویسے تو عدلیہ میں بے تحاشا کردار ہیں لیکن سب سے اہم کردار جو اس وقت انٹرویو کیلئے ہمارے درمیان موجود ہیں وہ ایک پیش کار ہیں پیش کار صاحب کسی تعارف کے محتاج تو نہیں کیوں کہ اپنی دنیا کے بے تاج بادشاہ بھی ہیں اور شہنشاہ بھی کلاچی کی ایک عدالت میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے ہیں ہمارے درمیان موجود ہیں چونکہ کورٹ میں ان کی مصروفیات زیادہ ہوتی ہیں اس لیئے انہوں نے بہت ہی مشکل سے انٹرویو کا وقت دیا ہے انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں ان سے ان کے اپنے بارے میں اور ان کے پیشے کے بارے میں پوچھتے ہیں

جناب پیش کار صاحب ویسے تو آپ اپنی تعریف خود ہیں آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن پھر بھی عوام الناس کی آگھی کیلئے آپ اپنے بارے میں تھوڑا بتائیں؟

پیش کار:بہت شکریہ آپ کا کہ آپ نے ہمیں انٹرویو کے قابل سمجھا میرا نام فضل نصر بہاری ہے کلاچی کی ایک عدالت میں اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں میرا کام زیرسماعت مقدمات کی فائلیں ججز کے سامنے پیش کرنا ہے مقدمے کس اسٹیج پر ہے اس کے حوالے سے کورٹ کو آگاہ کرنا ہے میں عدلیہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہوں

سوال:پیش کار صاحب یہ تو آپ نے اپنا سیدھا سیدھا تعارف ہی بیان کردیا آپ اپنا اصل تعارف کروائیں؟

ہیش کار اصل تعارف یہ ہے کہ میں اس وقت ماتحت عدلیہ کا سب کچھ ہوں عدلیہ کا اصل مالک ہوں جو کچھ کرتا ہوں میں کرتا ہوں میں ایک گروپ کی شکل میں کام کرتا ہوں جسے ہماری کورٹ کی زبان میں"پارٹی" کہا جاتا ہے میں پارٹی کو ہیڈ کرتا ہوں میری پارٹی میں کورٹ کا چپڑاسی، پٹے والا،کلرک، علاقے کے تھانے کے تفتیشی افسران  کورٹ محرر جیسے لوگ شامل ہیں اکثر اوقات سیشن جج ،ایڈیشنل سیشن جج اور مجسٹریٹ پارٹی کی سرپرستی کرتے ہیں

سوال: چپڑاسی اور پٹے والوں کو کیوں شامل کرتے ہیں ؟

آپ عدالت میں موجود کسی بھی شخص کو ہلکا نہ لیں عدلیہ اپنے اسٹاف سے اتنا پیار کرتی ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچوں سے کرتی ہے یہ چپڑاسی اور پٹے والے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کورٹ کی ایک ایک پل کی خبر سیشن جج اور ہایئکورٹ تک پہنچاتے ہیں اکثر ججز کی پروموشن میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے ہم تو ان کو مخبر کہتے ہیں ان کا جسٹس صاحبان کے گھروں میں آنا جانا ہوتا ہے جسٹس صاحبان کے گھروں کے روزمرہ کے کام کرتے ہیں سودا سلف لیکر آتے ہیں جسٹس بھی ان سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ خبیث ان کی بھی مخبری کرتے ہیں اور کورٹ سے خبریں کتے کی طرح سونگھ سونگھ کر جسٹس صاحبان کی بیگمات کو بتاتے ہیں بہت سے ہمارے اسٹاف ڈبل مخبر بھی ہیں  اس لیئے آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک پٹے والا یا چپڑاسی کتنا خطرناک ہوتا ہے
سوال: ہیش کار صاحب یہ تو سیدھا سیدھا عدلیہ پر الزام لگانے والی بات ہے یہ آپ کس قسم کی بے ہودہ گفتگو کررہے ہیں کورٹ اسٹاف اور چپڑاسیوں کا ججز کے گھروں میں کیا کام؟

