Sunday, 20 October 2013

الیکٹرانک میڈیا پر خواتین اور بچوں کے حوالے سے رپورٹنگ کے دوران اخلاقی اور سماجی تقاضوضے

نت نئے موضوعات کی تلاش میں رہنے والے میڈیا کے پاس موضوعات شاید ختم ہوچکے یہی وجہ ہے کہ ہمارا میڈیا آج کل جسم فروشی کے مراکز بے نقاب کررہا ہے کراچی میں کس سڑک پر لڑکیاں لفٹ کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں کس طریقے سے وہ گاہک تلاش کرتی ہیں یہ سب بے نقاب کرنا آج کل میڈیا کا پسندیدہ مشغلہ ہے جس طرح سے میڈیا کی چھاپہ مار ٹیمیں جسم فروشی کے مراکز بے نقاب کرتی ہیں اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیوںکہ میڈیا کاکام ہی اخلاقی برایئوں کو بے نقاب کرنا ہے سول سوسائٹی کو کس چیز پر اعتراض ہے
 1990 تک ہمارے پرنٹ میڈیا کا اصول تھا کہ کسی گھر سے بھاگ جانے والی یا اغوا ہوجانے والی لڑکی کا نام "ج" یا "ز" لکھا جاتا تھا لڑکی کی شناخت کو خبر میں چھپایا جاتا تھا یہ میڈیا کا وہ خود ساختہ سنسر تھا جو وہ اخلاقی تقاضوں اور معاشرتی رویوں کی وجہ سے اپناتا تھا
پرنٹ میڈیا سے وابستہ بہت سے لوگ اخلاقی تقاضوں کا خیال رکھتے تھے حکیم محمد سعید نے ہمدرد کے زیر اہتمام ماہنامہ نونہال کیلئے ایک اصول وضع کررکھا تھا وہ اپنے رسالے میں کوئی غیر اخلاقی لفظ نہیں لکھتے تھے یہاں تک کہ لفظ "بدمعاش" لکھنے پر بھی پابندی تھی اس سے پرنٹ میڈیا کے اخلاقی تقاضوں کی اہمیت کا اندازہ لگا جاسکتا ہے
جرائم میں ملوث بچوں کی شناخت چھپانے کا تو ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم بھی ضمانت دیتا ہے اور اخلاقی تقاضہ بھی ہے خواتین کی شناخت چھپانا بھی ہمارا اخلاقی فرض ہے اگر کوئی بھی خاتون جرم میں ملوث ہے تو قانون اس کے ساتھ بعض جرائم میں نرمی کرتا ہے اس کیلئے ضمانت کے قوانین نرم ہیں ہماری معاشرتی روایات بھی عورت کی شرم و حیا کی ضامن ہیں
90 کی دہائی میں بعض نئے اخبارات نے سنسنی پھیلانے کی نیت سے اس اخلاقی سنسر کو توڑا بڑھا چڑھا کر خبروں کو پیش کیا گیا لیکن مؤثر قانون سازی کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کسی کی پگڑی نہیں اچھال سکتا اور متاثرہ شخص کورٹ میں مقدمہ داخل کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے اخبارات قواعد اور ضوابط کی وجہ سے ایک خاص حد تک محدود رہے سنسنی پھیلانے والے اخبارا عوام میں مقبولیت نہ حاصل کرسکے لیکن ان کا وجود ہے 90 کی دہائی کے بعد "ز" کی بجائے مکمل نام لکھے جانے کا سلسلہ شروع ہوا
پرنٹ میڈیا سے پڑھے لکھے لوگ وابستہ تھے لیکن لوگ جو زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے ان کی تربیت انہی اچھے لوگوں نے کی تھی
"جیو" نے کیبل سسٹم کے زریعے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو صحافتی طبقہ پرامید تھا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا ٹایئکون ادارہ روزنامہ جنگ ان روایات کا امانت دار رہے گا جو روزنامہ جنگ کی علامت سمجھی جاتی ہیں
کسی حد تک کوشش کی جاتی ہے لیکن شاید اخلاقی روایات کا معیار وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے خبروں اور ریٹنگ کی دوڑ میں اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا
آج تمام میڈیا چینلز اس دوڑ میں شریک ہیں جسم فروشی کے مراکز کی رپورٹنگ کی آڑ میں اخلاقی روایات کا جنازہ نکالا جاتا ہے کونسی اخلاقیات اجازت دیتی ہے کہ اس اخلاقی جرم میں ملوث عورت کی شناخت ظاہر کی جائے کونسی اخلاقیات اور مزہب اجازت دیتا ہے کہ پرایئویٹ چینلز کسی فلیٹ یا گھر میں داخل ہوکر وہاں موجود خاتون کا انٹرویو ریکارڈ کریں اور مکمل شناخت کے ساتھ نشر کردیں
اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مزہب اس کی اجازت نہیں دیتا کسی بھی عورت کو چاہے وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو وہ کتنی ہی زناکار بدکار نہ ہو اس طرح سے میڈیا کے کیمروں کے سامنے لاکر اس کو زلیل و رسوا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی
پاکستان میں بہت کچھ غلط ہورہا ہے صرف کراچی میں سینکڑوں پارکس اور رفاہی پلاٹس پر قبضے ہوچکے ہیں کچی آبادی کا پورا ایک مافیا موجود ہے
کراچی جیسے شہر میں علی انٹرپرائز کا سانحہ ہوا 300 سے زائد افراد جل کر کوئلہ ہوگئے ان کی چیخیں آج بھی گونجتی ہیں لیکن کیا میڈیا نے یہ ریسرچ کی کہ پاکستان کی انڈسٹری میں کس طرح صنعتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہورہی ہیں جسم فروشی کے مراکز میں زبردستی داخل ہونے والا میڈیا کسی انڈسٹری میں بھی چھاپہ مار کر دیکھے اور دکھائے کہ مزدوروں کا کس کس طریقے سے استحصال کیا جاتا ہے ان کو ٹیکیداری نظام کے زریعے روزگار کے تحفظ سے محروم رکھا جاتا ہے ان کو روزگار کے حوالے سے فیکٹری میں کام کرنے کا شناختی کارڈ تک نہیں جاری کیا جاتا کہ وہ کسی عدالت میں جاکر روزگار کے تحفظ کا حق ہی نہ لے لیں
پاکستان میں آج بھی مزدور یونین سازی کے حق سے محروم ہیں میڈیا کوشش کرے ریسرچ کرے کہ لیبر یونین کے دور میں انڈسٹری کتنی خوشحال تھی اور یونین کمزور ہونے کے بعد لیبر انسپکٹر کتنے خوشحال اور مزدور کتنے بدحال ہیں
کسی میڈیا چینل نے زحمت نہیں کی کہ علی انٹرپرائز کے سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن کی رپورٹ کا فالو اپ ہی کرلیتا  کوئی تو یہ دکھاتا کہ اصل زمہ دار لیبر ڈپارٹمنٹ ہے  کوئی تو کوشش کرتا کہ علی انٹر پرائز کے بعد لیبر ڈپارٹمنٹ اپنی زمہ داری ادا کرے تاکہ پھر کوئی واقعہ نہ ہو
کوئی میڈیا چینل ہمت کرکے لیبر عدالتوں کی حالت زار ہی دکھا دے کوئی ہمت کرکے اب یہ دکھاہی دے کہ ایک معمولی لیبر انسپکٹر کتنے ہزار گز کے بنگلے میں رہتا ہے اور اس کے پاس قیمتی کاریں کہاں سے آتی ہیں کوئی یہ دکھا دے کہ ہمارے ڈرگ انسپکٹر جس عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اس کا راز کیا ہے
اگر کسی کو حق اور صداقت دکھانے کا اتنا ہی شوق ہے تو صرف سوموٹو ایکشنز پر ہی ایک تفصیلی رپورٹ دکھادے کہ کتنے سوموٹو ایکشن لیئے گئے اور کیا نتیجہ برآمد ہوا
اگر کوئی گٹر باغیچہ کی قیمتی زمین پر قبضے کی رپورٹ نہیں دکھا سکتا تو کوئی مسئلہ نہیں ان سول سوسائٹی کے شہدا کے بارے میں ہی رپورٹ دکھا دے جنہوں نے کراچی کے گٹر باغغیچہ کو بچانے کی ناکام جدوجہد کے دوران اپنی جان ہی قربان کردی کسی کو فرصت ہوتو گٹر باغیچے پر عدلیہ کا فیصلہ ہی دکھا دے کسی کو فرصت ہو جسم فروشی کے مراکز پر چھاپہ مارنے سے فرصت ملے تو سپریم کورٹ میں کراچی کے پارکس اور رفاہی پلاٹوں پر قبضے ایک مقدمہ زیرسماعت ہی اس کی بھی رپورٹنگ دکھا دے
میڈیا کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے جو کچھ نشر ہوتا ہے کروڑوں لوگوں کی رائے پر اثرانداز ہوتا ہے میڈیا ایسے موضوعات تلاش کرے جس سے پورا معاشرہ تبدیل ہو

خصوصاً خواتین اور بچوں کے حوالے سے رپورٹنگ کے دوران اخلاقی سماجی تقاضوں کا خیال رکھا جائے
Post a Comment