Thursday, 17 October 2013

برٹش دور کی عدلیہ چند یادیں چند باتیں

 آج سے 66 سال پہلے وہ کونسا ایسا جادو کا چراغ انگریز کے پاس موجود تھا جس کے زریعے وہ عدلیہ کو کنٹرول کرتے تھے وہ کونسی ایسی قابلیت تھی جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں یقنناً آج سے 66 سال پہلے بھی رشوت دینے والے بھی ہوںگے اور لینے والے بھی ایک سوال اور بھی پریشان کرتا تھا کہ جج کوئی کلرک نہیں کہ جس کے چیمبر میں اینٹی کرپشن والے گھس جائیں اورنشان زدہ نوٹ برآمد کرکے ہتھکڑی لگا کر جج کو گرفتار کرکے لے جائیں ایسا ممکن نہیں عدلیہ ایک باعزت اور باوقار ادارہ ہے اور عدلیہ سے منسلک افراد کے احتساب کیلئے بھی ایک باوقار قسم کا احتساب کا نظام ہونا ضروری ہے
اسی دوران میں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک پروگرام کی بنیاد رکھی جس کا نام تھا "بہتر طرز حکمرانی کے زریعے عدالتی اصلاحات" یہ ایک اہم پروگرام تھا لیکن بدقسمتی سے این جی او سیکٹر کی راہ پر چل نکلے تھے  اور دوستوں کا خلوص  بھی   رخصت ہوچکا تھا جس کی وجہ سے  2012 کے اختتام پر میرے دوستوں نے زوردیا کہ اس پروگرام کو بھرپور انداز میں شروع کرو جس کے بعد میں نے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر ایک نئے ادارے لاء سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس میں عدالتی اصلاحات کو فوکس کیا اور 2010 میں شروع کیئے گئے پروگرام میں تھوڑی تبدیلی لاکر "شہری حقوق کے تحفظ کیلئے عدالتی اصلاحات" کا نعرہ بلند کیا موجودہ پروگرام سابقہ پروگرام ہی کا تسلسل ہے
2010 میں ایک فوکس گروپ ڈسکشن بیرسٹر شاہدہ جمیل کی صدارت میں منعقد کیا جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارا پروگرام اگر ٪10 بھی کامیاب ہوگیا تو پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ دیں گے سابقہ تجربات کے پیش نظر اس پروگرام کیلئے ہم بھرپور پلاننگ رکھتے ہیں
آج سے 66 سال پہلے عدالتی کرپشن پر اس لیئے قابو پالیا گیا تھا کہ ججز کی ماہانہ تںخواہ ناقابل یقین حد تک زیادہ تھی اسی طرح جج کے سامنے کیس پیش کرنے والا اہلکار جس کو عموماً پیش کار کہاجاتا ہے کو بھی بہت زیادہ مالی مراعات حاصل تھیں اس کا صرف ایک مقصد تھا کہ عدالتی اہلکار بدعنوانی میں ملوث نہ ہوں جوفوجداری مقدمہ دوسال نہ چلتا اس میں زیر حراست شخص کو اس دور میں بھی ضمانت دی جاتی تھی لیکن کیس میں تاخیر کا مرتکب تمام اہلکاروں کے خلاف کاروائی کے بعد اور کم از کم سزا ملامت سے برطرفی تھی اور ایسا شازونادر ہی ہوتا تھا جب کسی کیس کی اپیل داخل کی جاتی تو ایپلٹ کورٹ کو سماعت کے دوران کچھ اہم اندازے لگانے ہوتے تھے کہ ماتحت جج نے فیصلہ کرتے وقت میرٹ کا خیال رکھا یا نہیں جب کسی جج کا فیصلہ اپیل کورٹ میں برقرار نہ رہتا اور اس طرح کے عدالتی فیصلوں کی تعداد بڑھ جاتی تواس سے پوچھ گچھ ہوتی تھی کیونکہ ایسے کیسز کی وجہ سے نہ صرف عدالت کا تقدس مجروح ہوتا ہے بلکہ عدالت کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے جس کی وجہ سے اہم مقدمات سماعت سے محروم رہتے ہیں اسی طرح عدالتی فیصلے کو پڑھ کر اندازہ ہوجاتا کہ جج نے رشوت تو نہیں لی یا اس میں قابلیت کی کمی ہے اگر قابلیت کی کمی ہوتی تو اس کمی کو دور کرنے کیلئے مخصوص وقت دیا جاتا تھا کہ آپ اتنے عرصے میں اپنی کوتاہیاں دور کرلیں اگر بولتا ہواعدالتی فیصلہ یہ پکار پکار کر کہتا کہ رشوت لی گئی ہے تو ایسے بدعنوان