Friday, 18 October 2013

پاکستان بار کونسل میں خواتین کی نمائیندگی موجود نہیں ہے صوبائی بار کونسلز میں بھی نمائیندگی نہ ہونے کے برابر : لاء سوسائٹی پاکستان



میرا نام عشرت سلطان ہے اور میں نے شعبہ وکالت میں 2012 میں قدم رکھا اسی دوران میں نے  پاکستان میں امریکی عوام کے تعاون سے  قائم ادارے یوایس ایڈ پاکستان کے صنفی مساوات کے تحت شروع کیئے گئے پروگرام میں بطور انٹرن شمولیت اختیار کی  یہ پروگرام عورت فاؤنڈیشن نے ایشیاء فاؤنڈیشن اور یوایس ایڈ پاکستان کے تعاون سے شروع کیا تھا جس کا مقصد اندرون سندھ خواتین وکلاء کی شعبہ وکالت میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا یہی پروگرام پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی شروع کیا گیا تھا  بطور ایک جونیئر وکیل قدم قدم پر جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد میں نے پروجیکٹ سے منسلک اپنی دیگر انٹرن خواتین وکلاء کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ خواتین وکلاء کیلئے ایک ایسا مستقل نیٹ ورک قائم کیا جائے جس کا مقصد خواتین وکلاء خصوصاً جونیئر خواتین وکلاء کی مشکلات کاخاتمہ خاتمہ کیا جائے اسی دوران یوایس ایڈ ہی کی جانب سے 2012 میں لاہور میں ہونے والی خواتین وکلاء کی نیشنل کانفرنس  جس میں چاروں صوبوں سے منتخب ہونے والی جونئیر خواتین وکلاء نے شرکت کی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین وکلاء صوبائی اور قومی سطح پر نیٹ ورک تشکیل دیکر اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کریں اورکانفرنس میں موجود پاکستان بھر سے منتخب ہونے والی خواتین وکلاء نے اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا نیشنل کانفرنس میں جونئیر خواتین کو اپنے مسائل شیئر کرنے کا بھی موقع ملا جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ پورے پاکستان میں جونیئر خواتین وکلاء ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں جس کے بعد متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ ہم اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے اپنے صوبوں میں خواتین وکلاء اور خواتین گروپس کے نیٹ ورک قائم کریں گے
 اسی دوران ہم خیال وکلاء کے گروپ نے پاکستان میں عدالتی اصلاحات اور پاکستانی عدلیہ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک ادارے "لاء سوسائٹی پاکستان" کی بنیاد رکھ دی تھی مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایک بانی ممبر کے طور پرادارے کے قیام کے کیلئے پہلے اجلاس میں شرکت کی اور اس ادارے میں ایک بانی ممبر کی حیثیت سے ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر منسلک ہوں بعد ازاں "لاء سوسائٹی پاکستان" نے خواتین وکلاء کے مسائل کے حل کیلئے میری تجویز پر "ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک" کا قیام عمل میں لایا  اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین وکلاء کے حق میں یہ آواز بلند کی کہ خواتین وکلاء کو بار کونسل میں ہونے والی پالیسی سازی کے عمل میں نمائیندگی دی جائے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب خواتین وکلاء کی ایک مناسب تعداد بذریعہ الیکشن منتخب ہوکر سندھ بار کونسل میں موجود ہو اور دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ سندھ بار کونسل میں خواتین کی نمائیندگی نہیں ہے۔
 پورے سندھ سے صرف محترمہ نور ناز آغا واحد ممبر سندھ بار کونسل ہیں آپ نے بزریعہ الیکشن کراچی ساؤتھ سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کراچی کے  ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاوہ کراچی کے دیگر اضلاع ملیر، ضلع ویسٹ، ضلع ایسٹ اورضلع سینٹرل سے کوئی خاتون منتخب نہ ہوسکی اندرون سندھ بھی یہی معاملہ ہے وہاں سے بھی کوئی خاتون ممبر منتخب نہیں ہوسکی نہ ہی خواتین وکلاء نے اس حوالے سے بار کونسل کے الیکشن میں کوئی دلچسپی ظاہر کی یہی صورتحال پورے صوبہ سندھ میں ہے شاید خواتین وکلاء کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ بارکونسل کے الیکشن میں حصہ نہ لینے اور بار کونسل میں خواتین کی نمائیندگی نہ ہونے سے خواتین وکلاء کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جب ہم نے اس حوالے سے فوکس گروپ ڈسکشن کیئے اور سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کیا تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین وکلاء کو بار کونسلز کی نشستوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا یہ احساس ہوا کہ پالیسی سازی کے عمل میں نمایئندگی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین وکلاء کو کس طرح پیشہ ورانہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آخر کار خواتین وکلاء اس شعبے سے مایوس ہوکر دیگر اداروں میں ملازمت اختیار کرنے پر بھی مجبور ہوجاتی ہیں جن خواتین وکلاء کے والدین شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ان کو تو کسی مشکل کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا کیونکہ ان کے پاس مکمل معلومات ہوتی ہیں  لیکن میری طرح خواتین وکلاء کی اکثریت جن کے والدین اس شعبے سے تعلق نہیں رکھتے جب لاء کالج سے