پیش کار لگتا ہے آپ بہت ہی بھولے ہیں آج کل مہنگائی کا دور ہے دوسرا اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ نئے ملازمین گھروں میں ہی چوریاں کرکے بھاگ جاتے ہیں اور بعض اوقات گھریلو ملازمین مالکان کو قتل بھی کردیتے ہیں اس لیئے سیشن ججز اور جسٹس صاحبان اپنے گھروں کے زاتی ملازمین کو کورٹ میں ہی بھرتی کرلیتے ہیں کورٹ سے تنخواہ بھی وصول کرتے رہتے ہیں اور شام کو مفت میں صاحب کے بنگلے میں خدمات سرانجام دیتے ہیں اور کورٹ کی خبریں بھی پہنچاتے ہیں اس طرح موجودہ حالات میں باہر کے ملازمین رکھنے سے بھی نجات مل جاتی ہے اور تنخواہ بھی نہیں دینا پڑتی گھی اپنی کڑاھی میں ہی جائے تو زیادہ مفید ہوتا ہے ویسے بھی عدلیہ میں کام کرنے والے ڈرائیور کی تنخواہ بھی 50000 روپے ہے تمام سرکاری محکموں سے زیادہ تنخواہ ہماری ہے اس لیئے اپنے زاتی ملازمین کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے  مزید تفصیلات جاننے کیلئے آپ ایک کتاب پڑھیں عدالت عالیہ کے نائب قاصد کی کہانی لاہور سے شائع ہوئی ہے آپ کو یہ کتاب کسی بھی لاء بک سیلر سے مل جائے گی اسی طرح جو اسٹاف زیادہ خدمت گزار ہو اس کو کورٹ میں مجسٹریٹ بھی لگادیا جاتا ہے آپ کو تو پتہ ہے آج کل ایل ایل بی کرنا کونسا مشکل کام ہے لیکن مجسٹریٹ بنانے کیلئے ٹائپسٹوں اور کورٹ کلرکوں اور پیش کاروں کو ترجیح دی جاتی ہے اس وقت بھی ہمارے طبقے کے کافی لوگ جج لگے ہوئے ہیں

سوال: پارٹی کس طرح کا کرتی ہے؟

سب سے پہلے تو یہ سن لیں کہ اسٹاف کی بھی اقسام ہیں جو اسٹاف فیملی کورٹ میں ہوتے ہیں یا سینئر سول جج کی عدالت میں فرائض سرانجام دیتے ہیں وہ ہمارے دھتکارے ہوئے لوگ ہوتے یہاں تو سیدھی سیدھی تنخوا روز،روز کی مزدوری اور چائے پانی ہے یہاں ایسے غریب اسٹاف ہوتے ہیں جن کا کوئی ولی وارث نہیں ہوتا ان کو جس جسٹس یا سیشن جج نے بھرتی کیا ہوتا ہے وہ مرکھپ گیا ہوتا ہے اگر کوئی وکیل 100 یا 50 روپے دے دے تو اس کی مھربانی اسٹاف کی دوسری قسم وہ ہے جو مجسٹریٹ کی عدالت میں فرائض سرانجام دیتے ہیں مجسٹریٹ کی کورٹ تو یوں سمجھیں کہ "سونے کی ریکوڈک کان" اتنی آمدن اتنی آمدن ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے اسی طرح ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا اسٹاف ہے یہ سارے ہی لوگ بااثر ہوتے ہیں پہلے ہم اپنے جج کو گھیرتے ہیں اگر صاحب ہمارے چکر میں آجائے تو وارے نیارے پھر تو عدالت میں ایسی مارا ماری شروع ہوتی ہے کہ دن رات کی آمدن جس کا تصور بھی ناممکن ہے سارے ٹیم ممبر اپنا اپنا کام کرتے ہیں ہم کورٹ میں آنے والے سائلین کو گھیرتے ہیں ان کے کام کرواتے ہیں ان کے کیسز ختم کرتے ہیں اس طریقے سے ہمارا روزگار چلتا ہے لیکن اگر خدانخوستہ مجسٹریٹ صاحب کو ایمانداری کا ہیضہ ہو تو پھر کام کافی متاثر ہوتا ہے لیکن ہاتھ ہولا رکھ کر کما ہی لیتے ہیں

