Monday, 21 October 2013

کیا عدلیہ کو اپنی عزت عزیز ہے؟

ایک ماہ قبل کراچی پولیس ڈسٹرکٹ ایسٹ نے ایک ملزم کو گرفتار کیا پنجاب پولیس بھی ہمراہ تھی  ملزم پر الزام تھا کہ اس نے اپنی بھتیجی کو اغوا کیا ہے اور اس کے خلاف ملتان میں کیس درج تھا ملزم کو ریمانڈ کیلئے کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں پیش کیا "مغویہ" بھی ہمراہ تھی
ملزم اور مغویہ کو پنجاب پولیس کے حوالے کرنے پر ہمارا اعتراض یہ تھا کہ پنجاب پولیس محکمہ داخلہ پنجاب کا جاری کردہ اجازت نامہ پیش کرے کہ فلاں کیس میں فلاں ملزم کی گرفتاری کی اجازت دی جائے اور گرفتار کرکے پنجاب روانہ کرنے کی اجازت دی جائے لیکن پنجاب پولیس کے پاس ایسا کوئی اجازت نامہ نہ تھا حتی کہ اپنے افسران بالا تک کا بھی اجازت نامہ موجود نہ تھا مجسٹریٹ صاحب نے تفتیشی افسر کو ڈانٹا اور وارنٹ گرفتاری  جو محکمہ داخلہ پنجاب نے جاری کیا ہو پیش کرنے کا حکم دیا اس کے ساتھ ہی دودن بعد "مغویہ" کا بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا اور مغویہ کو شیلٹر ہوم بھیج دیا
مغویہ نے بتایا کہ ملزم اس کا چچا ہے اسی نے میری پرورش کی ہے اور جوان بھی میں اس کے گھر ہی ہوئی ہوں مجھے اغوا نہیں کیا گیا میں عاقل بالغ ہوں لیکن میرے والدین وٹہ سٹہ کے چکر میں میرے بھائی کی شادی کے بدلے میرا رشتہ طے کرنا چاہتے تھے تو میں کراچی آگئی اپنی مرضی سے مجھے اغوا نہیں کیا گیا
لڑکی کے بیان کے بعد تفتیشی افسر جو پنجاب سے کراچی آیا تھا کورٹ کو اطلاع کیئے بغیر پنجاب روانہ ہوگیا ملزم جیل میں بند رہا بالآخر 18 دن بعد جب تفتیشی افسر کے واپس آنے کی امیدیں دم توڑ گئیں تو مجسٹریٹ نے ملزم کو رہا کردیا عید سے ایک دن پہلے
پولیس کا کاغذی کاروائی کے بغیر کراچی آنا۔ملزم کو گرفتار کرکے کورٹ میں پیش کرنا۔اور کورٹ کو اطلاع دیئے بغیر پاکستان ایک بے گناہ شہری کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر پنجاب واپس چلے جانا کورٹ کی توہین نہیں ہے تو کیا ہے  سب سے بڑھ کر جب لڑکی کا بیان ریکارڈ ہوگیا کہ اس کو اغوا ہی نہیں کیا گیا تو اس کے بعد اس بے گناہ انسان کو مزید 14 دن عدالت کی جانب سے جیل میں بند رکھنا اس واقعے میں عبرت کے بے شمار پہلو ہیں

آپ خود سوچیں فیصلہ کریں کہ عدلیہ کی پولیس کے سامنے کیا حیثیت ہے لیکن اپنی اس  حیثیت کا تعین عدلیہ نے خود کیا ہے پنجاب پولیس کے زمہ دار پولیس افسر کے خلاف توہین عدالت  کے تحت کاروائی ہوسکتی ہے لیکن کیا عدلیہ کو اپنی  عزت عزیز ہے؟  
Post a Comment