Thursday, 17 October 2013

جب ""ایسے ویسے''' لوگ ''کیسےکیسے" ہوگئے اور" کیسے کیسے" لوگ" ایسے ویسے" ہوگئے تو سارا نظام درہم برہم ہوگیا کمینوں کی حکومت میں شرفاء ہی زلیل ہوئے

 ایک سمجھدار شخص کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کیلئے گیا وہ شخص مردم شناس بھی تھا ڈاکٹر نے مریض کا  چیک اپ کیا چیک اپ کرنے کے بعد اس مریض نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ ڈسپنسر ہیں؟ ڈاکٹر بہت لال پیلا ہوا یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں میں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا ہے مریض نے کہا ایک تو آپ ڈاکٹر نہیں ہیں دوسرا آپ کنگ ایڈورڈ کالج کے اسٹوڈنٹ ہونا دور کی بات کنگ ایڈورڈ کالج کے ب باہر سے بھی نہیں گزرے خیر وہ سمجھدار شخص انسانی نفسیات کو سمجھتا تھا اس لیئے بہت ہی سلیقے سے وہ گفتگو کوخوشگوار ماحول میں لانے میں کامیاب ہوہی گیا ایک خوشگوار بحث کے بعد ڈاکٹر نے عاجز ہوکر پوچھا کہ آپ کس بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ایم بی بی ایس نہیں کیا مریض نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میڈیکل کالج میں انسان تعلیم حاصل کرنے جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں ہے ایک میڈیکل کا طالب علم جب میڈیکل کالج میں روزانہ جاتا ہے تو وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اچھے لوگوں کے ساتھ رہ کر رہن سہن سیکھتا ہے اچھے گھرانوں کے طالبعلموں سے بات چیت کرتا ہے  اور پانچ سال اچھے ماحول میں رہنے کے بعد روزانہ کالج آنے جانے کی وجہ سے اس میں ایک نزاکت آجاتی ہے جتنا اچھا میڈیکل کالج ہوگا اس ڈاکٹر میں اتنی ہی زیادہ نزاکت ہوگی اور وہ نزاکت نہ صرف اس کی بات چیت بلکہ لباس اور رویے سے بھی ظاہر ہوگی ڈاکٹر صاحب آپ نے چیک اپ اچھا کیا لیکن آپ کی گفتگو میں مجھے وہ نزاکت نظر نہیں آئی جو ایک ڈاکٹر کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہے آپ کے رویے میں وہ شان وشوکت نہیں جو ایک ڈاکٹر میں ہونی چایئے اس وجہ سے مجھے فوراً اندازہ ہوگیا کہ آپ ڈسپنسر ہیں آپ ڈاکٹر ہو ہی نہیں سکتے
حیرت انگیز طور پر اس ڈاکٹر نے آخرکار تسلیم کیا کہ وہ ڈسپنسر ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کے شعبہ میں کالجز نے صرف پیسہ کمانے کیلئے اپنی داخلہ پالیسی میں نرمی کی صبح کی شفٹ ختم کرکے پارٹ ٹائم میں شام کی شفٹ شروع کی جس کی وجہ سے بینکر،سرکاری استاد،مسلح افواج کے سپاہی،پولیس کانسٹیبل مختصریہ کہ ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو کالج میں بھرتی کیا گیا جس کی وجہ سے یہ شعبہ نزاکت سے محروم ہوگیا صرف کراچی میں یہ صورتحال ہے کہ پاکستان نیوی کے آدھے سپاہی کراچی کے مختلف لاء کالجز سے اس وقت بھی ایل ایل بی کررہے ہیں
سپاہی سطح کے لوگوں میں تو ویسے بھی  میں لیڈرشپ کی صلاحیت "قتل" کردی جاتی ہے کیونکہ مسلح افواج کا بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ افسرکو ہر قسم کی لیڈرشپ کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ سپاہی پورا دن سیلوٹ مار مار کر ویسے ہی لیڈرشپ کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے فوجی ڈسپلن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سپاہی اپنے افسر کا ہر حکم مانے جہاں ملے سیلوٹ مارے اسی طرح کورٹ کلرکس اور چپڑاسیوں کی کثیر تعداد لاء کالجز میں زیرتعلیم ہیں آدھے سے زیادہ ایل ایل بی کرچکے ہیں اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کے چھوٹے موٹے بے شمار ملازمین ہمارے لاء کالجز میں مستقبل کے قانون دان بن رہے ہیں اب ان میں جعلی ڈگری والوں کو تو شامل ہی نہیں کیا گیا
اس پورے عمل میں ایک ایسا اسٹوڈنٹ جس نے باقاعدہ طورپر قانون دان بننا ہوتا ہے وہ بہت زیادہ مسائل کا شکاررہتا ہے  حال ہی میں ہمدرد اسکول آف لاء اور زیبسٹ نے لاء کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا ہے جو طالبعلم اخراجات برداشت کرسکتے ہیں وہاں زیرتعلیم ہیں کیونکہ وہاں قانون کی تعلیم پارٹ ٹائم میں نہیں دی جاتی جبکہ سینئر وکلاء اب زیادہ تر اپنے بچوں کو بیروں ملک سے لاء کی تعلیم دلا رہے ہیں
