Thursday, 31 October 2013

گل گئے گلشن گئے دھتورے رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برٹش ہمیں ایک اچھا عدالتی ڈھانچہ دے کر گئے تھے احتساب کا نظام سخت تھا اس زمانے میں بھی کیس مینیجمنٹ کا وہ نظام موجود تھا جس کی جدید شکل کو ہماری عدلیہ نے مسترد کرکے اپنے آپ ہی کو کرپشن کی خود ہی اجازت دی ہے جج کو اختیار تھا کہ وہ اپنے اسٹاف کی کرپشن کے خلاف نوٹس لے سکے اور ان کو ملازمت سے برخاست کرسکے ایک اہم اخلاقی روایت یہ بھی موجود تھی کہ اگر باپ کو جسٹس بنایا گیا تو بیٹا جا کر دوسرے صوبے میں پریکٹس کرتا تھا کیونکہ اخلاقیات اور ضابطے اجازت نہیں دیتے تھے کہ بیٹا باپ کے سامنے کیس کیس میں پیش ہوسکے
جسٹس بنتے ہی لاء فرم بند کردی جاتی تھی یہ واقعی بند ہوتی تھی تھی آج کل کی طرح ڈھکوسلہ نہیں ہوتا تھا اور سابقہ لاء فرم کے جونئیر ان کے سامنے کیس بھی نہیں چلا سکتے 
تھے
گل گئے گلشن گئے۔۔۔۔۔دھتورے رہ گئے
بدقسمتی سے قواعد و ضوابط تبدیل کرکے بیٹے کو  باپ کے سامنے پیش ہونے کی  اجازت دی گئی مزید بدقسمتی یہ کہ دسرے صوبے میں جاکر پریکٹس کرنے کی بجائے اپنے ہی صوبے میں پریکٹس کی اجازت دے کر ایک نیا منفی رجحان متعارف کروایا گیا
بدقسمتی سے ہم جہاں دیگر شعبوں میں کمزور ہوئے وہیں اخلاق کے میدان میں بھی ہمیں مسائل کا سامنا ہے

انصاف کرنا کافی نہیں ہوتا انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا ضروری ہے

:تحریر صفی الدین اعوان
Post a Comment