فارغ ہوکر اس شعبے میں قدم رکھتی ہیں تو قدم قدم پر مشکلات ان کا راستہ روکتی ہیں ان کی انرولنمنٹ میں مشکلات پیدا کی جاتی ہیں ان کے پاس معلومات کی کمی ہونے کی وجہ سے بعض سینئرز کی جانب سے انرولمنٹ کے عمل میں مجرمانہ طور پر تاخیر پیدا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کو ابتدائی دور سے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواتین وکلاء کوانٹرن شپ کے دوران لاء فرم میں شمولیت کیلئے بھی بے تحاشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے  کیونکہ معلومات کی کمی کی وجہ سے ان کو لاء فرم کے انتخاب میں مشکلات پیش آتی ہیں بڑی لاءفرم تک رسائی حاصل کرنا بھی ایک مسئلہ بن جاتا ہے رسائی حاصل کرنے کے بعد ریفرنس تلاش کرنا بھی ایک مسئلہ ہے یہ بڑے شہروں کی صورتحال ہے جبکہ اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ شہروں کی صورتحال بہت زیادہ خراب ہے پسماندہ شہروں میں تو اس شعبے میں آنا ہی خواتین کیلئے ایک مزاق بن جاتا ہے
خواتین وکلاء کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر ان کی نمائیندگی بار کونسل میں نہیں ہوگی تو وہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی شرکت نہیں کرسکیں گی جیسا کہ موجودہ صورتحال میں ہورہا ہے اس لیئے ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبائی بار کونسلز میں خواتین وکلاء کی متناسب نمایئندگی کو یقینی بنانے کیلئے بار کونسل میں خواتین کا ٪33فیصد کوٹہ مخصوص کیا جائے تاکہ خواتین وکلاء بھی بارکونسلز میں پالیسی سازی کے عمل پر اثرانداز ہوکر خواتین وکلاء کو ان کے حقوق دلاسکیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکیں عدلیہ سے متعلق اہم ترین فیصلے بار اور بنچ مل کر کرتے ہیں چاہے ججز کی تعیناتی کا مسئلہ ہو یا جوڈیشل پالیسی پر عمل درآمد کا مسئلہ ہو ہرسطح پر بار اور بنچ پالیسی سازی سے متعلق اہم ترین فیصلے کررہے ہوتے ہیں تو اس موقع پر بار کونسلز میں صرف اور صرف خواتین کی نمایئندگی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آواز ان کے مسائل دب کر رہ جاتے ہیں
بعض لوگوں کا کہنا اپنی جگہ درست ہے کہ خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہیں وہ چاہیں تو بزریعہ الیکشن انتخابات میں کامیابی حاصل کریں اور سندھ بار کونسل سمیت دیگر صوبائی بار کونسلز میں نمائیندگی کریں ؟
لیکن میرا جواب یہ ہے کہ ہم ڈسٹرکٹ بار ایسویسی ایشن کی سطح پر مخصوص نشستوں کا مطالبہ نہیں کررہے کیونکہ ضلعی سطح پر خواتین وکلاء الیکشن میں حصہ بھی لیتی ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کرتی ہیں جبکہ سندھ ،بلوچستان اور کے پی کے میں خواتین وکلاء کو جو مشکلات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں سندھ کے صرف شہری علاقوں کراچی،حیدرآباد اور سکھر میں ہی خواتین وکلاء کو پریکٹس کے بھرپور مواقع حاصل ہیں دیگر شہروں میں خواتین وکلاء کی حالت زار سب کے سامنے ہے اندرون سندھ کتنی لاء فرمز ایسی ہیں جن کی سربراہی خواتین وکلاء کررہی ہیں؟ شاید ایک بھی قابل زکر لاء فرم موجود نہیں۔  اس لیئے خواتین کیلئے ناممکن ہی ہے کہ وہ اندرون سندھ سے سندھ بار کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکیں اکیسویں صدی میں بھی خواتین صوبائی بار کونسلز کے الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ہیں جبکہ بلوچستان اور کے پی کے کے میں صورتحال اور بھی خراب ہے ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک صرف صوبائی بار کونسلز اور پاکستان بار کونسل میں خواتین کی نمایئنگی کی بات کررہا ہے اور یہ وہ حق ہے جو ہمیں آئین پاکستان بھی دے رہا ہے پاکستان کی تمام صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں خواتین کو مخصوص نشستوں کے زریعے نمایئندگی دی جاسکتی ہے تو بارکونسلز جو کہ آیئنی ادارے ہیں وہاں خواتین وکلاء کو نمایئندگی کیوں نہیں دی جاسکتی؟
خواتین وکلاء کا یہ آئینی  حق ہے کہ دیگرآئینی اداروں جن میں قومی اسمبلی،صوبائی اسمبلیاں اور بلدیاتی ادارے شامل ہیں کی طرح صوبائی بار کونسلز اور پاکستان بار کونسل میں ان کے حق کا احترام کرتے ہوئے نشستیں مخصوص کی جائیں لیکن ہمارا مطالبہ یہ بھی ہے صوبائی بارکونسلز میں مخصوص نشستوں پر انتخابات براہ راست کرائے جائیں کسی بھی قسم کی سلیکشن کی نیٹ ورک بھرپور مزمت کرے گی
 صوبہ سندھ کی سطح پر سندھ بار کونسل اور پاکستان بار کونسل میں خواتین وکلاء کے لیئے 33 فیصد مخصوص نشستوں کے آئینی حق کیلئے ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایک بھرپور مہم کا آغاز کیا جارہا ہے مجھے امید ہے   پاکستان بھر کی سول سوسائیٹی اس حوالے سے "ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک" کی بھرپور حمایت کرے گی

 مس عشرت سلطان ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک کی چیئر پرسن ہیں، لاء سوسائٹی پاکستان کی بانی ممبر اور ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرہیں آپ کا تعلق کراچی سے ہے آپ گزشتہ پانچ سال سے پاکستانی خواتین کے آئینی حقوق کیلئے سرگرم عمل ہیں مس عشرت سلطان کی یہ تحریر لاء سوسائٹی کے سوشل میڈیا گروپس میں یکم ستمبر 2013 کو شائع ہوئی تھی

Post a Comment