جج کی عدلیہ جیسے باعزت ادارے میں کوئی گنجایئش نہیں ہوسکتی تھی انگریز جہاں کھلاتے سونے کا نوالہ تھے وہیں ججز کو دیکھتے شیر کی آنکھ سے تھے  جہاں جج اور عدالتی عملہ خوشحال تھا وہیں اس زمانے میں وکلاء کا طبقہ بھی نواب سے کم مراعات نہ رکھتا تھا عدلیہ کی عزت کی وجہ سے وکیل کا وہ عزت اور مرتبہ تھا کہ عوام الناس میں آج بھی اس زمانے کے وکلاء کی مثال دی جاتی ہے کیونکہ انگریز نے اپنے انصاف کے ادارے کو عزت دی جس کے بعد اس ادارے سے منسلک ہرشخص قابل احترام ٹہرا
 میرے ضلع میانوالی میں ایک قابل احترام حکیم گزرے ہیں جس کے مطب میں برصغیر کے بڑے بڑے نواب سطح کے لوگ دور دراز شہروں سے لائن میں بیٹھ کر انتظار کرتے تھے  صرف عدالتی اہلکار اور وکیل کا یہ مقام تھا کہ وہ حکیم صاحب کے گھر جاکر اپنا معائنہ کرواسکتے تھے اس سے ہم وکیل اور عدالتی اہلکاروں کے معاشرے میں میں مقام کا اندازہ لگاسکتے ہیں اسی طرح عدالتوں سے منسلک افراد کو ہر سطح پر اہمیت دی جاتی تھی  کیونکہ ادارے کی عزت تھی  جسٹس کے بیٹے کو صوبے میں پریکٹس کی اجازت نہ تھی آج جب ہم کسی جسٹس کے بیٹے کو کسی ماتحت عدالت میں پیشی کے دوران ماتحت جج کو چچا بھتیجے کا رشتہ نبھاتے ہوئے دیکھتے ہیں اور سماعت کے بعد چیمبر میں زبردستی چائے پلاتے ہوئے اور جسٹس صاحب کی آشیرباد حاصل کرنے کیلئے بھتیجے کی چاپلوسی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس دور کے سخت ضابطوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے یہ بہت اہم ترین باتیں ہیں ان باتوں کو نہ تو مزاق میں اڑایا جاسکتا ہے اور نہ ہی نظرانداز کیا جاسکتا ہے اسی طرح قیام پاکستان سے قبل اللہ باد ہایئکورٹ کے چیف جسٹس اپنے کسی انتہائی قریبی عزیز کی شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے گئے شرکت سے پہلے انہوں نے معلومات حاصل کرکہ اطمینان کرلیا کہ ان کا کوئی مقدمہ ان کی عدالتوں میں زیرالتواء نہیں ہے لیکن جب شرکت کیلئے پہنچے ابھی سواری سے اترے نہ تھے کہ ان کی نظر اپنے عزیز کے داماد پر پڑی تویاد آیا کہ اس شخص کا مقدمہ تو ان کی عدالت میں زیرالتواء ہے قابل احترام چیف جسٹس نے فوری طور اپنی سواری کو واپسی کا حکم دیا اپنی رشتہ داری کو قربان کردیا لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے رشتہ داریاں قربان کرنا پڑتی ہیں سخت فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتے اسی طرح وکیل کا جو مقام ہے اس کی اہمیت تھی اس کی صرف زبان کی اہمیت تھی
ہماری بدقسمتی کہ ہم اس ادارے کا تحفظ نہ کرسکے جس نے پورے معاشرے کا تحفظ کرنا تھا ہم نے اصولوں کو اہمیت نہ دی ہم نے دوستوں کو اہمیت دی ماتحت عدلیہ کا کوئی بھی فیصلہ ہائیکورٹ میں برقرار نہیں رہتا کیونکہ ماتحت عدلیہ یا تو رشوت لیکر فیصلہ کرتی ہے یا رشتہ داری نبھائی جاتی ہے یا ان کے اسٹینو نااہل ہیں کیونکہ فیصلے وہی لکھتے ہیں اسی طرح آج کسی جج کے سینکڑوں فیصلوں میں سے کوئی فیصلہ اعلٰی عدلیہ میں برقرار رہ جائے تو وہ اس کی فوٹو کاپی کرواکر عدالتی اوقات کے دوران چیمبر میں آنے والے معزز مہمانوں کو دکھاتا ہے کہ یہ دیکھو آج ٪90 فیصد کیسز ایسے ہی ماتحت عدلیہ کے فیصلہ جات ہیں جن کی وجہ سے اعلٰی عدلیہ میں کیسز کی بھرمار ہے
