Monday, 21 October 2013

۔غلاموں کو بات بات پر غصہ آتا ہے کیونکہ غصہ ہی ان کی واحد ملکیت ہے

یہ بات ہے فروری دو ہزار تین کی ہے۔میں پرانے استنبول میں گھومتے گھومتے نیلی مسجد کے سائے میں ایک چھوٹے سے باغ کی بنچ پر تھک ہار کے بیٹھ گیا۔ میرے برابر میں ایک ترک بزرگ بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔کچھ دیر بعد انھوں نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا کہ کیسے ہو ؟ میں نے کہا تھک گیا ہوں مگر مزہ آرہا ہے۔۔پھر گفتگو شروع ہوگئی۔کسی مقامی کالج میں تاریخ پڑھاتے پڑھاتے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے۔پوچھنے لگے ہمارا شہر کیسا لگا ؟ میں نے کہا کہ پچھلے تین روز سے گھوم رہا ہوں۔لیکن اب تک سڑک پر کوئی ایسا راہگیر نہیں دیکھا جس کا منہ لٹکا ہوا ہو۔یا کوئی کسی سے دست و گریباں ہوگیا ہو یا کم ازکم گالم گلوچ پر ہی اتر آیا ہو۔کیا آپ کے ہاں لوگوں کو غصہ نہیں آتا حالانکہ اس شہر میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔
بڑے میاں نے عینک کے پیچھے سے مجھے بغور دیکھا اور پھر مسکرا دئیے۔کہنے لگے تم کہاں کے ہو ؟ میں نے کہا پاکستان سے۔پھر پوچھا پاکستان میں پیدا ہوئے یا انڈیا میں ؟ میں نے کہا والدین انڈیا میں پیدا ہوئے اور میں پاکستان میں۔بڑے میاں نے کہا کہ تمہارا سوال بہت مزے کا ہے کہ ترکوں کو بات بے بات غصہ کیوں نہیں آتا ؟ ایسا نہیں کہ ہمیں غصہ نہیں آتا لیکن ہر وقت نہیں آتا۔اس کی ایک وجہ شائد یہ ہو کہ ہم کبھی من حیث القوم غلام نہیں رہے۔غلاموں کو بات بات پر غصہ آتا ہے کیونکہ غصہ ہی ان کی واحد ملکیت ہے اور اس غصے کا ہدف بھی وہ خود ہی ہوتے ہیں۔پتہ نہیں میں اپنی بات کہہ پایا یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وسعت اللہ خان
Post a Comment