اگر جج آپ کے چکر میں آجائے تو پھر کس طرح آپ لوگ اپنا سسٹم چلاتے ہیں؟

مجسٹریٹ ہمارے چکر میں آجائے تو اس کے اورہمارے وارے نیارے  پارٹی متحرک ہوجاتی ہے سب سے پہلے اچھے والے تھانے جہاں کچی آبادیاں اور پٹھان لوگ زیادہ ہوتے ہیں وہ ہم اپنے علاقہ حدود میں شامل کرواتے ہیں صاحب کو بادشاہ کی طرح سکون سے چیمبر میں بٹھادیتے ہیں اور کورٹ کے تمام "لانجے" ہم خود نمٹاتے ہیں ہزار قسم کے مسائل ہوتے ہیں بار کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے میڈیا سے بنا کر رکھنا ہوتا ہے سرکاری وکیل کو اوقات میں رکھنا ہوتاہے شور مچانے والے وکلاء کو قابو کرنا ہوتا ہے بے "ایم آئی ٹی" والوں کو قابو کرنا ہوتا ہے شمار مسائل ہیں آپ سمجھ نہیں سکتے یہ پیش کار کی  کرسی کوئی عام کرسی نہیں ہے یہ امتحانات اور آزمائیش کی کرسی ہے ہم دن رات کام کرتے ہیں شام کو بڑی بڑی پارٹیوں سے ڈائرکٹ ڈیل ہوتی ہے جن کے کیسز کورٹ میں زیرالتواء ہوتے ہیں ہم وہ کرتے ہیں وہ بھی میں خود کرتا ہوں آپ کو پتا ہے آج کل بے ایمانی کا دور ہے اکثر اسٹاف لاکھوں میں ڈیل کرکے ہمیں 5000 ہزار پکڑا دیتے ہیں کلاچی شہر میں بڑے بڑے گینگ، مافیا ، ڈکیت،منشیات فروش، بھتہ خوراور طالبان قسم کے لوگ ہیں وہ سب ہمارے کلائنٹ ہیں عدالتوں سے کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے اس لیئے ساری پبلک ڈیلنگ میں خود کرتا ہوں سارا کاروبار کیش میں کرنا ہوتا ہے یہ بھی ایک رسک ہے پیسہ کمانا اتنا مشکل نہیں جتنا مشکل پیسہ بچانا ہوجاتا ہے سارے کام سنبھل کر کرنے ہوتے ہیں  کورٹ کی ساری کی ساری ذمہ داری میرے پاس ہوتی ہے یہاں تک کہ ریمانڈ تک میں دیتا ہوں  چالان پر دستخط بھی اکثر اوقات میں ہی کردیتا ہوں کس کو بری کرنا ہے کس کو سزا لگانی ہے سب کام میرا یہ سارے کام بچ بچا کر کیونکہ جج کی عزت ہماری عزت ہوتی ہے اگر جج پر کوئی مشکل آجائے تو پورا کاروبار خراب ہوتا ہے لیکن ججز کی اکثریت بھی رشتہ داری کی بنیاد پر ہے کوئی کسی جسٹس کا بھانجا ہے یا بھتیجا کوئی داماد ہے تو کوئی سالا کہیں بیوی کو لگا رکھا ہے تو کہیں بھاوج کو سب کی کہیں نہ کہیں کوئی رشتہ داری ہے اس لیئے بہت طریقے سے چلنا ہوتا ہے اسی طرح اگر کبھی ہماری لاٹری لگ جائے تو ڈسٹرکٹ میں "آئٹم جج" آجاتا ہے

