Tuesday, 15 October 2013

پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے زریعے نمائیندگی پر اعتراضات کا جائزہ

پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز میں خواتین کی  مخصوص نشستوں کے زریعے نمائیندگی کے حوالے سے کیئے گئے مطالبے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے چند آئینی نوعیت کے اعتراضات سامنے آئے جن کی وضاحت بہت ضروری ہے اس حوالے سے پہلے ہی وضاحت کی جاچکی ہے کہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ مخصوص نشستیں کچھ عرصے کیلئے مخصوص ہونی چایئں اور انتخابات براہ راست ہونا چاہیئے کسی بھی قسم کی بالواسطہ نمایئندگی کی مخالفت کی جائے گی اور قبول نہیں کیا جائے گا سوائے پاکستان بارکونسل جہاں ممبران کو بالواسطہ صوبائی بار کونسلز کے ممبران منتخب کرتے ہیں ایک اعتراض بار بار کیا جارہا ہے کہ خواتین کو پہلے ہی ڈسٹرکٹ کورٹس میں ہمدردی کا ووٹ ملتا ہے وہ مقابلہ کریں اور براہ راست الیکشن کے زریعے منتخب ہوکر آئیں جیسا کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر اور محترمہ نور ناز آغا نے جدوجہد کے زریعے اپنا مقام بنایا جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور محترمہ نورناز آغا صاحبہ کو پاکستان بار کونسل میں نمائیندگی کیوں نہیں دی گئی؟ آخر ان کی جدوجہد میں کیا کمی تھی کہ آج پاکستان بار کونسل میں ان قابل قدر خواتین کو نمائیندگی نہیں دی گئی؟ کیا اندرون سندھ جنوبی پنجاب کے بہت سے شہروں میں خواتین کو وکالت کے یکساں مواقع میسر ہیں پسماندہ علاقوں میں تو خواتین وکلاء کو صرف اور صرف ووٹر بنایا جاتا ہے اور صرف الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کروانے کے بعد ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے کیا خواتین وکلاء کو کام کرنے کا بہتر ماحول میسر ہے ڈسٹرکٹ کورٹس میں کرپشن کی وجہ سے لوکل لاء فرمز تو ویسے بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں اور جونیئر وکلا کو کوئی معاوضہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس وجہ سے ایک عام لڑکی کیلئے تو اس شعبے میں آنا ہی ناممکن ہوجاتا ہے اس لیئے ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک ان مسائل کی نشاندہی کررہا ہے جن سے خواتین خصوصاً جونیئر وکلاء دوچار ہیں خواتین وکلاء ہرگز ہرگز براہراست الیکشن سے راہ فرار اختیار نہیں کررہی ہیں اور بہت سے لوگوں نے اس کو آگے آنے کیلئے شارٹ کٹ قرار دیا ہے ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اسی سال کراچی بار کے الیکشن میں جونئیر خواتین کی نمایئندہ فائزہ علی منیجنگ کمیٹی کے الیکشن میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ثابت کردیا کہ ہم براہ راست الیکشن سے فرار نہیں چاہتے لیکن ایک ممبر منیجنگ کمیٹی وکلاء کی پالسی سازی کے معاملات پر کیا کردار ادا کرے گی ویسے بھی ڈسٹرکٹ بار پالیسی ساز ادارے نہیں ہیں اور پالیسی ساز اداروں میں نمایئندگی کا وہ حق ہم خواتین وکلاء مانگ رہی ہیں جو ہمیں حاصل نہیں ہے
آئین پاکستان کا آرٹیکل 34 ہماری بھرپور رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خواتین کی قومی زندگی کے ہرشعبے میں شمولیت کی بھرپور توثیق کرتا ہے
فیصلے کے اختیارات ہمارے سینئر وکلاء کے پاس تھے جب پاکستان بار کونسل کے ممبران کو بالواسطہ انتخابات کے زریعے منتخب کیا گیا تو خواتین وکلاء کو منتخب نہ کرکے ان کو نمائیندگی نہ دے کر خواتین وکلاء کو اس اہم ترین قومی ادارے میں شمولیت سے روکا گیا ہے جوکہ خواتین وکلاء کے بنیادی حقوق سے انحراف کے مترادف ہے 


Post a Comment