اصل بات ہے زمہ داری کی قیام پاکستان سے پہلے ایک احساس زمہ داری تھا جو وقت کے ساتھ باقی نہ رہا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ وہ عدالتی نظام میں ایسی اصلاحات لاسکتے تھے جس کہ زریعے ادارے کو وقار حاصل ہوتا لیکن جوڈیشل پالیسی کے زریعے عدلیہ کو ملٹی نیشنل کمپنی ٹائپ ادارہ بنانے کی کوشش کی گئی پوائنٹ سسٹم کا صرف اتنا فائدہ ہے کہ آرڈر وقت پر ہوجاتے ہیں یہ فرض کرلیا گیا کہ فوجداری مقدمے میں گواہ نہیں آئیں گے اور دوسوانچاس اے یا دوسو پینسٹھ کے کے تحت ملزم باعزت بری کردئیے جایئں کیا ایسی سوچ آج سے 30 سال پہلے کی عدلیہ میں موجود تھی جی نہیں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ گواہ ضابطہ فوجداری کی زیردفعہ 161 کے تحت پولیس کو تو اتنی عزت دے کہ ان کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراوائے لیکن عدلیہ کے سامنے وہ حاضر ہونے پر تیار نہ ہو اس پر کم ازکم ہم 30سال پرانی ریسرچ ہی کا مطالعہ کرلیں تو ہمارا سر شرم سے جھک جائے اسی طرح اگر ہم ریکارڈکیپنگ کی بات کریں تو سندھ ہائیکورٹ کی ریکارڈ کیپنگ ماضی میں کیا تھی اور آج کیسی ہے ماتحت عدالتوں میں باقاعدہ طور پر پرنٹ شدہ مخصوص رجسٹر استعمال ہوتے تھے سادہ رجسٹر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عدلیہ کا وقار اتنا گرجائے کہ 20 روپے والے سادہ رجسٹر عدالتوں میں استعمال ہوںگے عدلیہ کا وقار اتنا گرجائے گا کہ ڈاک کی آمد اور ڈاک بھیجنے کیلئے ریکارڈ رکھنا ہی بند کردیا جائے گا عدلیہ کا وقار اس حد تک گرجائے گا کہ عدالت کے پاس عوام کے جمع کروائی گئی دستاویزات اور اربوں روپے کی پراپرٹی کے کاغزات کا ریکارڈ رکھنے کیلئے کوئی رجسٹر ہی نہ ہوگا یہ اس لیئے کہ تاکہ جعلی دستاویزات کے زریعے ملزمان کی رہائی کو یقینی بنایا جاسکے کراچی کے صرف ایک ضلع میں کم ازکم 5 ارب روپے کی جعلی دستاویزات کے زریعے خطرناک  ملزمان کو رہا کرواکر فرار کرویا گیا ہے یہ کسی چیف سیکرٹری نے پیرول پر رہا نہیں کئے جس کو بلوا کر عدالت میں بے عزت کیا جاسکے یہ ہماری آزاد عدلیہ ہی کی نالائقی پر مبنی کارنامے ہیں ان تمام باتوں کے باوجود اگر صرف ریکارڈ کیپنگ کو بہتر بنانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ کسی کنسلٹنٹ کی زمہ داری حاصل کرکے یہ بنیادی کام کرلے تو کافی فائدہ ہوسکتا ہے اسی طرح اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ آن لائن عدلیہ کے زریعے باعزت احتساب کے نظام کے زریعے نہ صرف کرپشن کے عدالتی جن کو قابو کیا جاسکتا ہے بلکہ آنے والے دور میں احتساب کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ماتحت عدلیہ کا جو عوامی احتساب ہونے والا ہے اس سے بچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے پچھلے دنوں  کراچی کی عدالتوں میں جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے اگر سندھ ہائیکورٹ نے اپنی بدانتظامی پر قابو نہ پایا تو اس کی قیمت ادا کرنی مشکل ہوجائیگی


اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایسا عدالتی نظام جس کے زریعے شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ہم ایسی عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے زریعے ایک عام شہری بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیئے عدالت میں بلاجھجک آسکے جب عام شہری کو باآسانی انصاف ملے گا تو نہ صرف شہریوں کی بے چینی کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستانی معاشرے میں ایسا امن قائم ہوگا جس کی تمنا ہر پاکستانی شہری کررہاہے
ہمارے پیج کو پسند کریں لنک مندرجہ زیل ہے


Post a Comment