آئٹم سونگ کا تو سنا ہے یہ "آئیٹم جج" کیا ہوتا ہے؟




پیش کار: یہ ہماری اپنی کورٹ کی زبان ہے پھر بھی آپ کو سمجھا دیتا ہوں جب کسی سیشن جج کو ایڈیشنل جسٹس بنا کر ہایئکورٹ میں بھیجا جاتا ہے اور ایک سال بعد اس کو کنفرم نہیں کیا جاتا تو اس کو ہماری زبان میں" آئٹم جج" کہا جاتا ہے اس "دل جلے" کا دل تو عدلیہ پر ویسے بھی جلا ہوتا ہے کیونکہ جسٹس بننے کے بعد کنفرم نہ ہونا اور واپس ماتحت عدلیہ میں بحثیت سیشن جج آنا کسی زلت سے کام نہیں پھر وہ دل جلا جج عدلیہ سے انتقام پر اتر آتا ہے اور خودکش بمبار بن جاتا ہے ایسی لوٹ مار کرتا اور کرواتا ہے کہ سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیتا ہے بیچارے نفسیاتی مریضوں کی طرح ہروقت روتے رہتے ہیں کہ اتنے سال عدلیہ کی خدمت کی کیا ملا؟ ہر وقت اس شیروانی کو چومتے رہتے ہیں جس کو پہن کر انہوں نے بحثیت جسٹس حلف لیا ہوتا ہے ایسے جج کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے کسی فوج کے جرنل کو کسی دشمن ملک کے مفتوحہ علاقے کا حاکم بنا کر بھیج دیا جائے اور اس کی ڈیوٹی لگا دی جائے کہ اس شہر کو تباہ کردو آئیٹم جج سب کچھ تباہ و برباد کرکے جاتا ہے اوپر سے بھی حکم ہوتا ہے کہ ایک دوسال ہیں اگر دوچار فیکٹریاں اور دوچار بنگلے بناسکتے ہوتو بنا لوسسٹم ہر صورت میں اپنے لوگوں کا تحفظ کرتا ہے جب ایسا سیشن جج  آجائے تو ہماری موج ہی لگ جاتی ہے ہماری کمپنی میں شامل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن ججز بھی سکھ کا سانس لیتے ہیں کیونکہ سیشن جج کا تو "لانجا" ہی ختم ہوجاتا ہے اگر ہایئکورٹ میں کوئی شکایت ہوجائے تو وہ بھی اتنے سادہ ہیں کہ سیشن جج سے ہی رپورٹ لیتے ہیں اور سیشن جج کا جواب حتمی ہوتا ہے  "میر کتنے سادہ ہیں کہ ہوئے بیمار جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں" سیشن جج لکھ دیتا ہے کہ سب ٹھیک ہے  اور اگر سیشن جج "آئیٹم" ہوتو وہ اپنے بچوں کو پورا پورا تحفظ دیتا ہے لیکن آئیٹم جج آتا کبھی کبھی ہے اور نصیب والے ضلع میں آتا ہے لیکن جب آتا ہے تو اپنا پورا پورا رنگ دکھاتا ہے

فرض کریں کہ جج آپ کے جھانسے میں نہیں آتا وہ نہ رشوت لیتا ہے اور نہ لینے دیتا ہے؟

نہیں آتا تو نہ آئے ہم ایسا چکر چلاتے ہیں کہ وہ خود ہی وکیلوں سے الجھ رہا ہوتا ہے ہمارے کمپنی میں شامل لوگ خود ہی جھوٹی شکایات لگاتے رہتے ہیں ہم کورٹ کے کام ایسے بگاڑ کر رکھتے ہیں کہ اس کی شکایات ہر وقت بار تک پہنچتی رہتی ہیں کورٹ کا اسٹاف شام کو جسٹس صاحبان کے کان بھر رہا ہوتا ہے کہ مجسٹریٹ رشوت لے رہا ہے اور اگر جج اپنے اسٹاف ہی سے الجھ بیٹھے تو اس کا انجام بھی اچھا نہیں ہوتا اسٹاف کا وہ کیا بگاڑے گا اپنا آپ ہی بگاڑ بیٹھتا ہے ہماری نوکری پر تو ایسا سیمنٹ لگا ہے کہ اس کا کوئی توڑ نہیں لیکن جج  کا ایسا ٹرانسفر کرواتے ہیں کہ یاد ہی کرتا ہے پوری زندگی یاد کرتا ہے ویسے بھی خوب کان کھول کر سن لیا جائے کہ کوئی بھی جج ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا "ہم سے الجھوگے تو زمانے میں جیوگے کیسے ہم تو ظلم کی ہر دیوار گرادیتے ہیں" ویسے بھی جب کوئی جونئیر وکیل پہلے دن عدالت میں اپنے سینئر کے ہمراہ پیش ہوتا ہے تو اچھا سینئر پہلا سبق ہی کورٹ میں آکر یہ دیتا ہے کہ کہ بیٹا کورٹ اسٹاف سے بنا کر رکھنا اور کورٹ کے چپڑاسی کو بھی ہرگز معمولی نہ سمجھنا اگر کورٹ کے چپڑاسی سے الجھوگے تو سمجھو آپ چیف جسٹس آف ہندوستان سے الجھ رہے ہوتم اس کی قیمت چکا نہ سکوگے اس وجہ سے سمجھدار وکیل اور جج ہم سے الجھنے کی حماقت نہیں 