پاکستان بار کونسل نے ماضی میں متعدد بار یہ اصول وضع کرنے کی نیم دلانہ کوشش کی کسی طرح ریٹائرڈ طبقےکو پیشہ وکالت میں داخلے سے روکا جائے جس طرح میڈیکل کالجز اور انجینرنگ کالج میں کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہوگا کہ "اس قسم" کے ریٹائرڈ اور چپڑاسی سطح کے لوگوں کو داخلہ نہیں ملتا صرف ان کے بیٹے یا بیٹیاں ہی ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتے ہیں  لیکن پاکستان میں ایل ایل بی کرکے کوئی بھی چالیس سال کا شخص صرف بیس ہزارروپے ، پینتالیس سال سے کم تک تیس ہزار روپے پچاس سال سے کم 45000 ہزار روپے پچپن سال تک 70000 ہزار روپے ساٹھ سال سے کم 150000 اور 60سال سے زیادہ عمر کے افراد دولاکھ روپے نقد سکہ رائج الوقت  جمع کرواکر  بار کونسل کے ووٹر بن سکتے ہیں
  اسی ریٹائرڈ طبقے نے پیشہ وکالت کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ان لوگوں نے اس پیشے کو "محنت مزدوری" والا پیشہ بنادیا ہے نزاکت کا تو اللہ ہی حافظ
بدقسمتی سے ماضی میں عدلیہ نے کورٹ اسٹاف کا بھی بطور جج عدالتوں میں تقرر کیا جاتا رہا ہے پیش کار،کورٹ کلرک اور ٹایپسٹ کس طرح بطورجج عدلیہ کی تباہی کا باعث بنتے ہیں اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اکثر سینئر وکلاء اور میری اپنی بھی یہ اللہ سے دعا ہوتی ہے کہ یااللہ کبھی کسی پیش کار یا کورٹ کلرک جج کی عدالت کا کیس نہ دینا کیونکہ یہ ایک اصول کی بات ہے کہ جب کسی کمینے شخص کے پاس اختیار آتا ہے تو وہ اپنی کمینگی دکھانے سے بعض نہیں آتا بدقسمتی سے گزشتہ سال ایک ٹائیپسٹ کے پاس کیس کچھ کیس تھے کچھ عرصے بعد مجھے شک ہوا کہ جج کے اندر نزاکت نہیں ہے کیونکہ اس کا برتاؤ جج کی سیٹ پر بیٹھ کر بھی ایک نچلے طبقے کے کلرک جیسا ہی تھا کچھ عرصے بعد واقعی تصدیق ہوگئی کہ وہ اندرون سندھ کسی کورٹ میں ٹایپسٹ تھا بعد ازاں جج بن گیا اس ٹائپسٹ نے اتنا زچ کیا کہ تنگ آکر تمام کیس دوسری کورٹ میں ٹرانسفر کروالیئے "وہ بڑے فخر سے کہتا تھا کہ پورے سندھ میں میری کورٹ کا ڈسپوزل سب سے زیادہ ہوتا ہے اور مجھے ڈسپوزل مشین کہا جاتا ہے " لیکن میں نے اس ڈسپوزل مشین سے بڑی مشکل سے پیچھا چھڑایا اسی طرح کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک مشہور جج ہیں ذیشان اختر صاحب پیش کار سے سول جج ہوئے اور اب سینیر سول جج ہیں ان کے اندر آج بھی وہ نزاکت نہ آسکی جو کسی جج میں ہونی چاہیئے اور کبھی پیدا ہوبھی نہیں سکتی کیونکہ پیش کار،کورٹ کلرک اور ٹایئپسٹ چاہے جسٹس بن جائیں ان کے اندر کا  نچلے طبقے کا وہ کلرک اور پیش کارانہ زہنیت کبھی نہیں مرتی وہ اپنی نفسیات سے مجبور ہوکر لوگوں کو ضرور تنگ کرے گا اور اتنا تنگ کرے گا کہ لوگ خود ہی کھوج لگالیں گے کہ آخر اس کی زندگی میں ایسا کونسا احساس محرومی رہا ہے جو اس کو ایسی حرکتوں پر اکساتا ہے
اسی طرح کراچی میں ایک مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے اب ان کا اندرون سندھ ٹرانسفر ہوگیا تھا بعد ازاں استعفی دے دیا اسداللہ شاہ راشدی صاحب ماشااللہ ایک انتہائی اچھے گھرانے سے ان کا تعلق ہے اور ان کے اندر ایسی نزاکت جو کسی بھی جج میں موجود ہونی چاہیئے  آپ اگر کبھی ان کے سامنے کسی کیس میں پیش ہوتے تھے تو اندازا ہوتا تھا کہ جج کو کیسا ہونا چاہیئے ایک خاص شاہانہ انداز ایک خاص لیڈرشپ کی صلا حیت ایک انتہائی مناسب گفتگواور ریلیف کا زہن بنا کر ہی بیٹھتے تھے ان کو شہریوں کی تکالیف کا اندازا ہوتا تھا جو وکیل ایک بار کسی اچھے گھرانے کے جج کے سامنے کیس چلائے اس کو پھر چاہے کتنا ہی معاشی نقصان کیوں نہ ہوجائے وہ کسی ایسے جج کے سامنے کبھی بھی پیش نہیں ہوگا جو پیش کار اسٹینو یا کورٹ کلرک رہا ہو

 انہی وجوہات کی بنیاد پر ہی برٹش دور میں کمینے طبقے کے لوگوں کو جج  نہیں بنایا جاتا تھا لیکن برٹش دور میں پیش کار بھی اچھے گھرانوں سے ہی لیئے جاتے تھے اور ان کو اچھی خاصی مراعات اورزمین  الاٹ کی جاتی تھی اور ان کا معاشرے میں ایک نمایاں مقام ہوتا تھا بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد جب ""ایسے ویسے''' لوگ ''کیسےکیسے" ہوگئے اور" کیسے کیسے" لوگ" ایسے ویسے" ہوگئے تو سارا نظام درہم برہم ہوگیا کمینوں کی حکومت میں شرفاء ہی زلیل ہوئے
Post a Comment