کرتے اور ہم بھی سسٹم میں شامل لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں

وہ کونسا جج ہے جس نے آپ کو سب سے زیادہ مشکل سے دوچار کیا؟

یہ سن کر پیش کار نے ایک قہقہ لگایا اور کہا وہ بھی تھا ایک پاگل سیشن جج تھا ڈاکٹر ظفر شیروانی، پی ایچ ڈی کرکے پاگل ہوگیا تھا کہتا تھا کہ عدلیہ سے کرپشن جڑ سے ختم کروں گا  عدالتی اصلاحات لاؤں گا عدلیہ کو اکیسویں صدی کے تقضوں سے ہم آہنگ کردوں گا پھر اس پاگل نے ماتحت عدلیہ کیلئے2004 میں ایک سوفٹ ویئر بھی بنوا لیا کیونکہ سیشن جج تھا اس لیئے اپنے ضلع کا سارا سسٹم آن لائن کردیا اپنے ضلع کی ہر کمرہ عدالت میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا دیئے کورٹ کی ڈائیری کو کمپیوٹرائزڈ کرکے آن لائن کرکے ہمارے فراڈ کے سارے راستے بند کروادیئے سب کچھ کمپیوٹرائزڈ کردیا بہت مشکلات سے دوچار کیا اس نے ہمیں کورٹ اسٹاف اور ججز سے پورا دن ڈیوٹی کرواتا تھا سی سی ٹی وی کیمرے سے نگرانی کرتا تھا کہ جج کورٹ میں بیٹھا ہے یا نہیں میں نے ایک بار ایک سائل سے 500 روپے لے لیئے کیونکہ مجبوری کا زمانہ تھا میری ویڈیو بنا لی مجھے شوکاز نوٹس جاری کیا بہت مشکل سے معافی تلافی ہوئی جج بیچارے پورا دن کورٹ میں بیٹھ کر کورٹ کی کاروائی چلاتے تھے چیمبر پریکٹس سختی سے بند تھی کورٹ اسٹاف اور ججز کی شکایات داخل کرنے کیلئے ایک نظام متعارف کروایا کورٹ اسٹاف کے خلاف کرپشن کی شکایات پر شوکاز نوٹس جاری کیئے رشوت لینے پر برطرف کیا پہلے رشوت لینے سے روکا پھر ان کے روزگار کا ہی دشمن بن گیا اتنا ظلم کرتا تھا اس ظالم نے مظلوم غریب پولیس والوں تک کو نہ بخشا ان کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کروائی  سب کاروبار چوپٹ ہوگیا تھا سارا اسٹاف یونیفارم میں آتا تھا کیا پولیس والے اور کیا کورٹ محرر سب پریشان تھے جعلی ضمانت کا نفع بخش کاروباراپنے ضلع میں بند کروادیا بہت سمجھایا شیروانی کو ایسا نہ کر سسٹم کو نہ چھیڑ بلکہ سسٹم کا حصہ بن کر کام کر خود بھی کما دوسروں کو بھی کمانے دے ہمارے بچوں پر بھی رحم کھا اور اپنے بچوں پر بھی ترس کھا وہ مانتا ہی نہ تھا پھر ہم نے کہا چل ایسا کر 20 لاکھ روپیہ ہم سے ماہانہ لے لے اور یہ کمپیوٹرائزڈ آن لائن عدالتوں کا کاروبار بند کردے یہ سافٹ ویئر جلادے بہت سمجھایا سیشن ججز نے بھی سمجھایا کہ شیروانی ہمارے بچوں پر ترس کھا بہت خرچا ہے گھر کا بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں ماہانہ تنخواہ کہاں پوری ہوتی ہے ہمارے روزگار سے نہ کھیل یہ لوگ کمپیوٹرائزڈ پرانے فرسودہ سسٹم کے قابل ہیں ان لوگوں کی عادتیں خراب نہ کرو کئی جسٹس حضرات نے پیار سے سمجھایا کہ شیروانی ایسا کام نہ کر جس سے پوری عدلیہ کو پریشانی ہو تیری وجہ سے سب کو پریشانی ہورہی ہے جب سارا سسٹم آن لائن ہوجائے گا تو کرپشن کے سارے راستے بند ہوجائیں گے  لیکن وہ ایسا ضدی سرکش اڑیل اور سرپھرا تھا کہ مانتا ہی نہ تھا  ایک جسٹس نے تو یہاں تک کہا کہ شیروانی یاد رکھنا اگر سسٹم کا حصہ بن جا تو ایک دن پورے صوبے کا چیف جسٹس بن جائے گا سسٹم کو چھیڑے گا تو " ایک وقت آئے گا جب تم پچھتاؤگے"  تمہیں ہماری نصیحتٰیں یاد آئیں گی پھر اس نے عدالتی ریکارڈ کیپنگ پر سافٹ ویئر کا آئیڈیا پیش کردیا جس کے بعد اوپر سے لیکر نیچے تک سب سمجھ گئے کہ یہ شخص اپنے پاگل پن سے پورے سسٹم کو ہی تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے لیکن ظلم تو ظلم ہوتا ہے بڑھتا ہے تو مٹ ہی جاتا ہے ہمارے روزگار کے دشمن کے سامنے بار کی ایک طاقتور شخصیت پیش ہوئی اور کہا کہ آپ چیمبر میں دلائل سن لیں تو اس سرکش اور ضدی جج نے کہا "میری عدالت میں چیمبر میں نہ ہی مقدمات سنے جاتے ہیں اور نہ ہی چیمبر میں فیصلے ہوتے ہیں اوپن کورٹ میں دلائل سن کر اوپن کورٹ میں ہی فیصلہ سناتا ہوں میں چیمبر پریکٹس پر لعنت بھیجتا ہوں" بار کے عہدیدار نے کہا شیروانی تم لعنت بھیجتے ہو چیمبر پریکٹس پر ہم تو نہیں بھیجتے توبہ تم نے کی ہے ہم نے نہیں کچھ دن بعد ہی ایسا ٹوپی ڈرامہ تیار ہوا کہ سسٹم تبدیل کرنے والے کی اپنی ہی تبدیلی ہوگئی اندرون سندھ بھیج دیا کہ بیٹا اب وہاں چلا جا جو انقلاب لانا ہے لے آ
بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ وہ وکلاء کا ایجنٹ تھا وہ پیشہ وکالت کو ماتحت عدالتوں میں دوبارہ زندہ کرنا چاہتا تھا لیکن بات صرف ٹرانسفرتک نہ رکی سسٹم نے اس سے پورا پوار انتقام لیا ایسا انتقام کہ اب پورے سسٹم میں کوئی بھی شخص عدالتی اصلاحات کا سوچ بھی نہیں سکتا سسٹم اپنے مجرم کو معافی نہیں دیتا  پی سی او دور میں حلف لیکر جسٹس بن گیا تھا  کیونکہ سیشن جج تھا اسی بنیاد پر اس کا پورا کیئرئیر غرق ہوا اگر آپ سسٹم کو تباہ و برباد کردینے کے اس منصوبے کو دیکھنا چاہیں تو اس کا لنک موجود ہے کبھی موقع ملے تو دیکھ لیجئے گا
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طریقے سے وہ پاگل وکیلوں کا ایجنٹ بن کر ہمارا 
روزگار تباہ کرنا چاہتا تھا

سوال لیکن پی سی او کی زد میں تو کافی جج آگئے تھے؟

پیش کار یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے جو سسٹم کے لوگ تھے سسٹم نے ان کی حفاظت کی قسم کھائی ہے اور ان کی حفاظت کی دیکھ لیں سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کا انچارج پی سی او جج ہے باقی چیزوں کو چھوڑ ہی دیں اسی طرح ایسے پی سی او جج جو سٹم کے لوگ تھے ان کے آج بھی وارے نیارے ہیں اگر شیروانی صاحب سسٹم کا حصہ بن جاتے تو وہ بھی آج اعلی عدلیہ میں کسی اہم ترین عہدے پر ہوتے کئی فیکٹریوں کے مالک ہوتے  ڈیفنس اور اسلام آباد میں کئی بنگلے ہوتے ایمانداری اور عدالتی اصلاحات  کے چکر میں ایک زہین انسان خراب ہوا لیکن شیروانی کے عبرت ناک انجام سے ناسمجھ ججز کو عقل آگئی ہے عدالتی اصلاحات کے نعرے بلند کرنے والوں کی اپنی اصلاح ہوگئی

جوڈیشل پالیسی کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

جوڈیشل پالیسی ہمارے ایک پیش کار نے لکھی اور بنائی ہے اس میں فرسودہ سسٹم سے منسلک تمام کرپٹ اسٹیک ہولڈرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے پہلے ہماری یونین نے منظوری دی اس کے بعد اس کو پیش کیا گیا انشاءاللہ 2018 تک ماتحت عدلیہ سے فوجداری پریکٹس کا تو مکمل خاتمہ ہمارا ٹارگٹ ہے کئی شہروں میں خصوصاً کلاچی میں تو کافی حد تک کریمنل سائڈ کی پریکٹس تو ختم ہی ہو کر رہ گئی ہے جہاں تک سول اور فیملی مقدمات ہیں اس میں تھوڑی بہت پریکٹس رہے گی یہ تو آپ جانتے ہیں کہ دیوانی مقدمات میں کافی "لانجے" ہوتے ہیں وکیل کی ضرورت رہتی ہے لیکن ہمارے پاس مزید پانچ سال ہیں انشاءاللہ پیشہ وکالت کو صفحہ ہستی ہی سے مٹادیں گے جوڈیشل پالیسی کا اصل ٹارگٹ ہی پیشہ وکالت کا خاتمہ ہے مکمل خاتمہ


اس وقت سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

پیش کار سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم لوگ لاکھوں کروڑوں روپیہ جو عدالتوں سے کمارہے ہیں اس کو ٹھکانے لگانا کیونکہ نفسا نفسی کا دور ہے بھائی کے نام جایئداد بنائیں تو وہ ہڑپ کرجاتے ہیں بیوی کے نام بنائیں تو یہ بھی رسک ہمارے ایک اسٹاف نے بیوی کے نام ڈیفنس میں بنگلہ بنایا جب بیوی لڑجھگڑ کر گئی تو بنگلہ بھی ضبط کرلیا اب وہ بیچارا کنگلا ہو کر گھوم رہا ہے اس طرح کے واقعات آتے ہیں تو دل ڈرتا ہے مجبوراً اب ہم اپنے نام سے ہی فلیٹ اور بنگلے خرید رہے ہیں لیکن ڈر لگا رہتا ہے کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے پر کوئی گڑ بڑ نہ ہوجائے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن منہ بند کرنے کیلئے ہڈی تو ڈالنی پڑتی ہے
آزاد عدلیہ کے بارے میں کیا خیالات ہیں ؟
پیش کار وہی خیالات  جو پوری  قوم کے سپریم کورٹ کا بنچ نمر 1 آزاد عدلیہ ہے اس میں کوئی کرپشن نہیں ہے ماتحت عدالتیں ٹریبونل اور وغیرہ وغیرہ آزاد عدلیہ میں نہیں آتے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭افغانستان جہاں کی ماتحت عدلیہ کرپشن کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے کے پیش کار کے انٹرویو کی پہلی قسط پیش خدمت ہے دوسری قسط بہت جلد٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Post a Comment